بیس کروڑ کا قبرستان

بیس کروڑ کا قبرستان
بیس کروڑ کا قبرستان

  



میرا جسم مر چکا تھااور میں زمین پر ٹکروں میں بکھرا پڑا تھا ۔میری ایک آنکھ چہرے سے نکل کر زمین پر گر گئی تھی۔ میں نے گھبرا کر آنکھ کو پکڑنے کیلئے ہاتھ آگے بڑھانے کی کوشش کی تو میرا دایاں ہاتھ بازو سے کٹ کر ہوا میں تحلیل ہو گیا تھا ۔میں نے خود کو گھسیٹنا چاہا تو میری ٹانگیں دھڑ سے جدا ہو کر نومولود بچے کے آدھے کٹے ہوئے سر کے سامنے ٹکروں میں بکھری پڑی تھیں ۔میرے پھیپھڑے میرے سینے کو چیر کر میری جھولی میں گر چکے تھے میں جو سانس لیتا وہ حلق سے نیچے نہیں جا رہا تھا۔اچانک میرے ہاتھ پر چادر چڑھا نے والے عقیدت مند کا کٹا ہو ا دھڑ آکر گرا۔اس کی گردن کٹ چکی تھی۔ جسم خون کا فوارہ بن چکا تھا اور ہال میں پڑ ی تمام لاشیں اس کے خون سے رنگی جا چکی تھیں۔ میرے سامنے ہنستے ہو ئے زندہ لوگ گوشت کے ٹکروں میں تقسیم ہو چکے تھے۔ بچیوں کے بال دھماکے کی شدت سے پنکھوں سے لٹک رہے تھے اور شاید چھت پر چپکے گوشت کے لوتھڑے بھی میرے ہی تھے ۔زندگی کی ساری فلم ایک ہی لمحے میں دماغ کی نسوں کو چھو کر گزر گئی ۔اس وقت مجھے معلوم ہواکہ موت کا احساس حقیقی موت سے زیادہ تکلیف دہ اور بھیانک ہوتا ہے ۔

دھماکے نے مزار کے مین ہال کی تما م چیزوں حتیٰ کہ ایک ایک اینٹ ،سنگ مر مر ،شیشے کے چھوٹے چھوٹے ٹکروں ،پنکھوں ،غلوں ،کھڑکیوں اور دروازوں پر اپنے نا ختم ہونے والے نقوش چھوڑ دیے تھے۔ خوف کے کچھ نشانات وقت کے ساتھ شاید مدھم پڑ جائیں گے لیکن جو بھیانک خواب سید محمد عثمان ماروندی ( عرف لعل شہباز قلندر)کی پاکیزہ سندھ دھرتی نے دیکھا تھا اس کے آثار رہتی دنیا تک سندھ کی فضا کو خون کے رنگ سے ابر آلود رکھیں گے اور جب جب سیہون شریف میں دھمال ڈلے گی تب تب مجھ سمیت 90لوگوں کی موت کا غم بھی تازہ ہوجائے گا ۔ آج کے بعد آپ جب بھی سیہون شریف آئیں گے تو اداسی آپ سے ٹکرائے گی اور آپ اس اداسی کو اپنی روح میں اتارے بغیر دربار میں داخل نہیں ہو سکیں گے۔

