ایرانی صدر دلّی میں!

ایرانی صدر دلّی میں!
ایرانی صدر دلّی میں!

  

کل کے کالم میں عرض کیا تھا کہ ماضی میں قیامِ پاکستان سے لے کر تاحال، پاک ایران تعلقات کی صورتِ حال نشیب و فراز کا شکار رہی ہے۔ شاہِ ایران کے سقوط 1979)ء( سے پہلے کہا جاتا تھا کہ شاہ اور ان کی کابینہ کے تعلقات تو پاکستان سے گرم جوشانہ ہیں، جبکہ ایرانی عوام کے تعلقات پاکستانی عوام سے اگر کشیدہ نہیں تو کھچے کھچے ضرور تھے۔

کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ اس کی وجوہات مذہبی یا ملکی اختلافات کی وجہ سے تھیں یا کوئی اور وجہ تھی، لیکن جب جناب آیت اللہ خمینی کا دور شروع ہوا تو سرکاری اور عوامی سطح پر پاک، ایران تعلقات بس ’’نیمے دروں، نیمے بروں‘‘ ہی کی کیفیت سے گزرتے رہے۔ اگر آج دیکھا جائے تو ایران کا جھکاؤ ان پاکستانی ہمسایوں کی طرف زیادہ دوستانہ ہے جو پاکستان سے اللہ واسطے کا بیر رکھتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے ایرانی صدر جناب حسن روحانی نے بھارت کا تین روزہ دورہ کیا۔ یہ دورہ بھارتی وزیر اعظم کے مشرقِ وسطیٰ کے دوروں کے فوراً بعد اور تازہ تازہ تھا۔ خلیجی ممالک میں کوئی بھی ایسا عرب ملک نہیں جہاں شیعہ آبادی کی کثرت ہو، لیکن مودی کا سواگت جس طرح خلیج کی سُنی ریاستوں کے حکمرانوں نے کیا، وہ قابلِ غور ہے، تاہم اس کے باوجود حسن روحانی صاحب کا دورۂ بھارت بڑا کامیاب دورہ قرار دیا جارہا ہے۔

سُنی اور شیعہ تفریق کے علاوہ بھارت کی امریکہ سے دوستی اور ایران سے کشیدگی سب کے سامنے ہے، لیکن بھارت پھر بھی ایرانی حکمرانوں کی نگاہوں میں مقبولیت کے نئے جھنڈے گاڑ رہا ہے۔ انڈیا کا سارا میڈیا ایران کی تعریف میں زمزمہ سنج ہے۔

ہمارے پریس میں اس خبر کا شائد زیادہ نوٹس نہیں لیا گیا کہ یمن ایران اور اسرائیل کے مابین دشمنی کے بارے میں دورائیں نہیں ہوسکتیں، لیکن یہی اسرائیل انڈیا کو دفاعی سازوسامان برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ حالیہ برسوں میں اسرائیل نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیری حریت پسندوں کو اندھا کرنے اور ان کو موت کے گھاٹ اتارنے میں جو کردار ادا کیا ہے، وہ بھی دنیا بھر کے مسلمانوں کو یاد ہے، لیکن ان سب باتوں کے باوجود جناب حسن روحانی بھارت کی جمہوری قدروں کے مدح خوان ہیں۔۔۔ اگر ہم پاکستانی اس بات کو نگاہ میں رکھیں کہ ایران نے صرف اپنی اقتصادی مصلحتوں کو دوسری تمام مصلحتوں کے تابع کررکھا ہے تو شائد ہمیں معلوم ہو کہ گزشتہ برس 2017-18)ء( ایران نے 13بلین ڈالر کا تیل بھارت کو برآمد کیا!۔۔۔ مذہب، مسلک، اصول اور روایات ایک طرف اور اقتصادیات دوسری طرف۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ آغازِ تاریخ سے لے کر آج تک اقتصادی تقاضے ملکوں کی برادری میں اہم ترین کردار ادا کرتے چلے آئے ہیں اور کرتے چلے جائیں گے، لیکن ہم پاکستانی ایسا کیوں نہیں سوچتے، اس کا جواب قارئین خود تلاش کریں۔

بھارت کے اسی دورے میں ایرانی صدر نے دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:’’ انڈیا کو سلامتی کونسل میں ویٹو کا حق ملنا چاہئے۔ انڈیا بڑا پُر امن ملک ہے اور اس کی آبادی ایک ارب نفوس سے زیادہ ہے۔ کیا وجہ ہے کہ امریکہ کو تو ویٹو کا حق حاصل ہے، لیکن انڈیا کو نہیں۔

