حکومت پنجاب کا شاندار منصوبہ :گریٹراقبال پراجیکٹ

حکومت پنجاب کا شاندار منصوبہ :گریٹراقبال پراجیکٹ
حکومت پنجاب کا شاندار منصوبہ :گریٹراقبال پراجیکٹ

  

شہر یاراں لاہور کے دل میں سجا ہوا مینار پاکستان بھی شجاعت ، عظمت اور حوصلے کی داستان لئے ہوئے ہے بظاہر 194فٹ بلندمینار پاکستان دراصل بلندیوں کی ایک ایسی علامت ہے جو اس ملک کی ہر نسل کو حوصلے بلندرکھنے کا پیغام دیتی ہے۔مینارپاکستان کی بنیاد عزم ویقین سے اٹھائی گئی ہے جہاں پر قائد اعظم ؒ محمد علی جناح کی صدارت میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی ۔مغلیہ دور کی شاہی مسجد کے میناروں او رشاہی قلعہ کے پڑوس میں واقع یہ مینار بھی سیاحوں سے مسلمان معماروں کے طرز تعمیر اور حسن تعمیر کی دادوصول کررہاہے ۔تحریک آزادی کی دل فگار داستانوں کے ترجمان مینار کی تعمیر کا آغاز 23مارچ 1960ء میں ہوا اور 21اکتوبر 1968ء کو پایہ تکمیل تک پہنچ گیا۔ مینارپاکستان دنیاکے معروف تاریخی مقامات اور عمارتوں میں نو عمر ضرور ہے ،لیکن مینارپاکستان کو ابتداء سے بلندی تک اس انداز میں تخلیق کیاگیاکہ اس نے مسجد شاہی کے مینار وں کی خوبصورتی کو بھی دو چند کردیا ہے۔پنجاب کے لوگ بھی بہت سادہ لوح سادہ دل اورسادہ مزاج ہیں اس لئے یہ مینار بھی سادہ طرز تعمیر کا نمونہ ہے ،لیکن اس سادگی میں ایک دلکشی ضرور ہے آزادی کے جذبوں اور تحریک و نظریہ پاکستان کی پوری تاریخ اس کی ایک ایک اینٹ پر درج ہے اسی لئے اس کی جانب نظر اٹھے تو اس کی خوبصورتی روح میں اترتی چلی جاتی ہے یہ مینار سرفروشان آزادی کی طاقت کا سرچشمہ ہے ا ور اس پر لکھی ہوئی تحریر یں پاکستان کے چاروں صوبوں کے مابین باہمی یکجہتی اور اخوت کا مظہر ہیں۔

اتحاد، تنظیم اور یقین جیسے تین لفظوں کو تخیل سے تخلیق میں بدلا گیا تو مینارپاکستان بن گیا اس مینار کو ڈیزائن کرنے کا اعزاز ناصر الدین مورت خان کوحاصل ہوا جوایک شہرہ آفاق ماہر تعمیر ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے اندر اس مینار کی تعمیر کو خوبصورتی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچانے کا جذبہ بھی رکھتے تھے۔ یہ خط نسخ میں رب ذوالجلال کے ننانوے اسمائے بابرکت سے مزین ہے، قرارداد پاکستان اور 19اپریل 1949ء کی قرارداددہلی ، نوجوان نسل کونظریہ پاکستان اور تحریک آزادی کے جذبوں سے روشناس کراتی ہے۔ اب شاہی مسجد اور مینار پاکستان سے پنجاب کے دل میں جھانکیں تو اس میں اپنائیت، محبت، خلوص، احساس، وفا، تازگی، شگفتگی، یقین ، عزم، عمل اور جستجو کا ایک سمندر ٹھاٹھیں مارتا نظر آئے گا۔آزادی چوک کو گزشتہ برس نئی تعمیرات اور ہیڈ برج اور رابطہ سڑکوں سے نئی شکل دی گئی ،جس سے بادشاہی مسجد ، شاہی قلعہ اور مینار پاکستان آنے جانے والوں سیاحوں کے علاوہ لاہور میں داخل ہونے والے مسافروں کے لئے بھی سہولت پیداہوئی ۔را بطہ سڑکوں کی وجہ سے ٹریفک جام ہوتا تھا اور دھواں کی آلودگی تاریخی عمارتوں کے حسن کو گہنا رہی تھی،لیکن آزادی چوک اور ہیڈ برج سے نہ صرف ٹریفک میں روانی پیدا ہوئی ،بلکہ تاریخی عمارتیں بھی آلودگی سے محفوظ رہیں گی۔

