نواز شریف کی ووٹ کے تقدس ، عدلیہ میں اصلاحات کی بات مذاق

نواز شریف کی ووٹ کے تقدس ، عدلیہ میں اصلاحات کی بات مذاق

لاہور(نمائندہ خصوصی )چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے نواز شریف عدلیہ میں اصلاحات نہیں چاہتے۔ان خیا لا ت کااظہار انہوں نے گزشتہ روز گلبرگ میں مرحومہ عاصمہ جہانگیر کی رہائش گاہ پر ان کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ، بلاول بھٹو کامزید کہنا تھا ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں انسانی حقوق کو تحفظ حاصل ہو۔ عاصمہ جہانگیر تمام افراد کیلئے یکسا ں ماحول چاہتی تھیں اور ترقی پسند پاکستان کی حامی تھیں۔ ترقی پسند شہر لاہور دنیا کیلئے مثال تھا لیکن آج یہ شریفوں کے ہاتھوں میں آ گیا ہے ، عوام کو پْرامن اور ترقی پسند لاہور واپس دلائیں گے۔بلاول بھٹو نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا (ن) لیگ عد التوں کو ڈکٹیٹ کرنا چاہتی ہے، شہباز شریف اور سیف الرحمان نے ججز کو دھمکیاں دیں، ہم عدالتوں کو دھمکیاں دینے کی بھر پو رمذمت کرتے ہیں۔ نوازشریف کے ووٹ کے تقدس کی بات مذاق ہے،وہ پارلیمنٹ کا سہارا اس وقت لیتے جب وہ 4 سال تک وزیر ا عظم تھے لیکن اس وقت وہ قومی اسمبلی اور سینیٹ نہیں آتے تھے۔ آئین پارلیمنٹ سے بالاتر ہے لیکن پارلیمنٹ ہی آئین کو بناتی ہے اور تبد یل کرسکتی ہے۔ جانتے ہیں پارلیمنٹ کے پاس کئی اختیارات ہیں اور ہم انتخابی اصلاحات بھی چاہتے ہیں لیکن نواز شریف کے ارادوں پر شک ہے، کوئی بھی تنہا عدالتی اصلاحات نہیں کر سکتا، اس کیلئے مل کر بیٹھنا ہو گا۔ نوازشریف کا اپوزیشن کا کردارادا کرنا کسی طور جائز نہیں کیونکہ (ن) لیگ کے پاس وفاق، پنجاب، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی حکومت ہے، وفاقی حکومت رونا دھونا بند اور اپنا کام کرے۔نیب کے حوالے سے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا سندھ اور پنجاب کے سیاستدانوں میں فرق کیوں کیا جاتا ہے، نیب پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ؤ ں کو فوری گرفتارکر لیتا ہے جبکہ نوازشریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے میں ہچکچاہت دکھائی جا رہی ہے۔نقیب اللہ قتل کیس میں مفرور سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کے حوالے سے چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا مجھے نہیں معلوم راؤانوارکہاں ہیں لیکن سندھ حکومت راؤ انوار کی گرفتاری کیلئے کوشش کر رہی ہے۔بلاول بھٹو نے کہا پتا نہیں راؤ انوار اسلام آباد ایئرپورٹ سے کیسے چلے گئے لیکن آج بھی جعلی مقابلوں میں لوگ مر رہے ہیں اور حکومت جعلی مقابلوں کی روک تھام کیلئے کردار ادا نہیں کر رہی۔

مزید : علاقائی