جمہوریت پر شپ خون مارنے کی کوششوں کو میڈیانے بھی ناکام بنایا

جمہوریت پر شپ خون مارنے کی کوششوں کو میڈیانے بھی ناکام بنایا

اسلام آباد (آئی این پی) وزیرمملکت برائے اطلاعا ت و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری میں میڈیا کا کردار بہت اہم ہے ،سی پیک کی کامیابی ہم سب کی کامیابی ہے، یورپ سمیت دنیا کے دیگر ممالک سی پیک میں دلچسپی لے رہے ہیں، آنے والی نسلوں کا معاشی تحفظ بھی اسی سے وابستہ ہے،صحافت اور جمہوریت کا گہرا رشتہ ہے،جمہوریت ایک رویے کا نام ہے، صحافت جمہوریت کے بغیر ممکن نہیں،آج کے دور میں صحافی جو سوچتے ہیں وہ لکھتے ہیں جو دیکھتے ہیں وہ بولتے ہیں،آمریت کے دور میں اخبارات خالی چھپنے کی روایت آج سب کے سامنے ہیں ٹی وی پروگرامز سینسر ہوتے رہے ہیں گزشتہ ساڑھے چار سال جمہوریت پر شب خون مارنے کی کوشش کی گئی جسے میڈیا نے کامیاب نہیں ہونے دیا، میری کوشش ہے کہ اپنے دور حکومت کے خاتمہ سے پہلے صحافیوں کے تحفظ کیلئے پارلیمنٹ سے قانون پاس کراکے جاؤں ، اور پیمرا میں میڈیا کی نمائندگی کو یقینی بناؤں تاکہ پیمرا کی شفافیت برقرار رہے ، صحافیوں کے وزیراعظم سے کئے گئے مطالبات پر کام جاری ہے اور سی پی این ای کی جانب سے درخواست کردہ پلاٹ کی نامزدگی کردی گئی ہے، میرا مقصد صحافیوں کے مسئلے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما افراسیاب خٹک نے کہا کہ میثاق جمہوریت میں یہ طے ہو گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے علاوہ ایک آئینی عدالت بھی قائم کی جائے گی اٹھارہویں ترمیم کے وقت بھی یہ سوال اٹھایا گیا تھاتاہم اس معاملے کو آگے نہیں بڑھایا گیا، آئینی عدالت قائم کر دی جاتی تو آج کل جو مسائل ہمارے سامنے ہیں وہ نہ ہوتے جبکہ جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ملک کا سب سے اہم مسئلہ قانون و آئین کی حکمرانی ہے، یہ حکمرانی چوکیدار اور ٹیکسی ڈرائیور پرقائم ہونے سے نہیں بنتی اس کا مقصد ملکی اشرافیہ اور قیادت پر قانون کا احترام لازم کرواناہے، سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ سیاست اور صحافت کو کوئی علیحدہ نہیں کرسکتا، دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے، میں وثوق سے کہتی ہوں کہ ملک دوراہے پر کھڑا ہے، جمعیت علماء اسلام(ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمہوری دنیا میں سیاست اور صحافت دو ایسی وابستہ چیزیں ہیں جو ایک دوسرے کے بغیر مکمل نہیں ہوتیں، ادارے ایسے فیصلے نہ دیں کہ جن سے انتقام کی بو آئے۔بدھ کو کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای)کے زیر اہتمام ’’ملک کو درپیش چیلنجز اور میڈیا کے کردار ‘‘کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ صحافت اور جمہوریت کا گہرا رشتہ ہے،جمہوریت ایک رویے کا نام ہے، صحافت جمہوریت کے بغیر ممکن نہیں،آج کے دور میں صحافی جو سوچتے ہیں وہ لکھتے ہیں جو دیکھتے ہیں وہ بولتے ہیں،آمریت کے دور میں اخبارات خالی چھپنے کی روایت آج سب کے سامنے ہیں ٹی وی پروگرامز سینسر ہوتے رہے ہیں گزشتہ ساڑھے چار سال جمہوریت پر شب خون مارنے کی کوشش کی گئی جسے میڈیا نے کامیاب نہیں ہونے دیا، انتہائی مشکل حالات میں بھی قلم کی جنبش نے