مینار پاکستان کی طرح گریٹر اقبال پراجیکٹ بھی ایک تاریخی پیشرفت ثابت ہوگا۔ مختلف سرکاری اداروں اور نجی ماہرین کے اشتراک سے گریٹر اقبال پراجیکٹ کے قیام کا منصوبہ جاری ہے۔ نئی نسل کو تحریک پاکستان کے دوران دی جانے والی اسلاف کی عظیم قربانیوں سے روشناس کرانا ایک قومی ذمہ داری ہے اور اس ضمن میں تحریک پاکستان اور قومی ہیروز کی لازوال قربانیوں کی اہمیت اجاگر کرنے کے لئے گریٹر اقبال پراجیکٹ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور یہ منصوبہ ایشیا میں تاریخی اعتبار سے ایک منفرد اور اپنی نوعیت کا پہلا پراجیکٹ ہے۔ منصوبے میں تحریک پاکستان کے حوالے سے ہسٹری میوزیم بنایا جائے گا اور تحریک پاکستان کے قومی ہیروز کے لئے نیشنل ہیروز گیلری بھی بنے گی ،جس میں تحریک پاکستان کے ہیروز کی تصاویر آویزاں کی جائیں گی اور تحریک پاکستان کے اغراض و مقاصد کو اجاگر کرنے کے لئے خصوصی پروگرامز بھی منعقد ہوں گے ،جبکہ سٹوری ٹیلر بنچ بھی گریٹر اقبال پراجیکٹ کا حصہ ہوں گے ۔

حصول پاکستان کی منزل کی جانب سفر کے حوالے سے آڈیو، ویڈیو سینٹرکے قیام کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے اس کے لئے منصوبہ بندی کرکے حتمی سفارشات پیش کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ نئی نسل کو حصول پاکستان کے لئے دی جانے والی قربانیوں سے آگاہ کرنے کے لئے یہ منصوبہ سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اسی لئے گریٹر اقبال پراجیکٹ سٹیئرنگ کمیٹی منصوبے کو تیزی سے آگے بڑھارہی ہے۔ گریٹر اقبال پراجیکٹ اعلیٰ معیار کا شاہکار اور سٹیٹ آف دی آرٹ منصوبہ ہوگا جو نہ صرف پاکستان کی ثقافت اور تاریخی ورثے کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا، بلکہ نئی نسل کو تحریک پاکستان کی اہمیت اور قومی ہیروز کی کاوشوں اور قربانیوں سے آگاہ کرنے میں معاون ثابت ہوگا اور اس منصوبے کی تکمیل سے عوام کوبہترین تفریحی سہولتیں بھی میسر آئیں گی۔

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف گریٹر اقبال پراجیکٹ کی تکمیل میں ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں ۔گزشتہ روز گریٹر اقبال پراجیکٹ پر پیشرفت کا جائزہ لینے کے لئے وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس منعقد ہوا ،جس میں ڈی جی والڈ سٹی لاہور، کمشنر لاہور ڈویژن، ڈی سی او لاہور، ڈی جی پی ایچ اے، یوسف صلاح الدین اور سٹیزنز آرکائیو آف پاکستان کی نمائندہ خواتین نے اجلاس میں شرکت کی۔شرکاء نے وزیراعلیٰ کو گریٹر اقبال پراجیکٹ کے مختلف امور پر پیشرفت سے آگاہ کیا۔

مزید :

کالم -