مسلم لیگ کی صدارت سے ہٹ کر کیا نواز شریف سیاست سے بھی باہر ہو جائیں گے؟

مسلم لیگ کی صدارت سے ہٹ کر کیا نواز شریف سیاست سے بھی باہر ہو جائیں گے؟
مسلم لیگ کی صدارت سے ہٹ کر کیا نواز شریف سیاست سے بھی باہر ہو جائیں گے؟

  

تجزیہ:قدرت اللہ چودھری

سپریم کورٹ کے تازہ ترین فیصلے کے بعد نوازشریف اب مسلم لیگ(ن) کے صدر تو نہیں رہ سکیں گے لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیا سیاست جاری رکھنے اور سیاسی لڑائی لڑنے کے لئے کسی جماعت کا صدر ہونا یا کسی دوسرے عہدے پر براجمان ہونا ضروری ہے ؟ عالمی سیاست میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ بعض سیاسی رہنماؤں کی حیثیت اور مقام اپنی جگہ اتنا مسلم تھا کہ انہیں کسی عہدے کی ضرورت ہی نہ تھی، نہ انہوں نے کبھی کوئی عہدہ طلب کیا اور نہ ہی ان کے سیاسی کام کی راہ میں عہدہ کوئی رکاوٹ تھا۔ برصغیر کی سیاست میں گاندھی کا جو مقام و مرتبہ تھا اور کانگرس کے اندر ان کی جو حیثیت تھی وہ تاریخ کے ہر طالبعلم کو معلوم ہے لیکن کیا سب کو معلوم ہے کہ گاندھی کے پاس کانگرس کا کوئی عہدہ کبھی نہیں رہا بلکہ وہ اس کے چار آنے کے ممبر بھی نہیں تھے۔لیکن اگر کانگرس کی سیاست سے گاندھی کو نکال دیں تو باقی کیا بچتا ہے؟ کانگرس کا صدر جو بھی رہا، فیصلے جو بھی کئے گئے ان میں گاندھی کو نظر انداز کیا جا سکتا تھا نہ ان کی رائے کے برعکس کوئی فیصلہ کیا جا سکتا تھا بلکہ اگر یہ کیا جائے کہ کانگرس کی رکنیت نہ ہونے اور کسی عہدے کے بغیر انہیں پارٹی میں ایک طرح کی ویٹو پاور حاصل تھی۔ تو غلط نہیں ہو گا ان کی بات نہ مانی جاتی تو وہ مرن برت رکھ کر اپنی بات منوایا کرتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے پاکستان کو اس کے حصے کے اثاثے دلانے کے لئے بھی مرن برت رکھا اور ان کی بات مانی بھی گئی یہ الگ بات ہے کہ انتہا پسند ہندو ا ن کے اس اقدام سے خوش نہیں تھے اور ان کا قتل بھی اس مرن برت کا شاخسانہ قرار دیا جاتا ہے یہ تو تاریخ کی بات تھی جو حضرات تاریخ میں تفصیلات جاننا چاہیں ان کے لئے بڑی مثالیں موجود ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کوئی مرد مجاہد اب یہ درخواست لے کر بھی عدالت جائیگا کہ جو شخص قومی اسمبلی کا رکن نہیں منتخب ہو سکتا سیاسی جماعت کی سربراہی کا بھی نا اہل قرارپایا ہے حالانکہ پارلیمینٹ کے منظور شدہ ایک قانون کے تحت اس نے مسلم لیگ کی صدارت کا منصب دوبارہ سنبھال تھا اسے سیاسی سرگرمیوں سے بھی روکا جائے بہت سی ایسی درخواستیں تو پہلے ہی زیر سماعت ہیں جن میں ان کی تقریروں کو توہین عدالت کی ذیل میں شمار کیا گیا ہے اور یہ تک مطالبہ داغ دیا گیا ہے کہ ٹی وی پر ان کی تقریریں ٹیلی کاسٹ کرنے پر پابندی لگا دی جائے۔ پارٹی کے اندر اور باہر نوازشریف بدستور سیاست میں متحرک رہیں گے بلکہ عین ممکن ہے یہ فیصلہ ان کے سیاسی مشن کو مزید مہمیز لگا دے۔ ہاں اگلا مطالبہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نواز شریف کو سیاسی جلسوں میں تقریروں سے بھی روک دیا جائے کیونکہ ان کی تقریروں کی وجہ سے لوگ لاہور ، لودھراں اور چکوال جیسے نامعقول فیصلے کرتے ہیں لوگوں کو معقولیت کی راہ پر گامزن کرنے اور گمراہ ہونے سے روکنے کے لئے ضروری ہے کہ نواز شریف کی تقریروں پر بھی پابندی لگائی جائے، پاکستان کی سیاست میں ایک ایسا دور بھی گذر چکا ہے جب بہت سے سیاسی رہنما مستقل حوالہ زنداں ہو گئے تھے وہ ایک مقدمے میں عدالت سے رہائی کا پروانہ حاصل کرتے تو انہیں جیل سے رہا کرنے کے لئے دروازے پر لایا جاتا اور وہیں کھڑے کھڑے نئی گرفتاری کے احکامات دیئے جاتے۔ بہت سے نامور سیاست دانوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا، اخبارات و جرائد بند کئے گئے، ایک رسالہ یا جریدہ بند ہوتا تو اس کی جگہ کوئی دوسرا لے لیتا پھر درجنوں جرائد اسی طرح بند کئے گئے لیکن کیا اس طرح صحافت کو پابند سلاسل کیا جا سکا اور سیاست کو زنجیروں میں باندھنا ممکن ہو سکا؟ ہرگز نہیں اگر ایسا ہو سکتا تو اس وقت ملک میں سیاست ہوتی اور نہ صحافت، لیکن ان دونوں کی موجودگی بتا رہی ہے کہ محض پابندیاں لگا کر سیاسی اور صحافتی کارروائیوں کے راستے نہیں روکے جا سکتے۔

