ملک میں اداروں کی آئینی حدود کا تعین کرنا ضروری،صحافیوں کے تحفظ کا بل پارلیمنٹ سے پاس کرائیں گے:مریم اورنگزیب کا سی پی این ای کانفرنس سے خطاب

ملک میں اداروں کی آئینی حدود کا تعین کرنا ضروری،صحافیوں کے تحفظ کا بل ...
ملک میں اداروں کی آئینی حدود کا تعین کرنا ضروری،صحافیوں کے تحفظ کا بل پارلیمنٹ سے پاس کرائیں گے:مریم اورنگزیب کا سی پی این ای کانفرنس سے خطاب

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر مملکت برائے اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب نے کہاکہ موجودہ جمہوری دور میں متحرک اور آزاد میڈیا نے قلم اور سکرین کے ذریعے جمہوریت پر شب خون مارنے والوں کا راستہ روکاہے ،اطلاعات تک رسائی کا بل منظورکرایا،پیمرا اور میڈیا مالکان کے مابین بے مقصد مقدمات کو ختم کرنے جارہے ہیں،سی پی این ای ہاؤس سمیت دیگر تجاویز پر وزیر اعظم نے منظور کرتے ہوئے فوری عملدرآمد کی ہدایت کی ہے،ملک میں بنیادی سمت اور اداروں کی آئینی حدود کا تعین کرنا ضروری ہے،صحافیوں کے تحفظ کا بل پارلیمنٹ سے پاس کرائیں گے جبکہ پیمرا میں سی پی این ای کے نمائندوں کو شامل کیا جائے گا ، ملک میں جمہوریت کی تحفظ کے لئے ملک میں تمام آئینی اداروں کی بنیادی سمت اور آئینی حدود میں رہنا ضروری ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نےسی پی این ای کے زیراہتمام ’’ ملک کو درپیش چیلنجز اور میڈیا کاکردار ‘‘ کے موضوع پر سی پی این ای کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق،پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شبلی فراز، رکن قومی اسمبلی اسد عمر، پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماافراسیاب خٹک، سی پی این ای کے سیکریٹری جنرل اعجازالحق،سی پی این ای کے صدر ضیاشاہد، سی پی این ای کے سینئر نائب صدر شاہین قریشی، سینئر اراکین رحمت علی رازی، مہتاب خان ، اکرام سہگل، ڈاکٹر جبار خٹک، ایاز خان، غلام نبی چانڈیو، طاہر فاروق، قاضی اسد عابد، مشتاق احمد قریشی، عرفان اطہر، کاظم خان، عبدالرحمان منگریو اور احمد اقبال بلوچ سمیت سینئر صحافیوں ،سیاسی، سماجی و تعلیمی شخصیات اور میڈیا سے وابستہ افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی،سیمینار میں میزبانی کے فرائض نائب صدر سی پی این ای عامر محمود نے ادا کیے۔

وزیر مملکت برائے اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب نے کہاکہ سی پی این ای نے اہم موضوع پر پروگرام کرایاہے، صحافیوں نے ساڑھے چار سال کے عرصہ میں جمہوریت پر شب خون مارنے کے عمل کو قلم کے ذریعے روکا ہے ، قلم اور سکرین نے جمہوریت کی مضبوطی میں کردار ادا کیاہے، کبھی دھرنے میں ایمپائر کی انگلی کے پیچھے بات کرنے پر دو وزراء کو فارغ کیا گیا کبھی ڈان لیکس میں وزراء نکالے گئے ،اس وقت

و رکنگ جرنلسٹ کا سب سے بڑا مسئلہ ان کی ملازمتوں اور آزادی کاہے ،اب فرنٹ پیج پر ملکی اور معاشرتی مسائل کی خبروں کی بجائے صرف ایسی خبریں چھپتی ہیں جن میں وزیر اعظم کو گالیاں دی گئی ہوں، اداروں میں صحافیوں کی تربیت کا کوئی انتظام نہیں ہوتا، کوڈ آف کنڈکٹ ،ریگولیشنز اور پیمرا کے حوالے سے وزارت میں بات ہوئی ہے ،پیمرا اور میڈیا مالکان کے مابین بے مقصد مقدمات کو ختم کرنے جارہے ہیں تاکہ میڈیا اور پیمرا مقدمات کی بجائے لوگوں اور اخباری کارکنوں کی تربیت کے لیے یہ رقم خرچ کر ے۔ موجودہ حکومت نے اطلاعات تک رسائی کا بل منظور کیا جو صرف جمہوریت میں ہی ممکن ہوسکتاتھا ،ایسا دورملک میں پہلے کبھی نہیں آیاکہ اداروں کے آئینی کردار پر ڈرائینگ روم سے باہر میڈیا پر بات کی گئی ہو،اس وقت میڈیا اپنی افادیت قائم رکھنے کے لیے جدوجہد کررہاہے ،سی پی این ای کے ساٹھ سال پورے ہونے پر مبارکباد دیتے ہیں ، ملک میں بنیادی سمت کا تعین اور اداروں کی آئینی حدود کا تعین کرنا ضروری ہے ، سی پیک کے حوالے سے میڈیا کا ہمیشہ مثبت کردار رہاہے ، سی پیک کی کامیابی ہم سب کی کامیابی ہے ،انفارمیشن سروسز اکیڈمی کو ورکنگ جرنلسٹ بھی استفادہ بھی کر سکتے ہیں، پورا نصاب تبدیل کردیا گیاہے ، صحافیوں کے تحفظ کا بل پارلیمنٹ سے پاس کراکے جائیں گے ، پیمرا میں آپ لوگوں کے نمائندوں کو شامل کیا جائے گا ،وزارت کے دروازے آپ لوگوں کے لیے کھلے ہوئے ہیں،سی پی این ای ہاؤس سمیت جتنی بھی تجاویز ہیں اس کے لیے وزیر اعظم نے ہدایات دی ہیں ،خبر دینے سے پہلے متعلقہ افراد یا اداروں سے پوچھ لیا کریں ۔

جمعیت علما اسلام ف کے سر براہ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ پو ری دنیا میں سیاست اورصحا فت دو وابستہ چیزیں ہیں،صحافت جمہو ری ماحول میں فروغ پاتی ہے باد شاہت اور آمریت میں صحافت کی گر دن مروڑ دی جا تی ہے ،صحافت ایک مقدس پیشہ ہے ،صحافت بغیر دیانت کے اسکا تصور نہیں ،آج کسی کے عیو ب کو ٹٹولنے کو صحا فت بنا لیا گیا ہے، ایک وقت تھا جب ہند وستان ہما را دشمن اور امریکہ ہمیشہ ہما رے ساتھ تھا ،آج یکسر صورتحال مختلف ہے آج امریکہ ہند وستان کے ساتھ ہے وہ خطے میں ابھر نے والی عالمی سیاست میں چائنہ کو کاؤ نٹر کرنا چاہتا ہے ۔ اب افغانستان ، ایران اور انڈ یا بھی ہما رے ساتھ نہیں بحران کے باعث چائنہ کے اعتماد کو بھی دھچکا لگا ہے ،ہم ملک میں جو ایک دوسرے پر گند ڈالنے کی سیاست کر رہے ہیں، اداروں میں جنگ ملک کی تباہی اور ملک کو کھوکھلا کرنے کی بات ہے ،قومی وحدت اور یکجہتی کے بغیر ملک کو ان حالات سے نہیں نکال سکتے ، پاکستان کو نیب کی صورت میں ایک نیک نام ادارہ ملا ہے جو ہر وقت احتساب کے لیے تیار رہتاہے۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہاکہ پاکستان کا سب سے اہم مسئلہ قانون اور آئین کی حکمرانی ہے جس گاڑی پر جھنڈا لگا ہو وہ سرخ بتی کا اخترام کرنا تو ہین سمجھتا ہے ،ہما ری پارلیمنٹ کو اند ر سے بے توقیر کیا جا رہا ہے، آپس میں لڑنے کے بجائے یہ ملکر مہنگائی ، بے رو ز گاری اور کرپشن کے خلاف لڑ یں ، معا شرے کو مضبوط کر نے کے لیے سب سے پہلے عام آدمی کے مسائل حل کرنے ہوں گے ،جس ملک میں وسائل کی منصفانہ تقسیم نہ ہو اس ملک میں کبھی انصاف کا سوال ہی پید انہیں ہو سکتا، مسئلہ کشمیر اس وقت سب سے بڑامسئلہ ہے،ملک میں عوام کو انکا حق دیا جائے ،قبائلی علا قوں کے ساتھ آج بھی دھو کہ ہو رہاہے، ہم انڈ یا سے گلہ کر تے ہیں لیکن ہما رے اپنے ملک میں باجوڑ کے منصور ، نقیب اللہ شہید اور ہزار وں لاپتہ افراد کا جواب کون دیگا ؟میڈیا کا کر دار بہت بہت اہم ہے اگر میڈیا کا کر دار نہ ہوتا تو زینب قتل کیس بھی پہلے کیسوں کی طرح دب جا تا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے کہاکہ ساٹھویں سالگرہ پر سی پی این ای کو مبارکباد دیتی ہوں ، سیاست اور میڈیا میں دھڑے بندی فطری عمل ہے ، صحافت اور جمہوریت کاچولی دامن کاساتھ ہے ۔اس وقت پاکستان نیوکلیرصلاحیت کا حامل ہونے کے باوجود خارجی، داخلی اور اقتصادی مسائل کا شکارہے،ووٹ کا تقدس ضروری ہے لیکن پانچ سال میں چارسال تو آپ پارلیمنٹ میں آتے نہیں اور بات ووٹ کے تقدس کی کرتے ہیں ، پی پی پی کو بھی اپنی حکومت میں ایسے ہی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، دانستہ طورپر مصنوعی بحران پیدا کی جارہاہے ، پاکستان بارہ ارب ڈالر کے خسارے کا شکارہے ایسی صورتحال پیدا کی جارہی ہے کہ آنے والی حکومت سنبھال نہ سکے ،کچھ سال میں ملک خشک ہوجائے گا،بچوں کی اموات، تعلیمی مسائل پر توجہ کی بجائے میڈیا کمرشل اور کوآپریٹ ہوچکاہے ، مالکان ورکنگ جرنلسٹ پر دباؤ کم کریں ۔

سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ ساٹھ سال پورے ہونے کے بعدمیڈیا کو بھی خوداحتسابی کرنا ہوگی۔ملک کو درپیش چیلنجز ایک فطری عمل ہے دیگر ممالک میں بھی ایسا ہوتارہتاہے لیکن وہاں ادارے مضبوط لیکن یہاں ستر سال سے اداروں کو تباہ کیا جاتاآرہاہے ،فضل الرحمن ، شیری رحمان اور مریم اورنگزیب جیسے لوگ اور پارٹیاں کبھی نہیں چاہتے کہ اس فرسودہ نظام سے قوم کو نجات ملے ،انصاف حسب مراتب نہیں ہونا چاہیے یہاں چھوٹے چوروں سے جیلیں بھری پڑی ہیں لیکن ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے والے شرفابنے بیٹھے ہیں۔

سی پی این ای کے صدر ضیاشاہد نے کہاکہ آزادی صحافت کے لیے کوڑے کھائے ، جیلیں اور تھانے دیکھے ، مگر منزل کی طرف بڑھتے رہے ،کوئی اخبار نویس جمہوریت کا مخالف نہیں ہوسکتا ، سی پی این ای کی موجودہ قیادت نے بہت سے اقدامات اٹھائے ہیں ہم نے میٹ دی ایڈیٹرز کا انعقاد کرایا اور اخبارات کی بجائے عوامی فلاح کے لیے اعلانات کرائے ،سنتے تھے جج نہیں ان کے فیصلے بولتے ہیں لیکن آج کل ججز چھاپے مارتے اور لوگوں کو برا بھلا کہتے ہیں ،دوسری طرف اراکین پارلیمنٹ بھی سمجھتے ہیں کہ جب ووٹ لے لیے تو جو مرضی کرتے پھریں یہ دو انتہائیں ہیں ان کو ختم کرنا ہوگا،اداروں کے مابین تصادم کی فضا کو ختم کرنا ہوگا اس کے لیے ایڈیٹرز کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے تاہم ملک تصادم سے بچ سکے ۔

مہتاب خان نے کہاہے کہ موجودہ ملکی حالات میں ایسے سیمینار کی اشد ضرورت تھی اسوقت ملک میں بہت سے خطرات اور چیلنجز ہیں کہا جاتا ہے کہ میڈیا خبروں کو توڑ مروڑ کر پیش کر تا ہے ہم ذمہ دارہیں لیکن میڈیا حقائق دکھا تا اور لکھتاہے سی پی این ای کو چاہیے کہ قلم کی حرمت پر کسی قسم کا کوئی سمجھو تہ نہ کرے ۔ اکرام سہگل نے کہاکہ دہشتگر دی کی جنگ میں ہما رے ملک نے بہت قربانیاں دی ہم دنیا میں آزاد ترین میڈیا ہیں ہا ں کچھ مسائل ہیں لیکن مثبت جانب دیکھنے کی ضرور ت ہے ۔عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما افرا سیا ب خٹک نے کہاہے کہ پارلیمنٹ عوام کا منتخب ادارہ ہے اور عوام کے ہی اس کے پیچھے کھڑے ہونے سے یہ سپریم ہو گا ۔ آزادی صحا فت کے بغیر جمہوریت نہیں ہو سکتی پشتون علاقہ بہت ہے مگر پختونوں کا میڈیا نہیں ہے اس چیز کا ہمیں خیال رکھنا چاہیے ۔

ڈاکٹر جبار خٹک نے کہاکہ ملکوں کو ہمیشہ چیلنجز ہو تے ہیں ان چیلنجز کا مقابلہ کیا جاتا ہے اداروں کو اپنی حدود میں رہنا چاہیے میڈیا میں بے شمار لوگ ہیں جنہوں نے غداری کے سر ٹیفکیٹ بانٹنے شروع کر دیے ہیں ان کو یہ حق کس نے دیا ہے میڈیا کا کام عوام کے حقوق کا تحفظ اور جمہوریت کا استحکام ہے ۔شاہین قریشی نے کہاکہ میڈیا ایک آئینہ ہے اور ہم وہی دکھاتے ہیں جو ہورہاہوتاہے ،سوچنا ہوگا کہ آزادی صحافت پر کتنے حملے ہوئے اور کیوں ہوئے ؟ یہاں کیبل آپریٹر آپ کا چینل بندکرادیتاہے، آپ کا اخبار تقسیم کرنے سے روک دیا جاتاہے ، اس وقت عام معاشرے کی طرح میڈیا بھی دباکاشکارہے ،دھرنا کے موقع پر میڈیا میں واضح تقسیم دیکھنے کو ملی، سپریم کورٹ ایگزیکٹ معاملہ کو منطقی انجام تک پہنچائے ورنہ ملکی میڈیا اور صحافت کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوسکتاہے ۔

مزید : قومی