دنیا کے صرف 5 جوہری ممالک ایسے ہیں جن کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو کا حق حاصل ہے، لیکن انڈیا بھی تو ایک جوہری قوت ہے اسے یہ حق کیوں حاصل نہیں؟۔۔۔ ایک طویل مدت تک ایران کی تقدیر امریکہ کے ہاتھ میں رہی۔ امریکی ہماری معیشت اور ہماری ثقافت کا فیصلہ کیا کرتے تھے۔ ہمارے ٹیلی ویژن پر کوئی ایجوکیشنل چینل تک نہیں تھا اور ہماری تمام ملٹری چھاؤنیاں اور مراکز امریکیوں کے کنٹرول میں تھے‘‘۔

جناب روحانی نے یہ تقریر اس وقت کی جب انڈیا اور ایران دونوں چاہ بہار پورٹ کی توسیع وترویج کے سلسلے میں نو(9) معاہدوں پر دستخط کرچکے تھے۔ فرمایا گیا کہ چاہ بہار ایک سٹرٹیجک نوعیت کی بندرگاہ ہے اور انڈیا ایک ایسا ملک ہے جو پُر امن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے۔ جناب روحانی نے یہ کہہ کر گویا ’’حقیقتِ حال‘‘ کے تمام پردے چاک کردیئے کہ:’’ انڈیا اور ایران کے درمیان جو دوستانہ مراسم ہیں وہ کسی بھی تجارتی اور کاروباری مصلحتوں کے محتاج نہیں۔ ہمارے فنکار، ہمارے انجینئرز، ہمارے ریاضی دان، ہمارے دانشور اور ہمارے شعرأ ماضی کی تاریخ کا ایک انمٹ نشان ہیں۔ ہم ان دوستانہ اقدار کو مستقبل میں مزید فروغ دینے کے خواہاں ہیں۔۔۔ میں مستقبل میں چاہ بہار سے زاہدان تک ریل کی پٹڑی بچھانے کے منصوبے کو ابھرتا دیکھ رہا ہوں اور اس منصوبے میں انڈیا سرمایہ کاری کررہا ہے‘‘۔

قارئین کرام!کیا آپ کے ذہن میں جناب حسن روحانی کا نئی دہلی میں یہ وعظ سن کر کوئی خیال آیا کہ صدر موصوف کی انڈیا پر ان نوازشات کا سبب اور یہ صدقے واری جانے کا انداز کیا ہے؟۔۔۔ اگر خیالِ شریف میں نہیں آیا تو میں بتائے دیتا ہوں۔۔۔ ویسے تو پہلے بھی ایران کی پاکستان سے چشمک، بڑھ کر رقابت کی حدوں تک پہنچ چکی تھی، لیکن جب سے سی پیک کا منصوبہ تشکیل پانے لگا ہے، ایران اپنی بندرگاہ چاہ بہار کو پاکستانی گوادر کے برابر لانے اور دنیا میں متعارف کروانے میں پیش پیش ہے۔

یہ بھی تو ہوسکتا تھا کہ چین کے ’’وَن روڈ، وَن بیلٹ‘‘ منصوبے میں ایران بھی شریک ہوجاتا اور گوادر کی ڈویلپ منٹ میں پاکستان اور چین کی حمائت کرتا۔۔۔ لیکن ایرانیوں نے ایسا نہیں کیا۔ ان کو چین کی ترقی سے کچھ غرض نہیں۔ اگر کوئی پرخاش ہے تو پاکستان سے ہے۔

ان کی نگاہ میں سُنی اکثریت والا پاکستان، جس کے پاس تیل اور گیس کے ویسے ذخائر نہیں، جیسے ایران کے پاس ہیں، وہ ایران کی برابری کیسے کرسکتا ہے؟ ایرانی ہمیشہ پاکستان کی عسکری، سائنسی اور جوہری ترقی کو رقابت کی نظر سے دیکھتے رہے ہیں۔ قارئین یہ نہ سمجھیں کہ میں شائد ایران کی مخالفت اس لئے کررہا ہوں کہ میرا تعلق سُنی مسلک سے ہے یا کوئی اور وجہ ہے۔ میں نے اپنی سروس کے دوران کئی برس تک ایرانی ملٹری آفیسرز سے انٹر ایکشن کیا ہے۔

بطور انٹر پریٹر ان سے بارہا گپ شپ رہی ہے۔ اس تال میل اور بحث و مباحثے کے دوران میں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا کہ ایرانی، پاکستانیوں کے مقابلے میں ایک انجانے احساسِ برتری کا شکار ہیں۔ گزشتہ عشروں میں بالخصوص1980ء سے لے کر اب تک ایران نے مختلف جدید علوم و فنون میں ترقی کی ہے، لیکن ان کو یہ احساس ہمیشہ دامن گیر رہا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے مسلمان ممالک میں اگر کوئی ایک ملک ایران سے آگے نکل رہا ہے یا نکلنے کے امکانات کا حامل ہے تو وہ صرف اور صرف پاکستان ہے۔ یہ مسلم امہ کی بڑی بدقسمتی ہے کہ ایرانی، پاکستان کو اس نظر سے دیکھتے ہیں۔

ایران کے ساتھ ہماری سینکڑوں کلو میٹر کی مشترکہ سرحد ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ پاکستان دیر باجوڑ سے لے کر خوجک پاس تک جو 2300کلو میٹر کی جنگلہ بندی کررہا ہے، اس کو بڑھا کر ایران، پاکستان سرحد پر گوادر تک لانا پڑے گا۔

دیکھا جائے تو جس طرح پاکستان بھر میں ریلوں کا جال بچھا ہوا ہے، اس قسم کا کوئی انتظام ایران میں نہیں اور اگر چین سی پیک کے حصے کے طور پر حویلیاں سے خنجراب تک ریل کی دہری پٹڑی بچھا رہا ہے تو بھارت نے بھی چاہ بہار سے افغانستان تک ریلوے ٹریک بچھانے کا کام شروع کیا ہوا ہے۔

انڈیا، پاکستان کی گوادر کو بازوکش کرکے براستہ چاہ بہار افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں تک پہنچنا چاہتا ہے اور اس میں اسے مغربی ممالک (امریکہ اور یورپ) کی پوری پوری اشیرباد حاصل ہے۔ آپ نے یہ بھی نوٹ کیا ہوگا کہ گزشتہ برس چینی کنٹینروں کا پہلا قافلہ ارومچی سے چل کر براستہ خنجراب گوادر پہنچا تھا اور وہاں سے بحری جہازوں کے ذریعے یہ چینی کارگو بحیرۂ عرب کی راہ افریقہ اور یورپی ممالک کو بھیجا گیا تھا۔ یہ قافلہ اُس تجربے کا آغاز تھا جو سی پیک کی تکمیل کے بعد حقیقت بننے والا ہے اور آپ نے یہ بھی نوٹ کیا ہوگا کہ بھارت نے بھی پچھلے دنوں چاہ بہار کی راہ افغانستان کو گندم وغیرہ کی سپلائی شروع کرکے گویا سی پیک (CPEC) کی جگہ آئی آئی ای سی (I.I.E.C) یعنی ’’انڈیا، ایران اکنامک کاریڈار‘‘ کا افتتاح کردیا تھا!۔۔۔اللہ اللہ خیر سلا!

پاکستان کو اگر ایران کا مقابلہ کرنا ہے تو اس کے سامنے دفاعی سازوسامان کی برآمدات کا راستہ کھلا ہے۔ یہ برآمدات افریقی اور چند ایشیائی ممالک کو کی جاسکتی ہیں۔ پچھلے دنوں اردن کے شاہ عبداللہ پاکستان کے دورے پر آئے تھے تو ان کو جس طمطراق سے رخصت کیا گیا تھا اور جس طرح وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور ہمارے ائر چیف نے ان کو الوداع کہا تھا اور جس طرح ان کی روانگی پر JF-17 تھنڈر طیاروں کی نمائش کی گئی تھی اس سے مجھے ’’اندازہ‘‘ ہوا تھا کہ شائد ’’رائل جارڈن ائیر فورس‘‘۔۔۔Royal Jordan Air Force۔۔۔ ان طیاروں کا کوئی بڑا آرڈر پاکستان کو دینے والی ہے۔

طیارہ سازی، میزائل سازی، ڈرون سازی وغیرہ جیسے عسکری منصوبوں میں پاکستان کو ایران پر سبقت حاصل ہے۔ ہمیں اس برتری کو کیش کروانا چاہئے۔۔۔ہم نے سعودی عرب میں اپنے ٹروپس بھیج کر ایران کو خوش نہیں کیا اور آپ نے دیکھا کہ ایرانی صدر نے دلی میں جاکر کس کس پیرائے میں انڈیا کی تعریف و توصیف کی ہے۔ ہمارے کسی مسلمان ہمسایہ ملک کا انڈیا میں جاکر اس قسم کی ’’خیر سگالی‘‘ کا مظاہرہ کرنا اگر انڈیا کے لئے باعثِ طمانیت ہے تو پاکستان کے لئے باعثِ اضطراب ہونا چاہئے!

مزید : رائے /کالم