بھی اپنا کردار ادا کیا، دھرنے کے پیچھے ایمپائر کی انگلی کا ذکر کرنے پر جمہوری حکومت کے دو وزیروں کو مستعفی ہونا پڑا، ڈان لیکس کے معاملے میں بھی ایک وزیر کو گھر جانا پڑا یہ کب تک ہوتا رہے گا، میڈیاکا جانبدار ہونا،جمہوری نظام کے تسلسل میں میڈیا کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے، ورکنگ جر نلسٹس کا سب سے بڑا مسئلہ نوکری ہے، صحافی کا قلم آزاد نہیں ہے، اخبار کے فرنٹ پیج پر وہ خبر چھپتی ہے جو وزیراعظم کے خلاف ہو۔انہوں نے کہا کہ میں صحافیوں کیلئے کچھ نہ کچھ کرکے جارہی ہوں،آج کل اس شعبہ میں آنے والے صحافیوں کو ’’کوڈ آف ایتھکس‘‘ کی کتاب بھی پڑھنی چاہیے ،خبر کو اس کے جزئیات کے ساتھ آگے بڑھانا چاہیے اور سنسنی خیزی سے بچنا چاہیے، انفرادی سوچ کی بجائے اجتماعی سوچ کی طرف جانا پڑے گا، میری کوشش ہے کہ میڈیا مالکان کے پیمرا کے ساتھ جو کیسزہیں ان کو مل بیٹھ کر حل کیا جائے، ان معاملات پر خرچ کئے گئے پیسے صحافیوں کی تربیت پر لگائے جائیں، یہ جمہوریت ہی ہے جس میں ریکارڈ تک رسائی یقینی بنائی گئی ہے اس کی مدد سے خبر بھی بہترین صورت میں بن کر سامنے آتی ہے، جمہوریت اپنی جگہ بنا رہی ہے اسی طرح میڈیا بھی اپنی جگہ بنا رہا ہے، موجودہ دور تاریخ میں پہلے کبھی نہیں آیا ، عدلیہ، پارلیمنٹ ، ایگزیکٹو اور میڈیا کا اپنا کردار ہے، میڈیا بھی اپنی بقاء کیلئے جدوجہد کررہا ہے ، اداروں کے آئینی دائرہ کار اور کردار کا تعین کرنا بہت ضروری ہے، اور یہ بات بھی ضروری ہے کہ پاکستان کو کس نے چلانا ہے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ چائنہ پاکستان اکنامک کو ریڈور (سی پیک) میں میڈیا کا کردار بہت اہم ہے ،سی پیک کی کامیابی ہم سب کی کامیابی ہے، یورپ سمیت دنیا کے دیگر ممالک سی پیک میں دلچسپی لے رہے ہیں، آئندہ آنے والی نسلوں کا معاشی تحفظ بھی اسی سے وابسطہ ہے۔میری کوشش ہے کہ اپنے دور حکومت کے خاتمہ سے پہلے صحافیوں کے تحفظ کیلئے پارلیمنٹ سے قانون پاس کراکے جاؤں ، اور پیمرا میں میڈیا کی نمائندگی کو یقینی بناؤں تاکہ پیمرا کی شفافیت برقرار رہے۔انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے وزیراعظم سے کئے گئے مطالبات پر کام جاری ہے، اور سی پی این ای کی جانب سے درخواست کردہ پلاٹ کی نامزدگی کردی گئی ہے، میرا مقصد صحافیوں کے مسئلے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے، میری وزارت آپکی مدد کیلئے حاضر ہے، انفارمیشن سروسز اکیڈمی کے نصاب پر نظرثانی کی گئی ہے جو کہ صحافیوں کیلئے دستیاب ہے۔وفاقی وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ کی پریس کانفرنس سے متعلق وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ یہ صحافیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ دونوں جانب کا موقف لیں، یہ ہی آپ کا مثبت کردار ہے تاکہ جمہوریت مستحکم ہو، اللہ کا شکر ہے کہ جمہوری نظام تسلسل کے ساتھ 10برس مکمل کررہا ہے۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما افراسیاب خٹک نے کہا کہ میثاق جمہوریت میں یہ طے ہو گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے علاوہ ایک آئینی عدالت بھی قائم کی جائے گی اٹھارہویں ترمیم کے وقت بھی یہ سوال