چائلڈلیبر کا خاتمہ۔۔۔ ایک عبادت

چائلڈلیبر کا خاتمہ۔۔۔ ایک عبادت
 چائلڈلیبر کا خاتمہ۔۔۔ ایک عبادت

  

چائلڈ لیبر ایک سماجی و معاشی مسئلہ ہے ، غربت، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ہیلتھ کیئر، والدین کا تعلیم یافتہ نہ ہونا ، بچوں کے حقوق اور قوانین بارے شعور کی کمی جیسی کئی بنیادی وجوہات ہیں۔دنیا بھر میں ایک اندازے کے مطابق 168ملین بچے چائلڈ لیبر سے منسلک ہیں،85ملین خطرناک پیشوں سے وابستہ ہیں، 5سے14سال کی عمر کے 73ملین بچے چائلڈ لیبر پر مجبور ہیں۔ پاکستان میں ہونے والی چائلڈ لیبر میں زیادہ تر بچے زراعت کے شعبے میں محنت مشقت کر رہے ہیں۔ بھیڑ بکریاں چراتے ، آگ جلانے کے لئے لکڑیاں اکٹھی کرتے ، دور دراز علاقوں سے پانی بھر کر لاتے،فصلوں میں کھاد ڈالتے اور دیگر ایسے کاموں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں،جبکہ شہروں میں زیادہ تر چائلڈ لیبر ورکشاپوں، ہوٹلوں، خرادیے کی دوکانوں اور مختلف کارخانوں میں ملتی ہے۔ پنجاب بھر میں25ہزار سے زائد بچے اینٹوں کے بھٹوں پر کسی نہ کسی حوالے سے چائلڈ لیبر کرتے دکھائی دیتے ہیں،کیونکہ وہ اپنے مزدوروالدین کے قرض یا پیشگی میں جکڑے ہونے کی وجہ سے بھٹوں پر مشقت کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کے والدین کو قرض کی ادائیگی کی وجہ سے اکثر اوقات ایک پائی بھی ان کی مشقت کے صلے میں ادا نہیں کی جاتی۔ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے بھٹہ خشت پر چائلڈ لیبر کا خاتمہ یقینی بنانے کے لئے ایک اور انتہائی اہم اقدام کیاہے ۔ محکمہ لیبر و انسانی وسائل نے صوبے بھر کے تمام بھٹوں پر چائلڈ لیبر کے حوالے سے سروے کروایا جس کے مطابق صوبہ پنجاب میں مجموعی طور پر 6090بھٹوں پرایک لاکھ 70ہزار بھٹہ مزدور کام کر رہے ہیں،جبکہ ان بھٹوں پر رہائش پذیر23ہزار بچے سکول نہیں جاتے تھے۔

محکمہ لیبر و انسانی و سائل حکومت پنجاب نے بھٹوں پر بچوں سے مشقت کے جرم کی اطلاع دینے کے لئے ہیلپ لائن0800-55444 بھی قائم کر دی ہے۔ حکومت پنجاب نے اینٹوں کے بھٹوں پر چائلڈ لیبر سے منسلک بچوں کی تعلیم یقینی بنانے اور ان کے والدین کو تعلیم سے رغبت دلانے کے لئے حال ہی میں خصوصی پیکیج کی منظوری دی ہے، جس کے تحت بھٹہ مزدور کے سکول جانے والے ہر بچے کو سو فیصد مفت تعلیم دینے کے علاوہ اسے ایک ہزار روپے ماہانہ وظیفہ، جبکہ ایسے بچوں کے سکول داخلے پر اس کے والدین کو 2ہزار روپے سالانہ وظیفہ دیا جائے گا۔ بھٹہ مزدور بچوں اور ان کے والدین کو علاج معالجے کی مفت سہولتیں بھی فراہم کی جائیں گی، جبکہ بھٹوں سے دوردراز سکولوں میں جانے والے بچوں کے ٹرانسپورٹ اخراجات بھی حکومت پنجاب خود برداشت کرے گی۔ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اینٹوں کے بھٹوں سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئے قائم سٹےئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھٹوں سے چائلڈ لیبر کا خاتمہ ہمارا مشن ہے۔ بھٹوں پر کام کرنے والے 31ہزار سے زائد بچوں کو بازیاب کرا کے سکولوں میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ چائلڈ لیبر کا خاتمہ ایک عبادت ہے، ہمیں ٹیم ورک کے طورپر کام کرنا ہے۔ متعلقہ صوبائی وزراء اور سیکرٹر ی صاحبان باقاعدگی سے بھٹوں کے دورے جاری رکھیں اور درج ہونے والے مقدمات کے چالان جلد بھجوائے جائیں۔

