آئین کو طاق میں نہ سجائیں!

آئین کو طاق میں نہ سجائیں!
آئین کو طاق میں نہ سجائیں!

  

پاکستان کو ہم نے ایک ایسا ملک بنا دیا ہے، جہاں چھوٹے سے چھوٹا محکمہ چلانا بھی آسان کام نہیں رہا، چہ جائیکہ پورے ملک کو آسانی سے چلایا جاسکے، آپ کسی محکمے میں جھانک کر دیکھیں، وہاں آپ کو ایک دوسرے کے خلاف کھینچا تانی کا عمل صاف نظر آئے گا، افسر گھبراتا پھرے گا اور ملازمین اپنی جگہ خوفزدہ دکھائی دیں گے۔

یہ اس ملک کا حال ہے جہاں کرپشن عام ہے اور احتساب نام کی کوئی شے موجود نہیں، نیب کچھوے کی چال چلنے والا ادارہ ہے، آج کل روزانہ یہ خبریں چھپتی ہیں کہ نیب نے فلاں ابن فلاں کے خلاف انکوائری کا حکم دے دیا، مگر کوئی انکوائری کنارے لگتی نظر نہیں آتی، نیب گڑے مردے اکھاڑ رہا ہے، پندرہ سال پرانے کیسز کھول رہا ہے، جو کرپشن آج ہورہی ہے اس پر شاید وہ پندرہ سال بعد کارروائی کرے گا، اپنے افسروں کو پرانے کیسوں میں الجھا کر نیب کیسے درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرے گا، اس بارے میں تو اللہ ہی جانے، لیکن یہ بات طے ہے کہ جب تک نیب اپنی رفتار تیز نہیں کرتا اور کرپشن کے حالیہ کیسوں پر زیادہ توجہ نہیں دیتا، بہتری کی کوئی امید پیدا نہیں ہوسکتی۔

بات صرف نیب کی نہیں ہر ادارے کے اپنے مسائل ہیں، جن سے وہ نبرد آزما ہونے کی کوشش میں لگا ہوا ہے، چونکہ ہر ادارہ بذات خود ایک مسئلہ بن چکا ہے، اس لئے گڈ گورننس کا صرف خواب ہی دیکھا جاسکتا ہے، مثلاً پنجاب میں کوئی کام بھی وزیراعلیٰ کے نوٹس لینے پر ہی ہوتا ہے، باقی سارے کام بھی اگرچہ ہو رہے ہوتے ہیں، مگر عوام کی فلاح و بہبود کا کوئی کام اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک خادم اعلیٰ کا چینلز پر یہ ٹِکر نہیں چلتا، انہوں نے واقعہ کا نوٹس لے لیا ہے، میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ جو ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز عوام کے لئے ہوّا بنے ہوتے ہیں، وہ کسی اور سے نہیں دو باتوں سے ڈرتے ہیں، ایک شہباز شریف کے نوٹس لینے سے اور دوسرا اپنے دفتر میں کام کرنے والے اہلکاروں سے، اس میں حیران ہونے کی ضرورت نہیں، اپنے عملے سے وہ اس لئے ڈرتے ہیں کہ ان کی تمام سرگرمیوں کے وہ عینی شاہد ہوتے ہیں، اب وہ کیسے اپنے محکمے کو جرأت مندی اور دیانتداری سے چلا سکتے ہیں۔

یہ بیورو کریسی نے عجیب نظام بنا رکھا ہے، وفاقی سروس کے افسران تو پھیرے باز لوگ ہیں، وہ جہاں بھی تعینات کئے جاتے ہیں، انہیں معلوم ہوتا ہے کہ چند سال کے لئے آئے ہیں، پھر واپس جانا ہے اس لئے اس پرائز پوسٹنگ سے فائدہ اٹھائیں، انہیں علاقے کے مفادات سے غرض ہوتی ہے اور نہ لوگوں سے کوئی وابستگی، وہ جانتے ہیں کہ یہ بہار دوبارہ نہیں ملنی، اس لئے وہ مصلحت کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں اور لوٹ مار سے بھی باز نہیں آتے۔

آپ ذرا پنجاب کے مختلف اضلاع میں تعینات افسران کی تفصیل اٹھا کر دیکھیں، ان سب کی اصل سکونت لاہور میں ہوگی، نوکری وہ جنوبی پنجاب میں کررہے ہوں گے، اکثر تو اپنی فیملیز کو بھی ساتھ نہیں رکھتے، کیونکہ وہ اپنے بچوں کو لاہور کے اعلیٰ سکولوں میں پروان چڑھانا چاہتے ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ لوٹ کر انہوں نے وہیں جانا ہے، اب ان میں سے کون ایسا ہے جو یہ چاہے گا کہ جس ادارے کا اسے سربراہ بنایا گیا ہے، وہ درست ہوجائے، لوگ ریلیف محسوس کریں۔

