انجینئرنگ یونیورسٹی میں "منشیات معاشرے کیلئے ایک لعنت "کے موضوع پر سیمنار

انجینئرنگ یونیورسٹی میں "منشیات معاشرے کیلئے ایک لعنت "کے موضوع پر سیمنار

پشاور(سٹاف رپورٹر) ا نجینئرنگ یونیورسٹی پشاور میں "منشیات معاشرے کیلئے لعنت " کے موضوع پر ایک روزہ سیمنار کا انعقاد گذشتہ روز انجینئرنگ کے ویڈیو کانفرنس ہال میں کیا گیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی سیکریٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ، نارکاٹکس کنٹرل ڈیپارٹمنٹ جناب جاوید مروت تھے۔ سیمنار کا اہتمام ڈاکٹر صمد بصیر ڈائریکٹر کلبز اینڈ سوسائٹی اور روٹریکٹ سوسائٹی یو ای ٹی پشاور نے کیا تھا۔مہمان خصوصی سیکریٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ، نارکاٹکس کنٹرل ڈیپارٹمنٹ جاوید مروت نے اپنے خطاب میں کہا کہ سب سے زیادہ منشیات کا شکار ہماری نوجوان نسل ہے جس کی بنیادی وجہ موبائل اور انٹرنیٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال سے نوجوان نسل تنہائی کا شکار ہو گئی ہے ۔اسکی تدارک کیلئے انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو ثقافتی سرگرمیوں میں شامل کرنا چاہیے تاکہ وہ تنہائی سے بچ کے منشیات جیسی لعنت سے بچ سکیں اور ہم اس لعنت کو اپنی معاشرے سے ختم کر سکیں۔ پروفیسرڈاکٹر افتخار حسین، وائس چانسلر انجینئرنگ یونیورسٹی پشاور نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہماری اولین ترجیح انجینئرنگ یونیورسٹی پشاور کو منشیات سے پاک کرنا ہے جس کیلئے ہم ہر ممکن اقدام اُٹھا رہے ہیں۔ انہوں تمام شعبہ جات پر زور دیا کہ منشیات کی روک تام کیلئے باقاعدہ چیکنگ کا ایک نظام بنائیں اور جو بھی طالبعلم منشیات میں ملوث پایا گیا اسکے خلاف سخت ترین اقدامات اٹھائیں۔ پروفیسر ڈاکٹر نور محمد ، پرو ائس چانسلر نے اپنے خطاب میں کہا کہ منشیات آج کل کے دور میں ایک عالمی خطرہ بن چکا ہے۔انہوں کہا انسان اشرف المخلوقات ہیں ہمیں منشیات جیسی لعنت سے خود کو بچانا چاہیے۔ ڈاکٹر خضر اعظم رجسٹرار یو ای ٹی پشاورنے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت نے منشیات کی روک تھام کیلئے کافی کام کیا ہے جس میں حکومت کافی حد تک کامیاب بھی ہوئی ہے۔ ہمارے اساتذہ پہلے سے منشیات کی روک تھام پر تحقیق کر رہے ہیں تاکہ حکومت کو اس حوالے سے سفارشات پیش کریں۔ انہوں طلباء پر زور ددیا کہ منشیات جیسی لعنت سے بچیں اور معاشرے کو منشیات سے پاک کرنے میں حکومت کی مدد کریں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر