چار روزہ ’’پِلاک کلچرل فیسٹیول‘‘ ملک کے نامور فنکاروں کی یادگار پرفارمنس

چار روزہ ’’پِلاک کلچرل فیسٹیول‘‘ ملک کے نامور فنکاروں کی یادگار پرفارمنس

حسن عباس زیدی

زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات کی شرکت

پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج، آرٹ اینڈ کلچر (پِلاک)، محکمہ اطلاعات و ثقافت، حکومت پنجاب کے زیر اہتمام چار روزہ ’’پِلاک کلچرل فیسٹیول‘‘ بھرپور طریقے سے منایا گیا۔ فیسٹیول کے چاروں روز مختلف سیشن منعقد ہوئے۔دوسرے روز کے پہلے سیشن کی میزبانی کے فرائض وجاہت مسعود نے ادا کئے جبکہ قاضی جاوید، اوریا مقبول جان اور ڈاکٹر حسین پراچہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے مذہب اور کلچر کے درمیان تعلق اور ان کی جداگانہ حیثیت کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی۔دوسرے سیشن ’’بولیاں، ٹپے تے ماہیے‘‘ میں ممتاز ملک کی میزبانی میں مبینہ اکبر، ناصر بیراج، ارشد علی، عروج علی اور مجاہد منصور ملنگی نے پنجاب کی بولیاں، ٹپے اور ماہیے مخصوص انداز میں پیش کر کے شائقین کے دل موہ لئے۔ تیسرے سیشن ’کلچر تے ملکی ہم آہنگی‘ کی میزبانی کرتے ہوئے ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات و ثقافت ثمن رائے نے کہا کہ ثقافت ایک سائنس ہے جس کے ذریعے لوگوں میں ہم آہنگی پیدا کی جا سکتی ہے۔ اس سیشن میں باچا خان یونیورسٹی چارسدہ سے ڈاکٹر بدر الحکیم، مشہور تجزیہ کار فرخ سہیل گوئندی، سندھ سے انور چانڈیو، گوجرانوالہ سے احسان رانااور آفتاب جاوید نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے ملکی ہم آہنگی میں ثقافت کے کردار پر روشنی ڈالی۔ چوتھے سیشن ’کلچر تے موسیقی‘ میں ڈاکٹر سعادت علی ثاقب کی میزبانی میں ڈاکٹر غزالہ عرفان، ڈاکٹر امجد پرویز، ایوب اولیاء اور ناصر بلوچ نے ثقافت اور موسیقی کے ربط پر گفتگو کی۔ یوسف پنجابی کی میزبانی میں پنجابی ناٹک ’’سوہنی مہینوال‘‘ بھی پیش کیا گیا جس میں مشہور لوک داستان کی بھرپور عکاسی کی گئی۔ فضل جٹ نے بھی لوک داستانیں پیش کیں۔ ’’غزل گائیکی‘‘ کی میزبانی انعام خان نے کی جس میں شہنشاہِ غزل غلام علی، خلیل حیدر، شازیہ خان، نعیم مہدی، سجاد بری اور سہیل اخلاق نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ اس کے بعد فلمسٹار شان کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل پِلاک ڈاکٹر صغرا صدف نے ان سے پنجاب کی ثقافت اور اس کے فروغ میں میڈیا کے کردار پر تبادلۂ خیال کیا۔ اس موقع پر شان نے کہا کہ پنجاب کی ثقافت کو فروغ دینے کے لئے اس طرح کے فیسٹیولز کے انعقاد کے ساتھ ساتھ پنجابی فلم انڈسٹری کی ترویج کے اقدامات بھی اٹھائے جانے چاہئیں۔ بعد ازاں کلاسیکل گائیکی کے تحت پٹیالہ گھرانے کے عظیم گلوکار استاد حامد علی خاں، نایاب حامد علی خان، انعام حامد علی خان اور ارشد فتح علی خان (شاگرد پٹیالہ گھرانہ) نے اپنے فن سے حاضرین کو محظوظ کیا۔ میزبانی کے فرائض ڈاکٹر عمر عادل نے سرانجام دیئے۔ چولستانی گلوکاروں اور فنکاروں اجمل بھیل، بگھو جی بھیل، کیتھا جی، مِٹھو بھیل اور ساجن بھیل نے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے چولستانی ڈانس پیش کیا۔ تقریب کے آخر میں مشہور گلوکار ندیم عباس لونے والا، ماہم رحمن، صائمہ جہاں، عدیل برکی اور ذیشان مغل نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ ہزاروں کی تعداد میں موجود حاضرین نے گلوکاروں کے فن کو سراہتے ہوئے بھنگڑے اور دھمال ڈال کر ان کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ پِلاک کی جانب سے اس دن کو پہلی دفعہ ’’پنجاب کلچر ڈے‘‘ کے طور پر خصوصی جوش و خروش سے منایا گیا جس میں تمام ملازمین اور شرکاء نے روایتی لباس پہن کر پنجاب کی ثقافت کو تازہ کیا اور حاضرین میں ادارے کی طرف سے پگڑیاں اور چنری بھی تقسیم کی گئیں۔ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج، آرٹ اینڈ کلچر (پِلاک)، محکمہ اطلاعات و ثقافت، حکومت پنجاب کی طرف سے 18 فروری 2018ء کو چار روزہ ’’پِلاک کلچرل فیسٹیول‘‘ کا اہتمام کیا گیا جس کا افتتاح معروف صوفی ادیب بابا محمد یحییٰ خان نے کیا۔ انہوں نے پِلاک حکومت پنجاب کی کاوشوں کی بھرپور تعریف کی اور لوگوں کو عارفانہ کلام اور مثبت انداز کی سرگرمیوں کے ذریعے امن اور محبت کی طرف لے جانے کے عمل کو سراہا۔ ڈاکٹر صغرا صدف، ڈائریکٹر جنرل پِلاک نے مہمانوں کو گلدستے پیش کر کے خوش آمدید کہا۔ افتتاح کے بعد پپو سمراٹ کی ٹیم نے صوبہ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخواہ، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے روایتی رقص پیش کر کے سماں باندھ دیا۔ فیسٹیول میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ جانی جی دار کے ڈھول کی تھاپ پر لوگوں نے خوب بھنگڑے ڈالے۔ معروف گلوکار رفاقت علی اور صنم ماروی نے اپنے مخصوص انداز میں گیت اور عارفانہ کلام پیش کر کے حاضرین سے خوب داد وصول کی۔ سجاد بیلا نے شاہ حسین کی کافیاں، امن علی نے گیت اور علی محسن نے رقص پیش کیا۔ آخر میں ڈاکٹر صغرا صدف، ڈائریکٹر جنرل پِلاک نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اعلان کیا کہ 19 فروری کو پہلی دفعہ پِلاک کی طرف سے ’’پاکستان کلچر ڈے‘‘ منایا جائے گا۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ پِلاک اس طرح کے میلے اور فیسٹیول آئندہ بھی منعقد کرتا رہے گا تا کہ لوگوں کو اچھی اور معیاری تفریح کے مواقع ملنے کے ساتھ ساتھ ہماری ثقافت کی ترویج ہو سکے۔ یاد رہے کہ کلچرل فیسٹیول 18 سے 21 فروری 2018ء تک جاری رہے گا جس کے دوسرے دن 19 فروری 2018ء کو ’کلچر اور مذہب‘، ’کلچر اور ملکی ہم آہنگی‘ اور ’کلچر اور موسیقی‘ اور دیگر موضوعات پر مختلف سیشن منعقد ہوں گے جن میں معروف سکالر اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ اس کے علاوہ معروف فلمسٹار شان اور یوسف صلاح الدین سے ملاقات کے ساتھ ساتھ شہنشاہِ غزل غلام علی، خلیل حیدر، پٹیالہ گھرانے کے استاد حامد علی خاں، نایاب حامد علی خاں، انعام حامد علی خاں، ندیم عباس لونے والا، صائمہ جہاں، طارق طافو، عدیل برکی، رابی پیر زادہ کے علاوہ چولستانی و دیگر گلوکار اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔ 

مزید : ایڈیشن 1