اٹھایا گیا تھاتاہم اس معاملے پر آگے نہیں بڑھایا گیا، آئینی عدالت قائم کر دی جاتی تو آج کل جو مسائل ہمارے سامنے ہیں ان کا سامنا نہ کرنا پڑتا، آئینی عدالت وقت کی ضرورت ہے جو قائم کرنا ہو گی، دوسری جمہوری حکومت اپنا وقت پورا کر رہی ہے، خواہش ہے کہ یہ بلوغت میں بھی اسی طرح استحکام کے ساتھ چلتی رہے، پاکستان وفاقی جمہوری نظام ہے جہاں عدلیہ اور پارلیمنٹ کا کردار سب کو معلوم ہے کیا پارلیمنٹ کی بالادستی سپریم کورٹ میں درخواستوں سے یقینی بنائی جائے گی، اگر ہم پارلیمنٹ کو احترام نہیں دیں گے تو کون دے گا۔ انہوں نے سابق پولیس انسپکٹر راؤ انوار کی گمشدگی کے حوالے سے کہا کہ اسے زمین کھا گئی یا آسمان کھا گیا آج کے نقیب اللہ محسود کے قتل کے معاملے پر ناراض نوجوانوں کی بات سننا ہو گی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ملک کا سب سے اہم مسئلہ قانون و آئین کی حکمرانی ہے، یہ حکمرانی چوکیدار اور ٹیکسی ڈرائیور پرقائم ہونے سے نہیں بنتی اس کا مقصد ملکی اشرافیہ اور قیادت پر قانون کا احترام کروانے سے قائم ہوتی ہے، ملک میں آج بالادستی کا سوال پوچھا جا رہا ہے اور یہ سوال ایسا ہی ہے کہ مرغی پہلے آئی یا انڈہ پہلے آیا؟ پارلیمنٹ کو باہر والوں نے نہیں اندر والوں نے بے توقیر کیا ہے، جہاں رکن پارلیمان قانون سازی کے علاوہ ہر کام کرتے ہیں، آئین کا احترام سب پر لازم ہے اور جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس نے قوم کو متحد رکھا ہے،آج کی سیاست پیسے کے ہاتھوں یرغمال بن چکی ہے، آج کے سیاسی لیڈرز کا نظریہ صرف اقتدار ہے،سینیٹ الیکشنز میں پارٹی ورکرز کو نہیں بلکہ پیسے والوں کو ٹکٹیں دی جا رہی ہیں۔ اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ہر شعبہ میں احتساب کا عمل ہوتا ہے اور صحافیوں کو روز احتساب کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے، اصولوں پر قائم رہنے سے عزت ملتی ہے، مشکلات کا سامنا سب کیلئے ضرور ہوتا ہے تاہم احترام بھی اصولوں پر قائم رہنے والوں کو ہی ہوتا ہے۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز کو 60ویں سالگرہ پر مبارکباد دیتی ہوں، میڈیا نے جمہوریت کا جو علم اٹھایا ہے اس میں ہمیشہ پاکستان کی جمہوری قوتیں آپ کے ساتھ رہی ہیں، یہ وہ میڈیا ہے جس نے ہر آمر کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، میں نے بھی بطور صحافی ذمہ داریاں سرانجام دی ہیں اور صحافت کو ہمیشہ فریضہ سمجھا ہے، آج صحافی روز امتحان میں ہوتے ہیں، آج جعلی خبروں کا دور ہے اور اسی کا بول بالا ہے، ہر کہانی کے دو سے تین رخ سامنے آ رہے ہیں،سیاست اور صحافت کو کوئی علیحدہ نہیں کرسکتا، دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے، میں وثوق سے کہتی ہوں کہ ملک دوراہے پر کھڑا ہے، کونسا جوہری ملک ہے جسے آج ہمارے جیسے مسائل کا سامنا ہے، ہمیں پاکستان کے بنیادی مسائل پر توجہ دینا ہو گی،اداروں میں تصادم چل رہا ہے جس سے انکار نہیں کر سکتے اور نہ ہی منہ موڑ سکتے ہیں، انہوں نے مسلم لیگ (ن) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سمجھوتہ کر کے ملک سے باہر جانے سے جمہوریت مضبوط نہیں ہوتی، ذوالفقار علی بھٹو نے کوئی بھی معاہدہ کرنے کی بجائے