پاکستان پر امریکا اور مغرب کے گمراہ کن الزامات!

پاکستان پر امریکا اور مغرب کے گمراہ کن الزامات!
پاکستان پر امریکا اور مغرب کے گمراہ کن الزامات!

  

الحمدللہ! امریکا کی طرف سے پاکستان کودہشت گردوں کی فنانشل واچ لسٹ میں ڈالنے کی کوشش ناکامی سے دوچار ہوچکی ہے اور اس امریکی قرارداد کو تین ماہ کے لئے مؤخر کر دیا گیا ہے۔

یہ نہ صرف پاکستان کی بہت بڑی سفارتی فتح ہے، بلکہ چین،ترکی اور سعودی عرب کی پاکستان کے ساتھ مضبوط دوستی نے ایک اور سنگ میل بھی بہت کامیابی سے عبور کر لیا ہے۔

اگرچہ پاکستان مخالف مہم کے ضمن میں امریکی اداروں کو مسلسل ہزیمت کا سامنا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ تسلسل سے پاکستان کے اوپر مختلف جہات سے حملہ کرنے میں مصروف عمل ہے۔

اسی سلسلے میں امریکن نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر ڈینئیل کوٹس نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف الزام تراشی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ پاکستان کے جوہری ہتھیار اور دہشت گردوں سے تعلقات دنیا کے لئے خطرہ ہیں‘‘۔۔۔ امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سالانہ اجلاس میں ہرزہ سرائی کرتے ہوئے ڈینئیل کوٹس نے مزید کہا :’’ پاکستان جن انتہاء پسند تنظیموں کی پشت پناہی کر رہا ہے، وہ پاکستان میں قائم اپنی محفوظ پناہ گاہوں کو انڈیا او رافغانستان پر حملوں کی منصوبہ بندی کے لئے استعمال کر سکتے ہیں ‘‘۔۔۔اس سے قبل 21دسمبر 2017ء کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے متعلق بے بنیاد الزام لگا چکے ہیں کہ ’’ پاکستان کے جوہری پروگرام کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کمزور ہے ‘‘۔۔۔اس کے علاوہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف گمراہ کن خبریں اورمن گھڑت تبصرے بھی تواتر سے مغربی میڈیا پر دکھائی دینا شروع ہو گئے ہیں، جو پاکستان کے مقتدر اصحاب کے لئے خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں ۔

مغرب کے حکومتی اور صحافتی حلقے بڑے معنی خیز انداز میں یہ تبصرے بھی کررہے ہیں کہ ’’پاکستان کے ایٹمی سائنس دانوں نے پہلے خود ایٹمی ٹیکنالوجی چوری کی اور پھر خطیر رقم کے عوض ایران اور شمالی کوریا کو بھی یہ ٹیکنالوجی منتقل کی‘‘۔ وہ یہ پروپیگنڈہ بھی کر رہے ہیں کہ ’’ پاکستان میں موجود دہشت گرد عناصر اس قدر مضبوط ہو چکے ہیں کہ ان کے لئے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں تک رسائی کچھ زیادہ مشکل نہیں رہی‘‘۔

ان تمام الزامات کو وزیر خارجہ خواجہ آصف نے بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اب پاکستان میں کسی دہشت گر د گروپ کا کوئی محفوظ ٹھکانہ باقی نہیں ہے۔

ایسے الزامات دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی لازوال قربانیوں کی کھلی توہین ہیں ۔ ایٹمی پروگرام کے متعلق کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ، پاکستان کے جوہری پروگرام کے حفاظتی انتظامات عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی ’’آئی اے ای اے‘‘ کے معیار کے عین مطابق ہیں ‘‘۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس سوچ کے امکان کو بھی مسترد کر دیا کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں، جبکہ وزیر دفاع خرم دستگیر نے بھی امریکی و مغربی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’پاکستان اپنے ایٹمی اثاثوں کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی سازش برداشت نہیں کرے گا‘‘۔

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی سمیت اس بات کے متعدد بین الاقوامی ادارے معترف ہیں کہ پاکستان نے نیو کلیئر سیکیورٹی ایکشن پلان (NSAP)، نیو کلیئر ایمرجنسی منیج منٹ سسٹم (NEMS)اور موبائل ایکسپرٹ سپورٹ ٹیم (MEST)سمیت ایٹمی پروگرام کے تمام شعبہ جات میں بین الاقوامی معیار کے مطابق فول پروف، ٹھوس اور قابل اعتماد حفاظتی و انتظامی اقدامات کر رکھے ہیں۔

مزید برآں! پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی حفاظت کے لئے 28ہزارافراد پر مشتمل جدید ترین فزیکل اور سائنٹیفک تربیت یافتہ فورس بھی تعینات ہے، جو اس پروگرام کے ہر شعبے میں تہہ در تہہ سیکیورٹی کی ذمہ داریاں سر انجام دیتی ہے۔

پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے محفوظ ہونے کی بہت بڑی دلیل یہ ہے کہ 35سال سے زائد عرصے پر محیط اس پروگرام میںآج تک معمولی سا بھی کوئی حادثہ نہیں ہوا اور نہ ہی سیکیورٹی کی ناکامی کا کوئی واقعہ سامنے آیا ہے۔ 

جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کی بلاامتیاز عملداری کے بلند بانگ نعرے بلند کرنے والی مغربی دنیا نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ہمیشہ جس امتیازی سلوک کا مظاہرہ کیا اور اب تک کرتی چلی آرہی ہے، وہ تمام ترقی پذیر ممالک، بالخصوص اسلامی دنیا کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

2004ء میں جب فوجی ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی آمرانہ کمزوریوں کی وجہ سے پاکستانی سائنسدانوں کے خلاف تحقیقات زوروں پر تھیں، اس وقت عالمی ایٹمی ایجنسی کے سربراہ محمد البرادی کے ایک بیان نے دنیا کو چونکا دیا تھا کہ ’’دنیا میں ایٹمی اسمگلنگ کا ارتکاب کرنے والی ایک منظم بلیک مارکیٹ موجود ہے، جس کی جڑیں یورپ میں ہیں اور ان یورپی ایجنٹوں کے نیٹ ورک کو استعمال کئے بغیر دنیا کے کسی بھی خطے سے ایٹمی ٹیکنالوجی کی غیر قانونی برآمد ممکن نہیں ہے‘‘۔

جس وقت یورپ کا میڈیا اور حکومتی حلقے بڑے معنی خیز انداز میں پاکستان کے جوہری سائنسدانوں کو ایٹمی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کا ذمہ دارقرار دے رہے تھے، اس وقت محمد البرادی نے انصاف کی ترجمانی کرتے ہوئے سختی سے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ ’’ایٹمی ٹیکنالوجی کے اس اسکینڈل کی حقیقی جڑیں یورپ میں ہیں ۔جب تک یورپ کے مختلف ملکوں میں سرگرم عمل اس مافیا پر بھرپور حملہ نہیں کیا جاتا، اس وقت تک ایٹمی ٹیکنالوجی کی اسمگلنگ اور پھیلاؤکا خاتمہ ممکن نہیں ہوگا‘‘۔۔۔ البرادی کے اس مبنی برحقیقت مؤقف سے مجبور ہوکر یورپ میں ایٹمی ٹیکنالوجی کی اسمگلنگ کے معاملے پر تحقیقات کا آغاز تو کردیا گیاتھا، لیکن ان تحقیقات کے سلسلے میں اس گرمجوشی کا مظاہرہ نہیں کیا گیاجو پاکستان کے ایٹمی سائنسدانوں کی ڈی بریفنگ کے سلسلے میں کیا گیا تھا۔

ایٹمی ٹیکنالوجی کی اسمگلنگ کے حوالے سے عالمی ایٹمی ایجنسی نے جن چھ یورپین ممالک کے ملوث ہونے کا ذکر کیا تھا، ان کے بارے میں آج تک امریکا یا کسی اور مغربی ملک کے سربراہ اور میڈیا کو چند الفاظ بھی کہنے یا لکھنے کی توفیق نہیں ہوئی۔

دوسری جانب بھارت کے ایٹمی ری ایکٹرز آج بھی عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA)کے وضع کردہ معیار پر پورا نہیں اترتے، جبکہ بھارت کے ایٹمی پروگرام میں متعدد حادثات اور ریڈی ایشن کے اخراج کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں،جبکہ بھارت کے کروڑوں افراد کی زندگیوں کو بھارت کے ناقص اور غیر معیاری انتظامات کے حامل ایٹمی پروگرام سے شدید خطرات لاحق ہیں،لیکن ڈونلڈ ٹرمپ یا ڈینئل کوٹس سمیت کسی کو بھارت کے خلاف بولنے کی ہمت اس لئے نہیں ہوتی کہ وہ جنوبی ایشیا میں امریکی مفادات کا نگہبان بنا ہوا ہے۔

اس کے علاوہ امریکی بغل بچہ اسرائیل، جس کے بارے میں یہ بات پایۂ ثبوت تک پہنچ چکی ہے کہ اس کے پاس کم و بیش 300 سے زیادہ تیار ایٹم بم موجود ہیں ،لیکن وہ امریکی آشیر باد سے تاحال عالمی ایٹمی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو اپنا ایٹمی پروگرام دکھانا تو درکنار اس علاقے کے قریب جانے کی اجازت دینے کو بھی تیار نہیں ہے۔

