نوشہری ، محکمہ جنگلی حیات کے نیب زدہ افسر پر حکومت مہربان

نوشہری ، محکمہ جنگلی حیات کے نیب زدہ افسر پر حکومت مہربان

نوشہرہ(بیورورپورٹ)خیبر پختونخوا میں محکمہ جنگلی حیات کے ایک نیب زدہ افسر پر حکومت مہربان ہوگئی کرپشن کے ایک کیس میں لاکھوں روپے رضاکارانہ طورپر واپسی کے باوجود سپریم کورٹ کے احکامات کی نفی کرتے ہوئے اعلیٰ افسر کو ملازمت سے برخاست کرنے کی بجائے مزید ترقی دینے کی سفارش کردی گئی مذکورہ افسر کی سمری ترقی کیلئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو بھیج دی گئی چیف کنزرویٹر مبارک علی شاہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد کنزرویٹر صفدر علی شاہ کو چیف کنزرویٹر خیبرپختونخوا تعینات کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور سمری وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے پاس پہنچ گئی ہے کنزر ویٹر صفدر علی شاہ کی ترقی کی سفارش سے پہلے صوبائی حکومت نے قومی احتساب بیورو سے اس کے کرپشن سے متعلق معلومات حاصل کرنے کیلئے نیب کو ایک مراسلہ بھیجا نیب نے صوبائی حکومت کو اس بات کی تصدیق کردی کہ مذکورہ افسر کرپشن کی مد میں 38 لاکھ روپے سے زائد رقم قومی احتساب بیورو کو رضا کارانہ طورپر واپس کرچکا ہے خیبرپختونخوا کے ایفی شنسی اینڈ ڈسپلن رولز 2011 کے مطابق رضاکارانہ طورپر واپسی پر کسی بھی سرکاری ملازم کو مزید انکوائری کے بغیر ملازمت سے برخاست کیاجاتا ہے جبکہ سپریم کورٹ کے 24 اکتوبر 2016 کے فیصلے کے مطابق ایسے افسر کے خلاف محکمانہ کاروائی ضروری ہے سپریم کورٹ کے 6 دسمبر 2016 کے ایک حکم کے مطابق ایسے تمام افسران کو ملازمین سے برخاست کرنے کا حکم دیاگیا جو کرپشن کے الزام کے بعد 25 لاکھ روپے سے زائد کی رقم رضاکارانہ طورپر واپس کرچکے ہومگر نیب کی تصدیق کے باوجود اور سپریم کورٹ کے واضح فیصلے کے بعد بھی خیبرپختونخوا حکومت نے صفدر علی شاہ کو چیف کنزرویٹر بنانے کی سمری تیار کرلی ہے صرف یہی نہیں مذکورہ افسر پر صوبائی حکومت مزید مہربان ہوگئی ہے اور اسے بلین ٹری سونامی پراجیکٹ کے فارسٹ، کلوژر منصوبے کا سربراہ مقرر کیاگیا۔

مزید : کراچی صفحہ اول