لاہور ہائی کورٹ بار انتخابات کا حقیقی پہلو

لاہور ہائی کورٹ بار انتخابات کا حقیقی پہلو
لاہور ہائی کورٹ بار انتخابات کا حقیقی پہلو

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور ہائی کورٹ بار کو ایشیا کی سب سے بڑی ہائی کورٹ بار ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔اِس بار کا الیکٹوریل بورڈ 102 ضلعی وتحصیل بارز پر مشتمل ہے۔ پنجاب بھر میں پھیلی ہوئی بارز میں ووٹ ڈالنے والے وکلاء حضرات تک رسائی حاصل کرنا یقینی طور پر بہت کٹھن کام ہے۔ اب جبکہ نئے انتخابات سر پر ہیں اور 25 فروری 2017 کو لاہور میں الیکشن کا انعقاد ہوگا۔ اِس الیکشن میں مینوئل اور بائیومیٹرک دونوں نظام کے تحت ووٹ کا سٹ ہونے کی شنید ہے۔راقم کا تعلق چونکہ لاہور سے ہے اور لاہور کی پرنسپل سیٹ ہی لاہور ہائی کورٹ بار تصور کی جاتی ہے۔اِس لیے امیدوار وہی کامیاب ہتا ہے جو لاہور میں پریکٹس کر رہا ہوتا ہے اور ساتھ ہی اُس کو کسی بڑے گروپ کی آشیر باد حاصل ہوتی ہے۔ اِس سے پہلے کہ آئندہ انتخابات کا جائزہ لیا جائے۔ راقم سبکدوش ہونے والی لاہو ہائی کورٹ بار کی کابینہ جو کہ راناضیاء عبدالارحمن، نائب صدر سردار شہباز، سیکرٹری انس غازی اور فنانس سیکرٹری اسد بخاری کو مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہے کہ اِس کابینہ نے بہت اچھے انداز میں ہاؤس کو چلایا۔یقینی طور بار کے مسائل بہت ہوتے ہیں کیونکہ فنڈز کی دستیابی کا کوئی حتمی چینل نہیں ہوتا جس کی وجہ سے بارکی کابینہ کو اِس انداز میں کرنا پڑتا ہے جس طرح اپنی فیملی کے لیے کوئی شخص بھی تگ وتاز کرتا ہے۔یوں خاص طور پر لاہور ہائی کورٹ بار کا الیکشن لڑنا تو انتہائی مشکل کام ہے ہی اِس سے بڑھ کر یہ جان جوکھم کا کام ہے ۔ اِس ذمہ داری اور بھاری مینڈیٹ کی لاج رکھناآسان نہیں۔ انس غازی نے سکریٹری کے طور پر ہاؤس کو بہت اچھی طرح چلایا، ہر قومی معاملے پر ہاؤس میں بات ہوئی اور بار میں سارا سال تقریبات ہوتی رہیں ۔ایسا محسوس ہوتا رہا کہ جیسے پھر سے یونیورسٹی لائف لوٹ آئی ہے۔ انس غازی نے ایک نیک نام عظیم عاشقِ رسولﷺ جناب نذیر غازی سابق جج لاہور ہائی کورٹ کے صاحبزادے ہونے کا حق ادا کرکے دیکھایاہے۔ وکلاء اپنے اِن وکیل بھائیوں کی مساعی جمیلہ کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ اِس الیکشن میں عاصمہ جہانگیر گروپ نے سابقہ امیدوار رمضان چوہدری کوہی میدان میں اتارا ہے مگر اِس بار دو ایسے امیدوار بھی میدان میں کودپڑے ہیں جو ہمیشہ اِس گروپ کے سیاسی حلیف رہے ہیں اور جو رمضان چوہدری کے لئے بڑی مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔ اِن میں سابقہ گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ کے بیٹے سردارخرم لطیف کھوسہ اور آزر لطیف خان بھی صدارت کے لئے کھڑے ہیں جبکہ حامد خان گروپ کی طرف سے لاہور بار کے سابقہ صدر چوہدری ذوالفقارعلی بھی میدان میں ہیں۔ اِس طرح عاصمہ جہانگیر گروپ کے تین امیدواروں کا حامد خان گروپ کے ایک امیدوار سے مقابلہ ہے۔