صوبے سے چائلڈ لیبر کا مکمل خاتمہ کر کے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں گے اور اینٹوں کے بھٹوں پر بچوں سے مشقت کے مکمل خاتمے کے بعد آٹو رکشاپوں،ہوٹلوں اور پٹرول پمپوں سے بھی چائلڈ لیبر کے خاتمے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اینٹوں کے بھٹوں سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کی طرح دیگرپیشوں سے بھی سے بچوں سے مشقت کے خاتمے کے لئے آہنی ہاتھ حرکت میں آئے گا۔بچوں سے جبری مشقت کرانا سماجی اور معاشی برائی ہے ،جسے ہر قیمت پرختم کریں گے۔ بھٹوں پر کام کرنے والے بچوں کی تعلیم کے لئے مانیٹرنگ کا موثر نظام وضع کیا جائے گا اور بھٹوں پر بچوں سے مشقت کے لئے خاندانوں کو پیشگی معاوضے کے ذریعے گروی رکھنے کی زنجیر توڑیں گے،اس زنجیر کو توڑنے کے لئے بھٹوں پر کام کرنے والے خاندانوں کے لئے سماجی و معاشی اقدامات کا تسلسل ضروری ہے،بھٹوں سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئے متعلقہ حکام دفاتر سے نکلیں اور فیلڈمیں جائیں۔ وزیراعلیٰ نے بھٹوں سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئے کئے گئے اقدامات پر اظہار اطمینان کیا اور محکمہ محنت کی کارکردگی کی تعریف بھی کی۔ چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئے اب تک 5ہزار سے زائد بھٹوں کی انسپکشن کی گئی،207بھٹے سیل کئے گئے اور چائلڈ لیبر کے قانون کی خلاف ورزی پر650مقدمات درج کر کے 717بھٹہ مالکان کو گرفتار کیا گیا۔ بھٹہ مالکان کو ہر صورت میں اپنے بھٹوں سے چائلڈ لیبر کا خاتمہ کرنا ہو گا اور بھٹہ مزدوروں کو بھی حکومتی پیکیج سے مستفید ہونے کے لئے یہ سمجھنا ہو گا کہ ان کے بچوں کا درخشاں مستقبل صرف تعلیم کے حصول ہی میں پنہاں ہے۔

یورپی یونین اور انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) نے پنجاب حکومت کی جانب سے اینٹوں کے بھٹوں سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کو سراہا ہے۔یورپی یونین اور آئی ایل او نے پنجاب میں اینٹوں کے بھٹوں سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف کی قیادت میں پنجاب حکومت کے اقدامات انتہائی حوصلہ افزاء ہیں۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف کی ذاتی دلچسپی سے اینٹوں کے بھٹوں سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئے جس موثر انداز سے مہم جاری ہے، اسے بین الاقوامی اداروں کی جانب سے بھر پور پذیرائی ملی ہے۔پنجاب میں اینٹوں کے بھٹوں سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئے جس انداز سے اقدامات کئے گئے ہیں، اس کی کسی ایشیائی مُلک میں مثال نہیں ملتی، جس کا کریڈٹ وزیراعلیٰ شہباز شریف اور ان کی ٹیم کو جاتا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ بحیثیت قوم ہم بھٹوں سمیت تمام صنعتی و تجارتی اداروں سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئے موثرکردار ادا کریں، کیونکہ چائلڈ لیبر کا خاتمہ صرف حکومت کی ہی ذمہ داری نہیں، یہ ہم سب کا مشترکہ فریضہ ہے اور آنے والی نسلوں کی بہتری کے لئے یہ ہم سب کا فرض ہے کہ بچوں کے حقوق سے متعلق شعور کو اُجاگر کیا جائے۔

مزید :

کالم -