توہم پرست وزیراعظم

توہم پرست وزیراعظم
توہم پرست وزیراعظم

  

میں شاعر ہوتا تو عمران خان صاحب کی شادی پر سہرا لکھتا مگر پہلی بات یہ کہ میں شاعر نہیں ہوں ، تک بندی ضرور کرلیتا ہوں مگر اس میں بحر، ردیف اور وزن کی خامیاں اتنی کثرت سے موجودہوتی ہیں کہ خود کو شاعرتسلیم نہ کرنے میں ہی عزت بچتی ہے، کئی بار سوچا کہ عروض پر ہاتھ صاف کروں مگر شاعری سے بھی دلفریب غم روزگار کے ہیں جو موقع ہی نہیں دیتے۔ سہرا نہ لکھ پانے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اب یہ کہاں کی منطق ٹھہری کہ خان صاحب شادیاں کرتے چلے جائیں اور شاعر سہرے لکھتے چلے جائیں۔ آپ اس کا انطباق کالم نگاروں پر بھی کر سکتے ہیں کہ میرے قلم میں ابھی تک ان کالموں کا مزا باقی ہے جو میں نے محترمہ ریحام خان سے ان کی شادی کے موقعے پر لکھے تھے۔ میری بات تو ایک طرف رہی اب تووہ کارکن بھی خان صاحب کو طعنوں پرمبنی ویڈیوز ریلیز کررہے ہیں جو اس سے پہلے بھابھی زندہ باد کے نعرے لگاتے اور بھنگڑے ڈالتے ہوئے نظر آتے تھے۔

یہ کالم پاکستان تحریک انصاف کے من موجی سربراہ کی تیسری ( یا چوتھی) شادی کے بارے ہرگز نہیں ہے کہ یہ ان کا ذاتی مسئلہ ہے کہ وہ کس سے شادی کرتے ہیں اور کس کو طلاق دیتے ہیں اگرچہ صحافت کے ماہرین کے مطابق کسی بھی سیاسی رہنما کی ایسی کوئی بھی حرکت مکمل طور پر رپورٹ اور تبصرے کئے جانے کے قابل ہے کہ فیصلہ سازوں کی ذاتی زندگیاں ریاستوں کی پالیسیوں کی تشکیل میں اہم کردارادا کرتی ہیں اور عمران خان کی شادی میں جو عنصر بہت زیادہ گرفت میں لئے جانے کے قابل ہے وہ ان کی توہم پرستی ہے۔ میں نے رائے عامہ کے ان جائزوں کو دیکھا ہے جن میں پوچھا جا رہا ہے کہ عمران خان صاحب کی یہ شادی ذاتی زندگی میں خوشی کے حصول کے لئے ہے یا وزیراعظم بننے کے لئے توہم پرستی کا سہارا لیا گیا ہے۔ مجھے الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر باخبر رہنے والوں کی بھاری اکثریت کی جانے والی ا س رائے پر کوئی حیرت نہیں ہوئی کہ تحریک انصاف کے سربراہ نے یہ شادی محض وزارت عظمیٰ کے حصول کے لئے کی ہے کیونکہ ان کو یقین دلا دیا گیا تھا کہ اگر وہ بشریٰ بی بی المعروف پنکی صاحبہ سے شادی کر لیں گے تو وہ وزیراعظم بن جائیں گے۔ عمران خان اس سے پہلے بھی پاک پتن جاتے رہے ہیں بلکہ ایک موقعے پر تو وہ حج جیسے ارادے کو منسوخ کر کے وہاں گئے تھے۔اس وقت شادی کا غلغلہ نہیں تھا اور مجھے اس دورے پر انتہائی حیرت ہوئی تھی جو اب دور ہو چکی ہے۔

کچھ دوستوں کا دعویٰ ہے جس کی تصدیق اور تردید دونوں اپنی جگہ باقی ہیں کہ حالیہ شادی کے موقعے پر عمران خان صاحب بہت زیادہ مذہبی ہو چکے ہیں، وہ پانچ نہیں بلکہ اشراق اور چاشت سمیت سات سے بھی زیادہ نمازیں ادا کرنے لگے ہیں ،ان کے دم درود اور وظیفوں کی تعداد بھی بہت بڑھ چکی ہے جو ا س سے پہلے محترمہ بے نظیر بھٹو کی طرح تسبیح کے دانے پھیرنے تک محدود تھی۔ میں سمجھتا اور مانتا ہوں کہ شادی کی طرح مذہب بھی انسان کا ذاتی معاملہ ہے، یہ اس کا اس کے رب کا تعلق ہے جسے آشکار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے مگر سوچتا ہوں کہ کیا وہ انہی کتوں کے ساتھ رہتے ہوئے اتنے تبدیل ہوگئے ہیں جوان کے گھر کی تصویروں میں مہمانوں کے سامنے میزوں پر بیٹھے ہوئے نظر آتے تھے اور جن کے بارے مشہور ہوا تھا کہ وہ رات کو سوتے وقت بھی ان کے ساتھ ہوتے تھے۔میرا خیال ہے کہ جب انسان مذہبی ہوجائے تو پھر اس کی عادت اور فطرت کا اظہار اس کے معمولات اور کردار میں بھی ہونا چاہئے۔ اسے جھوٹ سے گریز کرنا چاہئے۔ اسے دوسروں کے معاملات میں ٹوہ لگانے سے گریز کرنا چاہئے ۔ اسے حق کا ساتھ دینا چاہئے اور باطل سے گریز کرنا چاہئے۔ عمران خان اس وقت سیاسی اور جمہوری سوچ سے قطعی لاتعلق ہوتے ہوئے ایک تحریک چلانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں اور میرا خیال ہے کہ انسان کی زندگی میں بعض اوقات غلط فیصلے کرنے کا دور آتا ہے اور پھر ہر فیصلہ ہی غلط ہونے لگتا ہے۔

کالم کا اصل موضوع عمران خان صاحب کی شادی نہیں ہے بلکہ وہ خواہش ہے جو اب مذاق بن چکی ہے یعنی بہر صورت وزیراعظم بننے کی خواہش۔ عمران خان نے خودکو وزیراعظم دیکھنے کے لئے دھرنے دینے سے مقتدر حلقوں کی ترجمانی تک ہر حربہ آزما لیا او ر اگر کوئی رہ گیا تھا تو وہ یہی تھا کہ تعویذ گنڈے کروا لئے جائیں، ان سے رابطہ کریں جو محبوب کو آپ کے قدموں میں لاگرانے کے دعوے کرتے ہیں۔ کچھ بدتمیز قسم کے لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر کسی پیرنی میں یہ طاقت ہوتی کہ وہ کسی کو وزیراعظم بنا دیتی تو اس کا پہلا خاوند ہی وزیراعظم ہوتا، اسے پانچ بچوں کی موجودگی اور تیس برس کی رفاقت کے بعد طلاق نہ لینا پڑتی۔ میں خان صاحب کی اہلیہ کا احترام کرتا ہوں مگر وہ جس کام میں پڑ گئی ہیں وہاں انہیں لوگوں کی باتیں سننی پڑیں گی جو اس وقت سوشل میڈیا پر زور و شور سے جاری ہیں۔میں خیال کرلیتا ہوں کہ عمران خان وزیراعظم بن جاتے ہیں اور کسی ایسے چور راستے سے بن جاتے ہیں جو ماضی میں کھلا رہا ہے اور اب بھی اس کے مکمل بند ہونے کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا، میرا یہ خیال اس لئے بھی ٹھیک ہو سکتا ہے کہ عمران خان مقتدر حلقوں کی خواہشات پر اپنی پارٹی کو ایک اور تحریک کی بھینٹ چڑھانے جا رہے ہیں حالانکہ یہ وہ موقع ہے جب انہیں انتخابی حلقوں ، امیدواروں ، منشور اور مہم کے بارے میں سوچنا چاہئے ۔ وہ اس وقت جلسے کر رہے تھے جب جلسے کرنے کا کوئی موسم یعنی انتخابات کا زمانہ ہی نہیں تھا اور جب ان کے سب سے بڑے مخالف نے بڑے بڑے جلسے اور عوامی رابطہ مہم شروع کی ہے تو ان کی مصروفیات کچھ اور ہو چکی ہیں بہرحال ہو سکتا ہے کہ کچھ مقتدر قوتوں کو ان کی یہ وفا بھا جائے اور وہ کسی طرح سے وزیراعظم کی کرسی پر بٹھا دئیے جائیں کہ اس کرسی پر اگر شوکت عزیز اور ظفر اللہ خان جمالی جیسے نمونے بٹھائے جا سکتے ہیں تو ان کی مقبولیت تو اس دور میں بھی چودھری شجاعت حسین سے کہیں زیادہ ہے۔

میں زبردستی خود کو رائے عامہ سے الگ کرتے ہوئے تصور کرلیتا ہوں کہ میرا وزیراعظم وہ شخص بن گیا ہے جس نے تعویذوں ، گنڈوں اور عملیات کے ذریعے وزارت عظمیٰ حاصل کی ہے۔ مجھے معذرت کے ساتھ کہنے دیجئے کہ میں یہاں بشریٰ بی بی کے اس زبان زد عام ہوجانے والے خواب کا حوالہ نہیں دے سکتا جس کی حقیقت میری نظر میں طاہر القادری کے ان خوابوں جیسی ہے جن میں انہوں نے میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت اور پیشین گوئیوں کا دعویٰ کیا تھا۔میں سوچتا ہوں کہ ایسا توہم پرست شخص وزیراعظم بن گیا تو کیا پھر اس بے چاری قوم کے مقدر کے فیصلے فال نکال کے ہوا کریں گے۔ انہیں اتنا بتا دیجئے کہ توہم پرستی کے علم کے مطابق موصوف نے جب سے اپنے ستارے ملائے ہیں تب سے ان کے جلسے خالی جا رہے اوروہ انتخابات مسلسل ہارے جا رہے ہیں۔

مزید : رائے /کالم