آپ یقیناً سوچ رہے ہونگے میں کون ہوں اور یہ کہانی آپ کوکیوں سنا رہا ہوں۔ میں سیہون شریف حملے میں ہلاک ہونیوالے 90 عقیدت مندوں میں سے ایک بدنصیب ہوں۔میں سیہون شریف کا منگتا تھا اور ہر سال سیہون شریف حاضری کیلئے جاتا تھا۔ سیہون شریف پر حاضری میری ماں کی ضد تھی کیونکہ دس سال کی منتوں اور مرادوں کے بعد اللہ نے اس کی گود ہری کی تھی۔لیکن اب کی بار میں اپنی مرضی سے دربار جا رہا تھا ۔ماں نے ایک دن کی اجازت دے دی اورآلو کے پراٹھے ساتھ باندھ دیے۔ لیکن میں نے ضد کر کے دو دن کی اجازت لے لی ۔16فروری 2017کو میرا دوسرا دن تھا ۔میں دربار کے اندر داخل ہوا ،سلام کیا،پھول چڑھائے اور دائیں طرف دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔مزار سندھی اور ملتانی تہذیب کی عکاسی کرتا تھا۔مزار پر نیلی ،سفید اور سرخ ٹائیلوں سے نقش و نگار بنائے گئے تھے۔مزار کی عمارت سفید سنگ مرمر ،دھاتی رنگ کی ٹائلز اور شیشے کے باریک کام سے سجھی ہوئی تھی ۔دربار میں ایک عدد سونے کا دروازہ تھا جو ذوالفقار علی بھٹو نے سیہون شریف سے عقیدت اور محبت میں لگوایا تھا ۔صدر آصف علی زرداری نے 31کروڑ روپے کی لاگت سے بڑی محنت کے بعد ایران اور دلی سے سونے کی موافق ٹائلز منگوا کر گنبد پر لگوائی ہو ئی تھیں۔گنبد کے چاروں اطراف سولہ کھڑکیاں تھیں ۔سورج کی آخری کرنیں کھڑکی کے شیشوں میں سے چھن کر مزار کے روزے سے ٹکرا رہی تھیں ۔دھیمی دھیمی گلاب کے پھولوں کی خو شبوقبر مبارک سے اُٹھتی ،مزار کی دیواروں سے ٹکراتی اور پھر مزار کی چھت سے مزید خوشبو اور روشنی کی کرنیں لیکر دوبارہ روزے پر نچھاور ہو رہی تھی ۔روشنیوں اور خوشبو کا یہ ملاپ ماحول کو متبرک اور میری روح کو پاکیزہ کر رہا تھا۔ مغرب کا وقت شروع ہو چکا تھا سورج دنیا سے روٹھ کر آسمان کی آغوش میں سو گیا تھا اور آسمان اس کی اداسی کے سرخ دھبوں کو اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔پر ندے قطار بنا کر دربار کے اوپر رقص کر رہے تھے ۔عقیدت مند جوق در جوق دربار کے اندر داخل ہو رہے تھے ۔۔دھمال کا وقت شروع ہو چکا تھا ۔نقارہ بج رہا تھا اور لوگ بلا تفریق رنگ و نسل دھمال ڈال رہے تھے ۔اسی دوران بجلی بند ہو گئی ۔میں بھی ہال میں داخل ہوا اورہال کے دائیں جانب ایک کونے میں کھڑے ہو کر یہ روح پرور منظر دیکھ رہا تھا کہ ایک شخص نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔ میں نے دائیں جانب مڑ کر اس کی طرف دیکھا۔ وہ سفید شلوار قمیض میں ملبو س تھا۔ چہرہ پر سنت رسول قائم تھی اور سر پر سفید ٹوپی پہن رکھی تھی۔ اس نے آنکھیں بند کیں ، نیچے جھکا ، بٹن دبا یا ، دھما کہ ہوا اور میں سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں زندہ انسان سے لاش میں تبدیل ہو گیا۔

لعل کا مزار لال ہو چکا تھا۔ موت میرے چاروں طرف رقص کر رہی تھی اور میرے سامنے لوگ گاجر مولی کی طرح کٹے پڑے تھے۔ ایدھی کا اہلکا ر آیا،بالوں سے میرا سر اٹھایا،ایمبولینس میں رکھا اور مردہ خانے جا کر پھینک دیا۔اب مجھے لاوارث قرار دے کر دفنا دیا جائے گا کیونکہ میری ماں بوڑھی ہے، وہ چل نہیں سکتی اور میری موت کے ساتھ اس کا آخری سہارا بھی مر چکا ہے۔میں مر چکا ہوں لیکن اپنے ملک کے صاحب اقتدار لوگوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ مجھے قتل کیوں کیا گیا ؟میرا قصور کیا تھا ؟میرے قتل کا ذمہ دار کون ہے ؟ مجھے یقین ہے کہ ان کے پاس ان سوالات کے جوابات نہیں ہوں گے کیوں کہ جوابات دینے کیلئے ان کو اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا ۔انھیں دن رات اپنے ضمیر کو جھنجوڑنا ہوگا ۔ان کو اپنی صفوں میں غداروں کو تلاش کرنا ہوگا اور ان کو اس ملک کے دوستوں اور دشمنوں میں فرق محسوس کرنا ہوگا۔اور اگر انھوں نے ایسا نہ کیا تو وہ وقت دور نہیں جب ان کے پیارے بھی خود کش حملوں کا نشانہ بنیں گے اور اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا یہ ملک بیس کروڑ لوگوں کے قبرستان میں تبدیل ہو جائے گا۔ 

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں ، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