شوق ہو تو ایسا، ریما نے فلم میں اداکاری کی حامی بھرلی

شوق ہو تو ایسا، ریما نے فلم میں اداکاری کی حامی بھرلی
 شوق ہو تو ایسا، ریما نے فلم میں اداکاری کی حامی بھرلی

  

ہرشخص جب کامیابی کی منازل طے کرتے ہوئے اپنے اہداف سے بھی آگے گزر جاتا ہے تو اس پر ادراک کے ایسے بند دروازے بھی کھل جاتے ہیں جن کے بارے میں اس نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا اور یہی وہ مقام ہوتا ہے جب وہ خودکو عقل کل تصور کرنے کے بعد احساس برتری کے ایک ایسے سمندر میں اتر جاتا ہے، جس کا کوئی کنارہ نہیں ہوتا۔ بعض دانشوروں نے اس صورت حال کو خواہشات کے جنگل کا نام دیا ہے جہاں راستہ کھو جائے تو مسافر دریائے زندگی کے اس پار اتر جاتا ہے۔ شاید اسی وجہ سے اکبر الٰہ آبادی نے کہا تھا:

بے غرض ہوکے زندگی مزے سے کٹنے لگی

ترک خواہش نے ہمارا بوجھ ہلکا کر دیا

اداکارہ ریما کے بارے میں خبر آئی ہے کہ اس نے ایک فلم میں کام کرنے کی ہامی بھر لی ہے۔ حالانکہ وہ کافی عرصہ سے ایسے سرمایہ کار کی تلاش میں تھی جو اسے فلمسازی کے لئے ایک معقول رقم فراہم کر سکے لیکن اس خواہش کی تکمیل نہیں ہو رہی تھی۔ اداکارہ ریما نے اداکاری کے میدان میں زر و جواہر کے بدلے اپنے فن کے کئی پہلو اجاگر کئے تھے اس نے جو سفر فلم ’’بلندی‘‘ سے شروع کیا تھا اب اگرچہ پستی کی طرف رواں دواں تو نہیں تھا لیکن فلمی صنعت کی کشتی ہچکولے کھا رہی تھی اور تمام ذی شعور افراد کی طرح اسے بھی اندازہ ہو رہا تھا کہ آخر کار یہ کشتی طوفان نوح جیسے حالات کا مقابلہ نہیں کر سکے گی اور ڈوب جانا ہی اس کا مقدر واضح نظر آ رہا تھا۔لاتعداد فلموں میں کام کرنے کے بعد اداکارہ ریما کو اب ہدایت کاری کے شوق نے اس طرح جکڑ لیا تھا کہ اسے اپنی صلاحیتوں کے اظہار کیلئے کوئی اور راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ اداکار یا اداکارائیں جب سکرین پر چہرہ نمائی کا شوق پورا کر لیتے ہیں تو ان کی سوچ کا اگلا مرحلہ ہدایت کار بننے کے لئے بے تاب ہو جاتا ہے۔اداکارہ شمیم آرا نے برس ہا برس سینکڑوں فلموں میں ناقابل فراموش کردار ادا کرنے کے بعد اس صنعت سے وابستہ رہنے کے لئے یہی فیصلہ کیا تھا کہ وہ فلمسازی کے ساتھ ساتھ ہدایت کاری بھی کرے گی اس فیصلہ پر عملدرآمد کرتے ہوئے انہوں نے چند ایک اچھی فلمیں بھی بنائیں لیکن وقت نے ان کو زیادہ مہلت نہ دی اور وہ جیتے جی بھی اپنے ہوش و ہواس سے محروم ہو گئیں۔ اداکارہ سلمیٰ ممتاز نے بھی جب بہت سا کام بطور اداکارہ کر لیا تو ہدایت کاری کے شعبہ میں قسمت آزمائی کی اور فلم ’’بے اولاد‘‘ بنا کر کامیابی اور کامرانی کا نیا سفر شروع کیا۔

