خیبرپختوانخواہ میں حکومتی کنٹرول 86فیصد ہے

خیبرپختوانخواہ میں حکومتی کنٹرول 86فیصد ہے
 خیبرپختوانخواہ میں حکومتی کنٹرول 86فیصد ہے

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان آرمی کے لئے شمالی وزیرستان میں آپریشن کچھ زیادہ مشکل نہ ہو گا جس کی وجہ سے اس وقت پاکستان آرمی کا مورال انتہائی بلند ہے ۔گزشتہ پانچ سالوں میں پاک آرمی نے خیبر پختوانخواہ میں کافی کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔عسکری ذرائع کے مطابق پانچ سال قبل یعنی 2009ءمیں دہشت گردوں کا کنٹرول سوات،باجوڑ،مہمند اور کزئی ایجنسیوں پر تھا لیکن اب یہ صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے ۔اس وقت خیبرپختوانخواہ میں حکومتی کنٹرول 86فیصد ہے جبکہ دہشت گردوں کے پاس صرف پانچ فیصد کنٹرو ل ہے اور 9فیصد علاقے پر ملا جلا کنٹرول ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے بعد تجارتی راہداریاں بھی کھل جائیں گی اور تین راہداریاں افغانستان کو جانے کے لئے مکمل طور پر دستیاب ہوں گی۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ2009ءمیں پاک آرمی نے سوات میں آپریشن کرتے ہوئے یہ علاقہ عسکریت پسندوں سے آزاد کروایا تھا جبکہ عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ سوات کی زمین کافی دشوار گزار تھی اوروہاںفضائی کاروائیاںمشکل تھیںلہذازمینی فوج نے زیادہ کاروائیاں کیں جبکہ شمالی وزیرستان کی زمین نسبتاً آسان ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ یہاں فضائیہ سے زیادہ مددلی جائے گی۔

مزید : قومی