مانواں ٹھنڈیاں چھانواں

مانواں ٹھنڈیاں چھانواں
 مانواں ٹھنڈیاں چھانواں

  

اچھے گھروں میں جب بیٹی پیدا ہوتی ہے تو اسے اﷲکی رحمت کہہ کر ’’خوش آمدید‘‘ کہا جاتا ہے۔ ماں باپ، دادا دادی، نانا نانی اور دیگر اہل خاندان خوشی سے نہال ہوجاتے ہیں۔لاڈ پیار اور چونچلوں سے بیٹی بڑی ہونے لگتی ہے، اسکی ہر خوشی کا خیال رکھا جاتا ہے، لیکن یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ جواب میں بیٹی کی طرف سے نازنخرے اور نت نئی فرمائشوں کی بھرمار آتی ہے جن کی ہر صورت تکمیل کی جاتی ہے۔بیٹی خود غرض بھی دکھائی دیتی ہے دوسرے بہن بھائیوں کے مقابلے میں ’’اسپیشل پروٹوکول‘‘ کی متقاضی ہوتی ہے۔ اس کا ایک ’’سٹینڈرڈ‘‘ بن جاتا ہے کہ اس کوالٹی کی یہ چیز لینی ہے،فلاں دکان کے مہنگے کپڑے لینے ہیں، فلاں کوالٹی کا مہنگا جوتا لینا ہے وغیرہ وغیرہ ،اور ماں باپ ہیں کہ خوشی سے اسکی فرمائشیں اور چونچلے پورے کرتے ہیں ۔جب اسی بیٹی کی شادی ہوتی ہے تو سسرال میں نہ صرف یہ ’’سٹینڈرڈ‘‘ قائم رہتا ہے بلکہ کچھ بڑھ بھی جاتا ہے لیکن اچانک ایک دن ایک انقلاب آجاتاہے اور وہ دن ہوتا ہے جب یہ بیٹی ’’ماں‘‘ بنتی ہے۔ساری خود غرضی، سارا ’’سٹینڈرڈ‘‘ ساری ’’میں میں‘‘ ہواؤں میں تحلیل ہوجاتی ہے اور اس کی جگہ ’’میرا بچہ، میرا بچہ‘‘ کی گردان شروع ہوجاتی ہے۔جو کبھی اچھے کپڑوں، جوتوں، کھانوں، چیزوں پر سمجھوتہ نہ کرتی تھی وہ اب ان ساری چیزوں سے خود ہی اپنی اولاد کے حق میں دستبردار ہوجاتی ہے۔ آج سے اچھا کپڑا، اچھا کھانا، اچھی چیز صرف میرے بچے کے لئے۔یہ صرف ایک دن یا ایک ہفتے کا معاملہ نہیں، بلکہ اب جب تک اس کی زندگی ہے اس کا مہربان سایہ اپنی اولاد پر ہمیشہ رہے گا اور سایہ بھی کیسا، ہمیشہ ٹھنڈی چھاؤں جیسا،اسی لئے کہتے ہیں ’’مانواں ٹھنڈیاں چھانواں‘‘۔

دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی انسان کسی کو معمولی سی بھی تکلیف دے تو دوسراآسمان سر پر اٹھا لیتا ہے اور اس بات کو فراموش نہیں کرتالیکن ’’ماں‘‘ کا معاملہ انوکھا ہے ۔ جس ہونے والے بچے نے اسے مہینوں اذیت اور تکلیف میں مبتلا رکھااور ناقابل بیان تکلیف دے کر دُنیا میں آیا، ہونا تو چاہئے تھا کہ آتے ہی اس سے بدلہ لیا جاتا، لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹ اور کچھ اور بن جاتا ہے۔ماں اپنی تکالیف بھول کر اسے چومنے چاٹنے میں لگ جاتی ہے اور اس کے لئے دنیا بھر کی خوشیوں کا سامان کرنے جت جاتی ہے۔ بچہ چاہے کالا کلوٹا ہو اس کے لئے دنیا کا سب سے خوبصورت بچہ وہی ہوتا ہے۔ ایک اور احساس سے وہ پہلی بار آشنا ہوتی ہے جس کا نام ہے ’’مامتا‘‘ جو اس کو اﷲتعالیٰ کی طرف سے خصوصی طور پر ودیعت ہوتا ہے۔اس کو علم ہی نہیں ہوپاتا کہ خالق کائنات نے چپکے سے دُنیا کے نظام میں اس کو بھی اپنی رحمت کا شریک ’’پارٹنر‘‘ بنا لیا ہے۔ ’’مامتا‘‘ نہ ہوتی تو دنیا کا نظام نہ چل پاتااور کوئی بھی ماں دل و جان سے بچے کی پرورش نہ کرتی۔ماں قدرت کی طرف سے عائد کئے گئے فرض کو جس جانفشانی، خوبی اور خلوص سے ادا کرتی ہے، ہو ہی نہیں سکتا کہ اگلے جہاں میں اس کا کوئی خصوصی مقام نہ ہو، جس کے قدموں تلے جنت ہے وہ خود کہاں ہوگی! آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ ’’اپنی ماں کی ٹانگوں کے ساتھ چمٹ جاؤ،کیونکہ جنت ماؤں کی قدموں تلے ہے ‘‘بحوالہ کنزالعمال حدیث 45443 ۔ اﷲ تعالیٰ نے محبت کی مثال کے لئے بھی لفظ ’’ماں‘‘ہی کو چنا ہے یعنی ’’اﷲ اپنی مخلوق سے ستر ماؤں جتنا پیار کرتا ہے‘‘ اسی لئے ماں کو ’’رب کا روپ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

مثال کا ذکر آیا ہے تو یہاں کچھ مثالیں،محاورے یا باتیں ’’ماں‘‘ کے حوالے سے دلچسپ ہیں لیکن گہرائی میں جاکر دیکھیں تو ان میں ماں کی محبت ، خلوص اور مامتا نظر آئے گی۔ جیسا کہ کسی کا ناقابل تلافی نقصان ہو جائے تو کہتے ہیں کہ ’’اس کی تو ماں ہی مر گئی ہے‘‘ ۔ ایک پنجابی فلم میں مظہر شاہ کی بڑھک ہوتی ہے ۔ ’’جنے میرے نال متھا لایا، اوہدی ماں نے وین ای پائے نیں‘‘ یعنی جس نے میرے ساتھ ٹکر لی اس کی ماں نے ہمیشہ بین ہی کئے ہیں۔ کوئی چھوٹابچہ سڑک پر اکیلا پھر رہا ہو تو اکثر کوئی کہے گا کہ بھئی اس کی ماں کدھر ہے، حادثہ ہوگیا تو پھر روتی پھرے گی، یعنی اٹل حقیقت ہے کہ اولاد کے ساتھ کوئی بھی پریشانی اور دکھ والا معاملہ ہو، چوٹ ماں کے دل پر ہی لگے گی۔

مقام شکر ہے کہ ہمارے معاشرے میں عام لوگ ماں کا احترام کرتے ہیں۔ گاڑیوں پر اکثر لکھا نظر آتا ہے کہ ’’یہ میری ماں کی دعاؤں کے طفیل ہے‘‘ یا ’’ماں کی دُعا، جنت کی ہوا‘‘۔یہاں مجھے اپنا ایک دوست یاد آ گیا۔ مجھے کسی نے مسنون دعاؤں کی ایک جیسی دو کتابیں دیں ، میرا دوست ملنے آیا تو میں نے ایک کتاب اسے دینا چاہی کہ یار، کوئی پریشانی اور مصیبت ہو تو اس میں متعلقہ دعائیں ہیں۔ مجھے حیرت ہوئی جب وہ دوست بولاکہ مجھے اس کتاب کی ضرورت نہیں۔ کچھ عرصہ بعد وہ دوست پھر آیا توکہنے لگاکہ یاراب مجھے وہ کتاب چاہئے۔ میں نے مذاق سے کہا کہ تم کب سے مسلمان ہوئے ہو۔ کہنے لگا کہ پہلے جب تم نے کتاب کی پیشکش کی تھی ، اس وقت میری ماں زندہ تھی ۔ میری ہر مشکل، ہر مسئلہ ماں میری شکل دیکھ کر جان جاتی تھی اور اس کی دعاؤں کے طفیل میری ہر مشکل آسان ہو جاتی تھی لیکن اب میری ماں نہیں رہی، مجھے اس کتاب کی ضرورت ہے۔