وہ تو ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر عمل کرے گا، اور اس کی حتی الامکان یہ کوشش ہوگی کہ زیادہ سے زیادہ عرصہ کمائی کے لحاظ سے دبئی کو مات دینے والی پوسٹ پر بیٹھا رہے، چونکہ کچھ بھی براہ راست نہیں ہوسکتا اور کھانے پینے کے لئے عملے کو ساتھ ملانا پڑتا ہے، اس لئے وہ پورا محکمہ بلکہ پورا نظام کرپٹ کر دیتا ہے، وہ محکمے کو کیسے درست کرسکتا ہے، جب وہ خود کانِ نمک میں نمک ہوجاتا ہے۔

پورے ملک میں سرکاری محکمے جو کچھ عوام کے ساتھ کررہے ہیں، کیا سیاسی اشرافیہ اور حکمرانوں کو اس کی خبر نہیں ہے؟ سب خبر ہے، بلکہ اسی کرپٹ نظام کی تو وہ کھٹی کھا رہے ہیں۔ اچھا حکمران نظام کے تحت ملک چلاتا ہے، ہمارے ہاں حکمران اپنے وفاداروں کے ذریعے ملک چلا رہے ہیں، پورے ملک میں انتشار اور بگاڑ صاف نظر آتا ہے پھر یہ شکوہ بھی کیا جاتا ہے کہ پاکستان جیسے ملک کو چلانا آسان نہیں، جب قانون قاعدے کو درمیان سے نکال دیا جائے تو کوئی معمولی سی دکان بھی نہیں چلتی، یہی وہ رویہ ہے جو بڑھتے بڑھتے قومی سطح پر ناکامی کا ایک بھاری جواز بن جاتا ہے، پاکستان وفاقی نظام کا حامل ملک تو بہت کچھ مانگتا ہے، لیکن مصلحتوں اور ضرورتوں نے اسے کمزور سے کمزور تر کردیا ہے۔ ایک ایسا ملک جس میں صوبے ہیں، علاقائی تعصبات ہیں، فرقہ وارانہ چیلنجز ہیں، نسلی و لسانی دوریاں ہیں، اس میں کوئی نظام اس وقت تک چل ہی نہیں سکتا، جب تک سب کے حقوق کو دئے گئے آئین کے مطابق تسلیم نہ کیا جائے۔

یہ تاثر صرف ایک خاص مقصد کے لئے پھیلایا جارہا ہے کہ پاکستان کو چلانا آسان نہیں اس تاثر کے تحت وہ نظام جس سے عوام کو ہمیشہ واسطہ پڑتا ہے، درست نہیں کیا جاتا، یہ کیسے ممکن ہے کہ ملک کے آئینی ادارے ٹھیک نہ ہوں مگر نچلا نظام درست ہوجائے، جس ملک میں ابھی تک یہ ہی طے نہیں ہو پا رہا کہ سپریم کون ہے؟

وہاں نچلی سطح تک چین آف کمانڈ کیسے قائم ہوسکتی ہے، تازہ بحث یہ ہے کہ پارلیمنٹ سپریم ہے یا عدلیہ، حالانکہ اس کے لئے آئین سے رجوع کرنا چاہئے، جس میں صاف لکھا ہے کہ کون کیا ہے اور کسے کیا اختیارات حاصل ہیں، سیدھی سی بات ہے کہ جب ہر معاملے کا حل آئین کے ذریعے ہی ڈھونڈنا ہے تو پھر اسے سپریم بھی تسلیم کیا جانا چاہئے۔

آئین کے معاملات کو بھی اگر الجھا دیا جائے اور ہر طاقتور ادارہ اس کی اپنی تعبیر کرتا پھرے تو حالات میں بگاڑ کیسے پیدا نہ ہو، ایک خاندن کا شیرازہ بھی اس صورت میں بگڑ جاتا ہے، اگر اس کی چین آف کمانڈ موجود نہ ہو اور بڑوں کے فیصلوں کو نہ مانا جائے۔