اسرائیل جیسے خطرناک اور انتہا پسند ملک کی ایٹمی صلاحیت کے بارے میں بھی امریکا،مغربی طاقتیں اور ان کا میڈیا آج تک معنی خیز خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔۔۔ یعنی جن ممالک کے ایٹمی پروگراموں سے دنیاکو شدید خطرات لاحق ہیں اور جو ممالک ایٹمی توانائی کے پھیلاؤ کے حقیقی مجرم ہیں، ان سے یکسر صرف نظر کیا جارہا ہے۔

پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف زہریلے پروپیگنڈے اوربے بنیاد الزامات کی حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور یورپ کسی اسلامی ملک کے پاس ایٹمی ٹیکنالوجی برداشت نہیں کرسکتے۔ المیہ یہ ہے کہ ہم باہم منتشر ہوکر ان پاکستان دشمن ممالک کو اپنے خلاف بولنے کا موقع بھی خود ہی فراہم کرتے ہیں۔

پاکستان میں جاری سیاسی عدم استحکام، اداروں کے مابین ٹکراؤ کی کیفیت ، تحریک انصاف، عوامی تحریک اور شیخ رشید، چودھری برادران اور ایم کیو ایم جیسے طفیلیوں کی طرف سے پاکستان کو سیاسی اور معاشی طور پر عدم استحکام کاشکار کرنے کی کوششوں کے تناظر میں مغربی ذرائع ابلاغ ایک بار پھر اپنی حکومتوں کے اشاروں پرایک منظم سازش اور مربوط ایجنڈے کے تحت یہ پروپیگنڈہ کررہے ہیں کہ ’’پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ ہاتھوں میں نہیں ہیں‘‘۔۔۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اگر پاکستان میں عوام کے ووٹ سے منتخب کردہ حکومت کو پانچ سال کے لئے آزادی سے کام کرنے کا موقع دیا جاتا اورمسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت کو بغیر کسی جواز کے عدم استحکام کا شکار نہ کیا جاتا تو آج امریکا سمیت کسی مغربی ملک کی جرأت نہ ہوتی کہ وہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ سکے۔

یہی وجہ ہے کہ ہماری سیاسی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکا اور مغربی قوتیں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف تو بات کرتی ہیں ،لیکن ان کو اپنی چارپائی کے نیچے ڈانگ پھیرنے کی ہمت اور توفیق نہیں ہوتی، جہاں ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور سمگلنگ کا اصل منبع موجود ہے ۔

قیقی صورت حال یہ ہے کہ ایٹمی پھیلاؤ کے اصل ذمہ دار یورپ کے نان اسٹیٹ ایکٹرز ہیں جو وہاں سے ایٹمی ہتھیاروں کی عالمی بلیک مارکیٹ کو چلا رہے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ایٹمی پھیلاؤ کی تحقیقات میں اس برائی کے اصل محور یورپ کوتحقیقات کی زد میں لایا جاتا، مگر اس موقع پرامریکا اور مغرب کا اسلام، بالخصوص پاکستان کے ساتھ ازلی تعصب کھل کر سامنے آرہا ہے اور ہماری اندرونی خامیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سارا نزلہ پاکستان کے اوپر گرانے کا سامان کیا جارہا ہے۔

مغرب کا یہ دوہرا رویہ مستقبل قریب میں پاکستانی قوم کو درپیش بہت سے خدشات کوجنم دے رہا ہے۔ ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں جاری سیاسی کشمکش کو ختم کیا جائے، اداروں کے درمیان جاری کشیدگی اور رنجشوں کو ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں دورکیا جائے اورسیاسی عدم استحکام اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی فضا کو مزید بگاڑ کی طرف جانے سے قبل اعتدال پر لایا جائے۔پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف الزامات کا اسلوب بتا رہا ہے کہ عالمی طاقتیں پاکستان کو ایٹمی قوت سے محروم کرنے کا تہیہ کرچکی ہیں۔

یہ طاقتیں پاکستان کے غیر مستحکم سیاسی حالات سے فائدہ اٹھا کر نہ صرف پاکستان کودہشت گردوں کی واچ لسٹ میں ڈالنے کے درپے ہیں ،بلکہ مستقبل قریب میں ابتدائی طور پر ایٹمی پروگرام کے حوالے سے پاکستان کے اوپر سخت فوجی اور اقتصادی پابندیاں بھی لگا سکتی ہیں۔

پاکستان کی طرف تیزی سے بڑھتے اس خطرے کے پیش نظر تمام سیاسی، سماجی، مذہبی و عسکری قیادت کو اس خطرے کی حساسیت کو محسوس کرنا چاہئے اور اپنی ضد ،انا ، مفادات اور فروعی اختلافات کو ایک طرف رکھ کرایک متحد اور مضبوط قوم بن جانا چاہئے ۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ایسی عالمی سازشوں سے مقابلہ متحد ہوکر ہی کیا جا سکتا ہے اورپاکستان کے خلاف ان عالمی سازشوں کا اہم ہدف یہ بھی ہے کہ ہم کسی بھی قیمت پر متحد نہ ہوں!!

مزید : رائے /کالم