اب مسلم لیگ (ن) کو اپنا کوئی نہ کوئی صدر تو بنانا ہے، یہ شہباز شریف بھی ہو سکتے ہیں جن کے ماتحت چوہدری نثار علی خان جیسے ’’باغی‘‘ بھی کام کرنے کو تیار ہیں۔ پارٹی کا کوئی بھی سینئر رہنما صدر کا منصب سنبھال سکتا ہے یہ ضروری نہیں کہ یہ منصب شریف خاندان کے اندر ہی رہے۔ 28جولائی کے فیصلے کے بعد سردار یعقوب ناصر کو قائم مقام صدر بنا لیا گیا تھا اور وہ اس وقت تک اس عہدے پر رہے جب تک پارلیمینٹ نے انتخابی اصلاحات 2017ء کا قانون منظور نہیں کر لیا، کیا پارلیمینٹ اس سلسلے میں کوئی راستے نکالتی ہے یہ تو ابھی نہیں کہا جا سکتا لیکن مسلم لیگ کا مستقل صدر اگر مریم نواز کو بنا دیا گیا تو عین ممکن ہے کچھ سینئر عہدیدار پارٹی سے الگ ہو جائیں اگرچہ پیپلزپارٹی کو بھی یہ صورت حال درپیش تھی لیکن ہمارے علم کی حد تک کسی بھی رہنما نے بلاول کی قیادت میں کام کرنے سے انکار نہیں کیا اور سفید بالوں اور سفید مونچھوں والے سینئر رہنما بڑے فخر کے ساتھ اپنے چیئرمین کی قیادت کا پرچم بلند رکھے ہوئے ہیں مریم نواز بھی پارٹی قیادت سنبھال سکتی ہیں اور درپیش حالات میں ان کی قیادت کو قبول بھی کر لیا جائیگا۔ لیکن اگر الیکشن کی مہم کے دوران کسی عہدے کے بغیر نواز شریف کا بیانیہ مقبول ہوتا رہا تو پھر انہیں سیاست سے نکالنے کے لئے کچھ اور فیصلے بھی کرنے پڑیں گے ۔ اگر سیاست سے دیس نکالا دینا ہی مقصود ہے تو پھر کچھ بھی متوقع ہے۔صرف صدارت سے ہٹ کر یہ گوہر مقصود حاصل نہیں ہو سکتا، دیکھیں اس سے آگے سکرپٹ کیا کہتا ہے۔

سیاست سے باہر

مزید : تجزیہ