عقلمند لوگ کہتے ہیں کہ ہر آدمی کے اپنے نظریات، اپنے خواب، اپنے خیالات اور اپنے محسوسات ہوتے ہیں اور وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ ان کو پردہ سکرین پر دوسرے لوگوں کی نسبت بہتر طور پر پیش کر سکتا ہے۔ چنانچہ وہ فلمسازی اور ہدایت کاری کی طرف مائل ہوتا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ اس میں کامیابی کا تناسب بھی مختلف ہوتا ہے۔ اداکارہ ریما نے بھی اگرچہ بہت سی فلموں میں بہت سے انفرادیت کے حامل کردار ادا کئے تھے لیکن اس کے باوجود ان کے خانہ دل میں ہدایات کار بننے کی خواہش نے مستقل ڈیرے لگا لئے تھے اپنی شادی سے پہلے بھی وہ یہی کہتے ہوئے دکھائی دیتی تھیں کہ وہ اب اداکاری کی بجائے ہدایت کاری کو ترجیح دیں گی لیکن اس سلسلے میں وہ از خود سرمایہ کاری سے گریزاں تھی اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ اول تو اس کے پاس اتنی رقم نہیں تھی کہ جسے وہ اپنے شوق کی بھٹی میں بے دریغ جھونک دیتیں دوسرا چونکہ فلم کے بارے میں قبل از نمائش یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ وہ کامیاب ہوگی یا فلاپ اور فلاپ فلم جہاں فلم پر اٹھنے والی لاگت کو غرق کر دیتی ہے بلکہ فلم کی ریلیز پر اٹھنے والے لاکھوں روپے کے اخراجات کو بھی اپنے ہمراہ خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جاتی ہے۔ اس لئے فلمسازی اور ہدایات کاری دونوں شعبے ہی مال لیوا اور جان لیوا خطرے سے خالی نہیں ہیں۔ ریما نے شادی تو کر لی لیکن اس کا اس صنعت سے رابطہ رہا ہے اور رہے گا بھی کیونکہ اس تعلق کے بغیر کوئی بھی اداکارہ یا اداکار خود کو ادھورا خیال کرتا ہے خاص طور پر احساس کی چادر میں لپٹے ہوئے معصوم بے ضرر اور حساس لوگ تو اس صنعت سے تعلق رکھنے کے بعد اس سے الگ ہونے کا تصور بھی نہیں کر سکتے اور ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ طویل رفاقت ان کو کسی اور شعبے کی طرف جانے کی اجازت ہی نہیں دیتی یہی وجہ ہے کہ شادی کے بعد بھی اکثر اداکارائیں اس صنعت سے وابستگی کے لئے پر تولتی رہتی ہیں اور بعض اوقات ان کی یہی کوشش ان کی ازدواجی زندگی کے لئے زہر قاتل بن جاتی ہے۔ اللہ نہ کرے ریما کے ساتھ کوئی ایسا حادثہ رونما ہو کیونکہ سنا ہے ان کے شوہر اور ان کی جان و جسم کے مالک خاصے فراخ دل اور روشن خیال ہیں۔

فلم کی ڈائریکشن کرنے کے لئے انہیں کوئی سرمایہ کار ہنوز میسر نہیں آیا اس لئے انہوں نے اپنے شوق کو ازدواجی زندگی کے ساتھ ساتھ جاری رکھنے کے لئے ایک فلم میں کام کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔ اس حوالے سے اور شوق کی دیوانگی کے پس منظر میں ایک اور بات قارئین کے لئے دلچسپی کا باعث ہوگی کہ جس فلم میں اداکارہ ریما نے کام کرنے کی حامی بھرلی ہے اس کے فلمساز و ہدایت کار کا نام نور نغمی ہے۔ یہ وہی نور نغمی ہیں جنہوں نے تقریباً 30سال قبل فلمساز و ہدایات کار ظفر شباب کی ایک فلم میں بطور اداکار ’’امجد‘‘ کے نام سے کام کیا تھا لیکن جلد ہی انہوں نے اس صنعت سے کنارہ کشی کرنے کے بعد امریکہ کے لئے ایسی اڑان بھر لی کہ پیچھے مُڑ کر فلمی صنعت کی طرف نہیں دیکھا۔ یہ خوش شکل اور خوش اخلاق نوجوان اگر مستقبل مزاجی سے پاکستانی فلمی صنعت میں کام کرتا تو یقینی طور پر کامیابی بھی حاصل کرتا لیکن اس نے اپنے شوق کی تکمیل کی بجائے اپنے بہتر مستقبل کو ترجیح دی اور امریکہ چلا گیا۔

اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ نور نغمی’’امجد‘‘ کو اس شوق نے کتنا بے چین رکھا کہ اس نے موقع ملتے ہی ایک فلم بنانے کا اعلان کر دیا۔ اس فلم کی فلمبندی امریکہ اور دیگر ممالک میں بھی ہوگی تو جناب یہ فلمی صنعت سے تعلق یا شوق کی انتہا ہے کہ انسان اسے فراموش تو کر سکتا ہے لیکن ترک نہیں کر سکتا۔ ریما کی اس فلم کا آغاز اس کی دوسری اننگز شمار کی جائے گی اب دیکھئے فلمی مستقبل کے حوالے سے اس کی کیا صورت حال ہوتی ہے۔

مزید :

کالم -