حضور نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں ’’اگر میں اپنے والدین کو پاتایا ان دونوں میں سے ایک کو پاتااور میں نے عشاء کی نماز شروع کرلی ہوتی اور سورۃ فاتحہ پڑھ لی ہوتی ، اتنے میں میری ماں مجھے پکارتی اے محمد! میں اپنی والدہ کو ضرور جواب دیتا ‘‘ بحوالہ کنزالعمال حدیث 45500۔ ایک جگہ آپﷺکی حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر نماز کے دوران ماں پکارے تونماز توڑ کر ماں کی بات سنو لیکن باپ کے لئے ایسی اجازت نہیں۔ ایک اور موقع پرآپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ ’’اپنی ماں کو چھوڑ کر کہیں نہ بھٹکنے پاؤیہاں تک کہ وہ تمہیں خوداجازت دے دے یا موت اسے اپنی آغوش میں لے لے ‘‘بحوالہ کنزالعمال حدیث45504 ۔ اسی لئے ماں کی اجازت کے بغیر جہاد پر بھی جانا منع کردیا گیا ہے ۔ ایک جوان نے جہاد کے لئے اجازت مانگی تو آپﷺ نے اس سے پوچھا کہ تمہاری ماں زندہ ہے۔ جواب اثبات میں پاکر آپ نے اجازت نہیں دی اور کہا کہ تمہارا جہاد اپنی ماں کی خدمت ہے۔ جناب اویس قرنیؓ نے شدید خواہش کے باوجودحضور پاکﷺ کو نہیں دیکھا تھا کیونکہ وہ اپنی معذور ماں کی خدمت اور دیکھ بھال کی وجہ سے نہیں جاسکتے تھے، لیکن ان کا درجہ یہ تھا کہ آپﷺ نے حضرت عمرفاروقؓ کو خصوصی وصیت کی اور جناب اویس قرنی ؒ کی نشانیاں بتا کر کہاکہ یہ میرے بعد مدینہ آئیں گے اور ان کو ڈھونڈ کر ان سے درخواست کرناکہ امت کے لئے دعا کریں۔ حضرت عمر فاروقؓ کے استفسار پر جناب رسول اﷲﷺنے فرمایا کہ اویسؓ نے اپنی ماں کی ایسی خدمت کی ہے کہ جب وہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتا ہے تو اس کے ہاتھ کو خالی نہیں لوٹایا جاتا۔

دنیا میں جو بھی آتا ہے ،جانے کے لئے ہی آتا ہے، ’’ماں‘‘ نے بھی ایک دن چلے ہی جانا ہوتا ہے لیکن جب جاتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ سر سے تو چھت ہی اڑ گئی ہے۔ اِس لئے اگر آپ کی ماں زندہ ہے تو خوش قسمت ہیں، وقت کو غنیمت جانیے اور اس کی خدمت کرکے نامہ اعمال اجلا کر لیجئے، کیونکہ آپﷺ نے فرمایا ہے کہ ’’ماں باپ ہی تمہاری جنت ہیں اورتمہاری دوزخ بھی‘‘ یعنی ماں باپ کے نافرمان کا جنت میں داخلہ بند ہے ۔ حدیث شریف کے مطابق ماں کے چہرے کی طرف پیار سے دیکھنا بھی عبادت میں شامل ہے۔

میری والدہ محترمہ پچھلے دنوں اس فانی دُنیا کو چھوڑ کر اس جہاں چلی گئیں جس کو ہم نہیں جانتے، لیکن جلد ہی ہم بھی وہاں جانے والے ہیں۔ پڑھنے والوں سے والدہ محترمہ کی مغفرت کے لئے دعا کی گزارش ہے۔

مزید :

کالم -