پھانسی کے پھندے پر لٹکنا قبول کیا ہے، ووٹ کا تقدس پارلیمان میں یقینی ہوتا ہے نہ کہ سڑکوں پر اب الیکشن ہونے والے ہیں، دما دم مست قلندر ہو گا، ہمیں مثالی زندگی گزارنا ہو گی کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہوتا، ہم پارلیمنٹ میں نہ جا کر پارلیمنٹ کی توہین کرتے ہیں۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام(ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمہوری دنیا میں سیاست اور صحافت دو ایسی وابستہ چیزیں ہیں جو ایک دوسرے کے بغیر مکمل نہیں ہوتیں، صحافت جمہوری ماحول میں فروغ پاتی ہے، بادشاہوں اور آمریتوں میں صحافت کی گردن مروڑی جاتی ہے گھٹن ہوتی ہے ہمیں اللہ نے یہاں ماحول دیا ہے، ہمیں صحافت اور سیاست کے مثبت پہلو اجاگر کرنا ہوں گے،صحافت بغیر دیانت کا تصور کہیں بھی موجود نہیں ہے، آج صحافت صرف عیب ظاہر کرنے کا نام بن گئی ہے، منفی باتوں کو ابھارا جاتا ہے اور اچھائی کو چھپایا جاتا ہے، آج ہمیں خارجی و داخلی مشکلات کا سامنا ہے، خارجی مسائل کے ہوتے ہوئے دیکھنا ہو گا کہ داخلی مسائل کی بھی گنجائش ہے یا نہیں، ایک زمانہ تھا کہ جب بھارت سوویت یونین کے بلاک میں تھا اور پاکستان امریکہ کے بلاک میں تھا، نائن الیون میں صورتحال تبدیل ہو گئی، امریکہ آج بھارت کے ساتھ ہے اور پاکستان چین اور روس کی طرف بڑھ رہا ہے، بھارت اس وقت بھی ہمارا دشمن تھا اور آج بھی ہمارا دشمن ہے، پاکستان ون بیلٹ ون روڈز کا حصہ ہے اور امریکہ چین کو کاؤنٹر کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے،افغانستان اور ایران بھارت کے قریب نظر آرہے ہیں، بھارتی سرمایہ کاری سے گوادر کے مدمقابل چاہ بہار بندرگاہ کو تعمیر کیا جا رہا ہے،آج ملک میں جو حالات پیدا کئے گئے ہیں اس پر چین کی بھی نظر ہے، اسٹیبلشمنٹ سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں میں گزشتہ چھ ماہ کے حالات کے باعث کیا مشکلات پیش آئیں، ہمارے ملک میں بحرانوں کی گنجائش نہیں ہے، ہماری عدالتوں نے کچھ لوگوں کو صادق اور امین قرار دیا ہے، اداروں کے مابین جنگ ملک کو کھوکھلا کررہی ہے، ایسے فیصلہ نہ کئے جائیں جن سے انتقام کی بو آئے،یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے،ایسا نہ ہو کہ سب کچھ بغاوت کی صورت میں ابھر کر سامنے آ جائے،اداروں پر شک کیا جا رہا ہے ہم سب کو دائرہ کے اندر رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی، ایک دوسرے کا مقابلہ نہیں کرنا، ہر جماعت کو یہ حق حاصل ہے کہ جمہوری اداروں کے ذریعے اقتدار میں آئے، اس وقت جمہوریت ڈوب رہی ہے، الزام سیاستدان ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں،فوج کی دفاعی قوت پر اعتماد ہے، اگر ہم مدمقابل کے طور پر سامنے آئے تو اس سے کیا ثابت ہوگا، ایک ادارہ ہر وقت احتساب کیلئے تیار رہتا ہے اور سیاستدانوں کا غلط امیج عوام کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے، سیاستدانوں کی تذلیل ہو رہی ہے، ایسا ماحول پیدا نہ کیا جائے کہ ملک کے اندر افراتفری ہو۔تقریب سے سی پی این ای کے عہدیداروں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور جمہوری نظام میں میڈیا کے کردار پر روشنی ڈالی۔

مزید : کراچی صفحہ اول