ماں بولی کا عالمی دن منایا گیا‘ سیمینارز ، تقریبات ، ریلیاں نکالی گئیں

ماں بولی کا عالمی دن منایا گیا‘ سیمینارز ، تقریبات ، ریلیاں نکالی گئیں

ملتان، رحیم یار خان، لیاقت پور، نور پور رنگا، منظور آباد مڑل، مٹھن کوٹ، تونسہ شریف (سٹی رپورٹر، نمائندگان) ماں بولی کے عالمی دن پر ملتان سمیت مختلف شہروں میں سیمینارز اور (بقیہ نمبر16صفحہ12پر )

تقریبات کا انعقاد کیا گیا اور ریلیاں نکالی گئیں اس سلسلہ میں ملتان سے سٹی رپورٹر کیمطابق پاکستانی زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دلوانے کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے اور اس وقت تک خاموش نہیں ہونگے جب تک ابتدائی تعلیم ماں بولی میں رائج نہیں ہوگی ۔ ان خیالات کااظہار سرائیکستان قومی کونسل کی طرف سے ماں بولی کے عالمی دن کے موقع پر منعقد کئے گئے سیمینار سے سرائیکی رہنماؤں ظہور دھریجہ ، ملک اللہ نواز وینس ، ممتاز حیدر ڈاہر ، انجینئر شاہ نواز مشوری،سرائیکی پروفیسر الطاف ڈاہر ، سرائیکی لیکچررصابر شفیق ، ماسٹر مبین احمد ،ملک سراج احمد، زبیر دھریجہ، افضال احمد، میر خاور، شبیر بلوچ، خالد سرائیک اورآصف ہمڑ نے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہو ں نے کہا کہ دنیا میں کوئی ایسا انسان نہیں جسے اپنی ماں بولی سے محبت نہ ہو ،زبانوں کو حقوق دینے سے ملک مضبوط اور مستحکم ہوگا ۔ہمارا مطالبہ ہے کہ حکمران پاکستان میں بولی جانے والی معروف زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دیں اور وہ زبانیں جن کے بولنے والوں کی تعداد کم ہے ان کے تحفظ اور ترقی کیلئے اقدامات کئے جائیں دریں اثناء بلوچ اتحاد کونسل کے چیئرمین عرفان خان رند نے کہا ہے کہ ماں بولی اظہار کا ذریعہ ہے ماں بولی سے محبت ایک فطری عمل ہے جنوبی پنجاب میں بسنے والی بلوچ قوم کی مادری زبان سرائیکی ہے اس لئے بلوچ قوم جنوبی پنجاب پر مشتمل الگ صوبہ سرائیکستان کے قیام کا مطالبہ کرتی ہے جبکہ پرائمری تعلیم مادری زبان میں رائج کی جائے ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچ اتحاد کونسل کے زیر اہتمام ماں بولی کے عالمی دن کے موقع پر نواں شہر چوک پر منعقدہ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ عرفان خان رند نے کہا کہ ماں بولی کے دن بلوچ قوم سمیت تمام قوموں کو بنیادی حقوق دیئے جائیں گے اور ان کا تحفظ یقینی بنایا جائے انہوں نے کہا کہ غازی میڈیکل کالج ڈیرہ غازی خان میں بلوچ سٹوڈنٹس کو کوٹہ دیا جائے اس موقع پر صادق خان لاشاری، مشتاق خان بروہی، میجر ریٹائیرڈ سکندر حیات خان، یونس خان جسکانی، اکمل خان بلوچ، رشید لغاری، نصراللہ خان رند، زبیر خان بلوچ، صفدر بلوچ، اللہ وسایا رند، وسیم خان بلوچ، ذولفقار بلوچ، کریم بخش بلوچ، عمران بلوچ، عبدالستار بلوچ، عثمان بلوچ، روشن خان بلوچ، مدنی خان بلوچ، حمزہ بلوچ، سرفراز خان بلوچ، منظور خان گرمانی،عمیر بلوچ و دیگر نے شرکت کی۔رحیم یار خان سے بیورو نیوز کیمطابق ماں بولی کے عالمی دن کے موقع پر وسیب اتحاد کے زیر اہتمام ریلی کا انعقاد کیا گیا ،ریلی پل دڑی سانگی سے شروع ہوکر ڈسٹرکٹ پریس کلب اختتام پزیر ہوئی۔ ریلی میں اونٹ وگھوڑا ڈانس کے ساتھ ساتھ جھومرپارٹی نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ریلی کی قیادت وسیب اتحاد کے سرپرست معروف قانون دان ریئس ممتار مصطفی و ڈسٹرکٹ بار کے صدر محمد فاروق ورندو جنرل سیکرٹری مبشر نزیر لاڑ نے کی جبکہ انصاف سپورٹس اینڈ کلچر فیڈریشن کے ڈویڑنل صدر مون چوہان،نائب صدر زاہد سانگی،عمارنذیر بلوچ،حسن نواز خان نیازی ،عامر ندیم ایڈووکیٹ،اظہر خان گوپانگ،شاہد محمود کانجو،وڈیرہ عاشق سانگی، سمیت سینکڑوں افرادنے ریلی میں شریک ہو کر ماں بولی کی اہمیت بارے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ریلی کے اختتام پر ماں بولی کے حولے سے سیمینار کا انعقاد بھی کیا گیا لیاقت پور سے نامہ نگار کیمطابق مادری زبانوں کے فروغ اور ترویج سے سماجی ہم آہنگی اور قومی وقار میں اضافہ ہو گا ملک میں بولی جانے والی تمام زبانوں کو جائز مقام اور احترام دیا جانا چاہیے انسانیت کی بنیاد پر ترجیحات کے تعین کی سوچ قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتی ہے ا ن خیالات ماں بولی کے عالمی دن کے موقع پرمختلف نمائندہ شخصیات نے گفتگو کے دوران کیا سنگت ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے سیکرٹری اطلاعات وحید اسلم رشدی ،سرائیکستان ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما لالہ محمد اقبال بلوچ ، آس ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کی نائب صدر نگہت چوہدری،مسلملیگ (ن) یوتھ ونگ کے ڈویثرنل صدر عامر فاروق یزدانی ،میونسپل کونسلر صلاح الدین موہل ایڈووکیٹ ، وسیب دوست گروپ کے صدر اظہر خان بلوچ ،سول سوسائٹی فورم کے کنونےئر چوہدری وقار احمد ،حاجی محمد طارق علوی ،روبینہ انجم ،ثناء اورنگزیب نے کہا کہ مادری اور قومی زبانوں پر بدیشی زبانوں کی فوقیت دے کر مسلط کرنا افسوسنا ک ہے ماں بولی کے عالمی دن کے موقع پر سرائیکستان ڈیموکریٹک پارٹی اور وسیب دوست گروپ کے زیر اہتمام کچی منڈی لیاقت پور میں ریلی نکالی گئی جس کی قیادت لالہ محمد اقبال ،اظہر خان بلوچ ،جام جاوید اقبال اور وقار بھٹی نے کی اس موقع پر جمیل احمد ،دلشاد بلوچ ،سعید خان اور دیگر کارکنان بھی موجود تھے نور پور رنگا سے نمائندہ پاکستان کیمطابق مادری زبان انسانی شناخت ، تشخص اور کردار سازی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ انسان کی تخلیقی صلاحیتوں کا سب سے بہترین اظہار بھی مادری زبان میں ہی ممکن ہے ۔علاقائی مادری زبانیں منفرد انداز فکر اور حسن رکھتی ہیں۔دنیا میں بولی جانے والی تمام زبانوں کے فروغ کے ذریعہ ہی عالمی ثقافتی اور لسانی ہم آہنگی اور اتحاد کو قائم کیا جاسکتا ہے۔ان خیالات کا اظہار معروف سیاسی و سماجی راہنما چوہدری فاروق احمد نے مادری زبان کے عالمی دن کے موقع پر ایک بیان میں کیا۔ منظور آباد مڑل سے نمائندہ پاکستان کیمطابق پاکستان سرائیکی پاٹی کے زیر اہتمام ماں بولی کے عالمی دن کے حوالے سے بھاولپور میں سیمینار منعقد ہوا جس میں پاکستان سرائیکی پارٹی کے عدیداران کے علاوہ سیاسی سماجی شخصیات اور دانشوروں نے شرکت کی اور ماں بولی کے عالمی دن کی حیثیت اہمیت اور افادیت پر اپنی اپنی آراء کا اظہار کیا پروفیسر ڈاکٹر عصمت اللہ شا ہ اور ذولقرنین جتوئی نے خصوصی خطاب کیا ۔