آئین کی اپنی اپنی تعبیریں کیسے کی جاسکتی ہیں، صوبے اگر اپنے حقوق پر لڑنا شروع ہوجائیں اور آئین میں لکھی حدود و قیود کو نہ مانیں تو وفاق کیسے قائم رہ سکتا ہے، آئین میں اسی لئے ایسے ادارے قائم کردیئے گئے ہیں کہ کسی ابہام کے بغیر معاملات کو چلایا جائے۔ مشترکہ مفادات کونسل جیسے فورمز اسی مقصد کے لئے تو بنائے گئے ہیں، اگر بات وہاں بھی نہ بنے تو پھر آئین نے ہی یہ تجویز کیا ہے کہ سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے۔ آئین بنانے والے کملے نہیں تھے، وہ منجھے ہوئے اور تجربہ کار آئینی ماہر تھے۔

انہوں نے ہر سوال اور ہر مسئلے کا حل آئین میں رکھ دیا ہے، اب اگر آئین کی اس سپر میسی کو تسلیم ہی نہیں کیا جاتا تو پھر متبادل کیا ہے؟ 1973ء کا آئین کس قدر طاقتور ہے اس کا اندازہ اس امر سے بھی کیا جاسکتا کہ آمروں نے اسے منسوخ کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی، اس کی بعض شقیں معطل کرکے کام چلایا، کیونکہ ان کے پاس دوسرا کوئی آپشن ہی نہیں تھا، اگر وہ اسے ختم کردیتے تو پاکستان کو سنبھالنا واقعی ان کے لئے مشکل ہوجاتا، گویا ہمارے پاس کوئی دوسری ایسی طاقت ہے ہی نہیں جو پاکستان کو متحد رکھ سکے، اس حقیقت کو سب تسلیم کرتے ہیں مگر پھر بھی ہر کوئی آئین کی اپنی تعبیریں نکالنے کی کوشش کرتا ہے، اب یہ نیا پنڈورا بکس کھولنے کی کیا ضرورت ہے، کہ عدلیہ کے ججوں اور فیصلوں کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لایا جاسکتا ہے، 45 سال بعد ایک ایسی بات کیوں چھیڑی جارہی ہے، جس کا پہلے کوئی ذکر ہے اور نہ مثال۔

یہ بیانیہ کیوں اختیار کیا جارہا ہے کہ عدلیہ کی مخالفت کے باعث انتظامیہ ملک نہیں چلا پا رہی ہے۔ ایسے بیانیے کے بعد وفاق سے تحصیل کی سطح تک کام کرنے والی انتظامیہ پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، ملک کیوں نہیں چل رہا، صرف اس لئے کہ سپریم کورٹ آئین میں دیئے گئے، اختیار کے تحت بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا نوٹس لیتی ہے، کیا آئین میں یہ درج ہے کہ ہر محکمے کو مادر پدر آزادی ہوگی، کیا عدلیہ پر بھی آئین میں قدغنیں نہیں لگائی گئیں، کیا ان کے خلاف بھی سپریم جوڈیشل کونسل کا فورم نہیں بنایا گیا، آئین کے تحت کون سا عہدہ ہے، جسے بے لگام اختیارات دیئے گئے ہیں، ہر ایک کو جو اختیار ملا ہے، اس کا ضابطہ بھی ساتھ دیا گیا ہے، خلاف ورزی پر ہر عہدے کے مواخذے کا طریقہ کار بھی واضح کردیا گیا ہے، چاہے صدر مملکت ہوں، وزیراعظم یا سپریم کورٹ کے ججز، آئین کا منشاء یہی ہے کہ کسی کے ساتھ بھی زیادتی نہ ہو، وزیراعظم کو عوامی نمائندہ ہونے کی حیثیت سے جوابدہ بنایا گیا ہے، لیکن صدر مملکت کو کسی جوابدہی سے مّبرأ رکھا گیا ہے، البتہ ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی ضرور کی جاسکتی ہے، جو عدالت میں نہیں پارلیمنٹ میں ہوتی ہے۔

اللہ کرے کسی اُلجھاوے کے بغیر یہ نظام چلتا رہے اور ملک کی چاروں اکائیاں، آئینی ادارے اور عہدیدار اِدھر اُدھر بھٹکنے کی بجائے آئین سے رہنمائی حاصل کریں، وقتی فائدے کے لئے آئین کی بے توقیری نہ کریں، کیونکہ آئین ہے، تو ان کے عہدے بھی موجود ہیں اور یہ نظام بھی، وگرنہ تو سب کچھ ایک بے رحم طوفان کی نذر ہوسکتا ہے، ایسے کسی بھی طوفان کے آگے بند باندھنے کی اشد ضرورت ہے، اور اس کے لئے سب کو متحد ہوجانا چاہیے۔

مزید : رائے /کالم