نظام پور میں سیمنٹ فیکٹری کے قیام کیلئے پن بجلی کا منصوبہ شروع کرنے پر جواب طلب

نظام پور میں سیمنٹ فیکٹری کے قیام کیلئے پن بجلی کا منصوبہ شروع کرنے پر جواب ...

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے جسٹس وقاراحمدسیٹھ اور جسٹس مس مسرت ہلالی نے خیبرپختونخواحکومت کی جانب سے نظام پورمیں سیمنٹ فیکٹری کے قیام کے لئے این او سی جاری کرنے کے باوجود مذکورہ مقام پرپن بجلی کامنصوبہ شروع کرنے پر صوبائی حکومت ٗ محکمہ معدنیات اورمحکمہ ایریگیشن سے جواب مانگ لیاہے عدالت عالیہ کے فاضل بنچ نے یہ احکامات بیرسٹروقارکے توسط سے دائر مہاراج پرائیویٹ لمیٹڈ کی رٹ پرجاری کئے اس موقع پرعدالت کو بتایاگیاکہ نظام پورکے علاقہ ماروبہ میں سیمنٹ فیکٹری اورلائم سٹون کے لئے صوبائی حکومت نے درخواست گذار کمپنی کو باقاعدہ لائسنس جاری کیا ہے اوریہ لائسنس وزیراعلی ہاؤس میں باقاعدہ تقریب میں حوالے کیاگیا جبکہ مذکورہ مقام پر220ملین روپے کی ابتدائی سرمایہ کاری بھی کی گئی جبکہ صوبائی حکومت نے چینی کمپنی کے اشتراک سے سیمنٹ فیکٹری کے قیام کی اجازت بھی دے رکھی ہے اوراس طرح علاقے کے سات ہزار تقریبانوجوانوں کو ملازمت کے مواقع فراہم ہوں گے جبکہ قومی خزانے کو سالانہ اربوں روپوں کافائدہ بھی حاصل ہوگا اوردرخواست گذاروں نے مذکورہ مقام پرجب منصوبے پرکام شروع کیاتو صوبائی حکومت نے اسی علاقے میں پن بجلی کے منصوبے کاآغاز کیاہے جس کے باعث درخواست گذارکی کمپنی کو نقصان ہے کیونکہ جب پن بجلی کے منصوبے کے لئے پانی ذخیرکیاجائے گاتو اس سے درخواست گذار کی لائم سٹون کے منصوبے کو نقصان پہنچے گا جبکہ انہوں نے مشینری کی درآمد کے لئے آرڈربھی دے رکھاہے لہذاپن بجلی کے منصوبے کو کالعدم قرار دیا جائے کیونکہ اس سے اربوں روپوں کانقصان پہنچنے کااندیشہ ہے فاضل بنچ نے ابتدائی دلائل کے بعد صوبائی حکومت ٗ محکمہ معدنیات اورمحکمہ ایریگیشن سے جواب مانگ لیا۔

B

مزید : پشاورصفحہ آخر