نائب صدر کی نشست پرون ٹو ون مقابلہ ہے جس میں دونوں امیدواروں کا یہ دوسرا الیکشن ہے جن میں قائداعظم لاء کالج کے بانی حاجی چوہدری سلیم جبکہ اِن کے مدمقابل پیپلز لائیرز فورم کے راہنماراشد لودھی ہیں ۔دونوں امیدواروں کے مابین کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔سیکرٹری کی نشست پر کل پانچ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے اوریہ تمام امیدوار پہلی بارالیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جن میں حامد خان گروپ کے سرگردہ راہنما ممبرپاکستان بار کونسل مقصود بٹرکے امیدوار حسن اقبال وڑائچ جبکہ اسی گروپ کے ایک اور راہنما ممبرپاکستان بار کونسل طاہر نصر اللہ وڑائچ کے امیدوار عامر سعید راں بھی میدان میں ہیں۔ اِن کے علاوہ عاصمہ جہانگیر گروپ کے امیدوار عرفان ناصر چیمہ جن کو اِسی گروپ کے لاہور سے ممبرپنجاب بار کونسل سید فرہادعلی شاہ کی بھی مکمل حمایت حاصل ہے جبکہ ملک زاہد اسلم اعوان اور میاں مظفر حسین کو مختلف بار ایسوسی ایشنز کی موجودہ اور سابقہ عہدیداروں کی حمایت حاصل ہے ۔فنانس سیکرٹری کی نشست پر کل تین امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے اوریہ تمام امیدواربھی پہلی بارالیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔حافظ اللہ یار سپراء جن کو موجودہ فنانس سیکرٹری سید اسد بخاری کی مکمل حمایت بھی حاصل ہے، اِس کے علاوہ محمد ظہیر بٹ اورانتظار حسین کلیار شامل ہیں۔اگر گروپس کی سیاست کا بنظر عمیق جائزہ لیا جائے تو حالات یہ بتاتے ہیں کہ صدرات کے لیے چوہدری رمضان اور چوہدری ذوالفقار کے درمیان مقابلہ ہے۔اِسی طرح نائب صدرات کے لیے کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے لیکن بہر حال پروفیشنل وکیل ہونے کے ناطے راشد لودھی کو سبقت حاصل ہے۔جو امیدوار بھی کامیاب ہوگا وہ بار کی جیت ہے۔ سب وکلاء کی جیت ہے کیونکہ بار اور بنچ کے درمیان بہتر ورکنگ ریلیشن شپ سے ہی سائلین تک انصاف کی فراہمی ممکن ہوسکتی ہے اور ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے بار ایک رہنماء کا کردار ادا کرتی ہے۔
وکلاء سیاست کا یک منفی پہلو جو سامنے آیا ہے جو کچھ عرصہ سے بہت زیادہ حاوی ہوچکا ہے وہ ہے پیسے کا بے دریغ خرچ۔امیدوارون کی جانب سے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے تک کے اخراجات کیے جاتے ہیں جو کہ بار سیاست کے لیے مناسب نہیں ہے۔ اِس لیے جو وکلاء مالدار نہیں ہیں اُن کے لیے الیکشن میں حصہ لینا ناممکن بنا دیا گیا ہے۔شائد ایسا اِس لیے ہے کہ چونکہ ملکی سیاست میں بھی ایسا ہی ہورہا ہے اور وہی خرابی یہاں بھی نظر آتی ہے۔اِس حوالے سے پروفیشنلز وکلاء رہنماؤں کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا کہ بار کی سیاست میں جو بہت زیادہ پیسہ خرچ ہونے کی روایت پڑ چکی ہے اِس کا راستہ روکا جائے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں ، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -