دنیا میں بولی جانے والی 36 فیصد مادری زبانوں کے خاتمے کا خطرہ

دنیا میں بولی جانے والی 36 فیصد مادری زبانوں کے خاتمے کا خطرہ

کراچی (این این آئی) پاکستان سمیت دنیا بھر میں مادری زبان کا عالمی دن ( انٹرنیشنل مدرز لینگوئج ڈے) گزشتہ روز بھرپور طریقے سے منایا گیا ۔17 نومبر 1999ء کو یونیسکو نے انٹرنیشنل مدرز لینگوئج ڈے منانے کیلئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے قرار داد منظور کروائی تھی جس کی روشنی میں 21 فروری سال 2000ء کو پہلی بار مادری زبان کا عالمی دن منایا گیا تھا۔ مادری زبان انسان کی شناخت، ابلاغ، تعلیم اور ترقی کا بنیادی ذریعہ ہے لیکن جب زبان ناپید ہوتی ہے تو اس کے ساتھ مختلف النوع کی ثقافت کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے اور ان میں شامل مختلف روایات، منفرد انداز فکر اور ان کا اظہار بہتر مستقبل کے بیش قیمتی ذرائع بھی ختم ہو جاتے ہیں۔ آج ساری دنیا میں مادری زبانوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ عالمی سطح پر گلوبلائزیشن پراسس کے باعث بیشتر زبانوں کو لاحق خطرات میں یا تو اضافہ ہو رہا ہے یا وہ ناپید ہوچکی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دنیا میں بولی جانے والی 36 فیصد مادری زبانوں کے خاتمے کا خطرہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق پنجابی دنیا میں بولی جانے والی 12 ویں اور اردو 20 ویں بڑی زبان ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانیں چینی، ہسپانوی، انگریزی، عربی، ہندی اور بنگالی ہیں۔ انگریزی 112 ممالک میں بولی جاتی ہے۔یونیسکو کے مطابق 1950 سے لیکر اب تک230/ مادری زبانیں ناپید ہوچکی ہیں جن کو بولنے والا اب کوئی نہیں ہے اٹلس آف ورلڈ لینگویج ان ڈینجر 2009 کے مطابق دنیا کی 36/ فیصد (2498)زبانوں کو اپنی بقا کے لئے مختلف النوع کے خطرات لاحق ہیں ایسے خطرات سے دوچار زبانوں میں سے 24/ فیصد (607)زبانیں غیر محفوظ(جن کا استعمال بچے صرف گھروں تک کرتے ہیں)۔ 25/ فیصد (632)ناپیدی کے یقینی خطرے (جنہیں بچے گھروں میں بھی مادری زبانوں کے طور پر نہیں سیکھتے) سے دوچار ہیں اس کے علاوہ 20/ فیصد (562) زبانوں کو خاتمہ کا شدید خطرہ دادا پڑدادا کی زبان جو ماں باپ جانتے ہیں مگر بچے نہیں بولتے لااحق ہے۔ 21.5 فیصد (538)زبانیں تشویش ناک حد تک خطرات دادا پڑدادا میں بھی باقاعدگی سے نہ بولی جانے و الی زبانکا شکار ہیں جبکہ 230/ تقریبا 10/ فیصد زبانیں متروک ہوچکی ہیں۔

مادری زبانوں

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر