ماتحت عدلیہ کی سیکیورٹی فول پروف بنانے کیلئے اضافی تفری تعینات کرنے کا فیصلہ

ماتحت عدلیہ کی سیکیورٹی فول پروف بنانے کیلئے اضافی تفری تعینات کرنے کا فیصلہ

لاہور(نامہ نگار)ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج لاہور عابد حسین قریشی کی زیر صدرات اجلاس میں پولیس کے اعلیٰ افسران کی نے ماتحت عدالتوں کی سکیورٹی فول پروف بنانے کی یقینی دہانی کروا دی،افسروں کاکہنا ہے کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے۔سیشن کورٹ کے احاطہ میں فائرنگ کے واقع پر سیشن جج لاہور عابد حسین قریشی نے گزشتہ روز مستقبل میں ماتحت عدالتوں کی سکیورٹی کے حوالے سے اہم اجلاس طلب کررکھا تھا۔اجلاس میں لاہور بار کے عہدیداروں،سی سی پی او لاہور امین ونیس ،ڈی آئی جی آپریشن ڈاکٹر حیدر اشرف سمیت دیگر افسران نے شرکت کی ، ماتحت عدالتوں میں پولیس کی نفری تعینات کرنے جبکہ وکلاء کے لئے الگ داخلی اور خارجی راستہ مختص کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیاہے۔ اجلاس کے بعد سیشن جج نے میڈیا کو سکیورٹی کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سیوو سٹی پروجیکٹ کے حکام کی سی سی ٹی وی کیمروں کے حوالے سے خدمات لی جائیں گی،پولیس کی اضافی نفری عدالتوں میں تعینات کی جائے گی۔لاہور بار ایسوسی ایشن کے عہدراوں نے سکیورٹی کے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ وکلاء سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ تعاون کریں گے۔وکلاء اپنے سکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں ۔اجلاس میں جاں بحق ہونے والے وکلا کی موت پر دکھ کا اظہار کیا گیا۔علاوہ ازیں سیشن کورٹ میں فائرنگ کے واقع کے بعد ماتحت عدالتوں میں سکیورٹی کو مزید ہائی الرٹ کردیا گیاہے۔وکلاء اور سائلین کی جامعہ تلاشی کے بعد احاطہ عدالت میں داخل ہونے کی اجازت دی جارہی ہے ۔سیشن کورٹ میں ایک روز قبل فائرنگ کے واقعہ میں دو وکلاء کے قتل ہونے کے بعدتمام داخلی اور خارجی راستوں پر بھاری پولیس تعینات کردی گئی ہے ۔وکلاء اور سائلین کی جامہ تلاشی چیکنگ چار مختلف جگہوں پر لینے کے بعد اندر داخل کی اجازت دی جا رہی ہے۔دریں اثناسیشن کورٹ میں فائرنگ کے واقعہ میں دو وکلاء کے جاں بحق ہونے پر وکلا نے ہڑتال کی ،وکلاء صرف اہم نوعیت کے مقدمات میں پیش ہوئے ،وکلاء نے ماتحت عدالتوں کی سکیورٹی فول پروف بنانے کا مطالبہ کیا ہے ۔وکلاء کی جانب سے ہڑتال کے باعث مقدمات کی سماعت آئندہ پیشی تک ملتوی کردی گئی ۔ ہڑتال کے باعث ہزاروں مقدمات کی سماعت بغیرکاروائی کے ملتوی کردی گئی اور سائلین کو بھی شدید مشکلات کا سامنا رہا ۔

ماتحت عدلیہ

مزید : صفحہ اول