نامور سماجی شخصیت و صحافی ریاض بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماں بولی کی آفادیت کے بارے میں خصوصی طور پر پروگرام کا انعقاد کیا جائے گا جس میں سرائیکی ادب و ثقافت کے ساتھ سرائیکی شاعری کا پروگرام کیا جائے گا ۔پاکستان سرائیکی پارٹی کے ضلعی صدر جام یاسر الطاف ایڈوکیٹ نے خطاب میں کہا کہ سرائیکی زبان اکثریتی زبان ہے اس کو دوسری زبانوں کی طرح قومی درجہ دیا جائے موقع پر ملک صابر حسان ، شیراز محمد خان ایڈوکیٹ ،راؤ ظفر نواز ایڈوکیٹ ، ملک محمد حسنین جوئیہ ،ملک طالب حسین کلیار ، ملک ذوالقرنین جوئیہ ، ملک عابد رٹہ، محمد تنویر خان لنگاہ، جام ابراہیم بھی شریک تھے ، سراج محمد خان اور راؤ ظرف نواز ایڈوکیٹ نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔ مٹھن کوٹ سے نمائندہ خصوصی، نامہ نگار کیمطابق سرا ئیکستان قومی اتحاد کے زیر اہتما م عا لمی ما ں بو لی دن کے حوا لے سے جھو ک فر ید ؒ میں سرا ئیکی یکجہتی کا نفر نس کا انعقا د ہو ا جس کی صدارت ایس کیو آئی کے سر برا ہ خوا جہ غلام فرید کو ر یجہ نے کی اس کا نفر نس میں صا دقیہ فا ؤنڈ یشن کے چیئر مین صاحبزدہسید عا شق رسول شا ہ بخاری ، جما عت اہل سنت کے ضلعی امیر قا ری خو رشید احمد ، جا م فیض اللہ ، مو لا نا محمد حسین سلطا نی ، اللہ دتہ بد نام ،عا بد سلطا نی ،شفیق سا نگھی ،شعیب پنوار ،محمد بخش برا ٹھا ،سجا د سا قی ،میا ں اللہ بخش ،سلیم جتو ئی ،نا صر سو مرہ ،الطا ف لا کھا ، شہزا د فرید ی ، سا جد عمرا نی نے بھی خطاب کیا کا نفر نس سے خطا ب کرتے ہو ئے ایس کیو آئی کے سر برا ہ خوا جہ غلام فرید کو ر یجہ نے کہا کہ پا کستا ن کی زبا نو ں کو قومی زبا نو ں کا در جہ دیا جا ئے پنجاب بڑا صو بہ ہے پنجا بی ، اور سرا ئیکی کو پرا ئمری سطح پر را ئج کیا جا ئے دیگر زبا نیں ہما رے نصا ب کا حصہ لیکن پا کستا ن کی زبا نیں اور ہما ری ما دری زبان سرا ئیکی تعلیمی زبا ن نہ ہو نے سے ہم اپنے تا ریخی اکا بر ین کی فکر سے نا واقف ہیں پا کستان کے وفاق کو متوازن کر نے کیلئے سرا ئیکی صو بے کا قیام عمل میں لا یا جا ئے علا مہ محمد حسین سلطا نی نے دعا کرا ئی تونسہ شریف سے تحصیل رپورٹر کیمطابق ماں بولی کے عالمی دن کے موقع پر تونسہ شریف کے مقامی سکول میں سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے محمد ریاض بلوچ نے ماں بولی کی اہمیت پر روشنی ڈالی مقصود لاشاری بہادر خان وومن یونیورسٹی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملکی ترقی کے لئے ضروری ہے ماں بولی پر فوکس کیا جائے پروفیسر طارق بلوچ نے کہا کہ اس طرح کہ سیمینار تونسہ شریف میں سرکاری سطح پر ہونے چاہیں پروفیسر اصغر خان لاشاری نے کہا کہ مادری زبان میں بچوں کو تعلیم کے مثبت نتائج مرتب ہوتے ہیں سینئر صحافی حماد اصغر گاڈی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے نصاب میں ماں بولی نہ ہونے سے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے میں دشواریاں ہیں مقررین نے سیمنیار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپر پنجاب کے پنجابی سرائیکیوں سے نفرت کرتے ہیں مقررین نے کہا کہ اول سے لے کر دسویں تک نصاب مادری زبان میں ہونا چاہئے اس موقع پرتونسہ پاور یونین سٹوڈنٹ کے محمد صدام حسین‘ مجاہد بزدار‘ شکیل احمد‘ قدیر احمد نے بھی خطاب کیا۔

مزید : ملتان صفحہ آخر