”پورے انڈیا میں کوئی شخص آنکھ مارنے والی لڑکی کے خلاف یہ کام نہیں کرسکتا“ بھارتی سپریم کورٹ نے پریا پرکاش کو سب سے بڑی خوشخبری سنادی، تہلکہ خیز حکم جاری کردیا

”پورے انڈیا میں کوئی شخص آنکھ مارنے والی لڑکی کے خلاف یہ کام نہیں کرسکتا“ ...
”پورے انڈیا میں کوئی شخص آنکھ مارنے والی لڑکی کے خلاف یہ کام نہیں کرسکتا“ بھارتی سپریم کورٹ نے پریا پرکاش کو سب سے بڑی خوشخبری سنادی، تہلکہ خیز حکم جاری کردیا

  

نئی دلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارتی سپریم کورٹ نے پریا پرکاش کے خلاف توہین مذہب پر حیدرآباد میں قائم کیے گئے مقدمے پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے تمام ریاستوں کو ان کے خلاف مزید مقدمات کے اندراج سے روک دیا ہے۔

پریا پرکاش نے انسٹا گرام پر سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو بڑا ریلیف قرار دیا اور سپریم کورٹ آف انڈیا کا شکریہ ادا کیا۔ پریا پرکاش نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے ان کے خلاف توہین مذہب کے الزامات پر درج کی گئی ایف آئی آر پر حکم امتناع جاری کردیا ہے۔ سپریم کورٹ نے تمام بھارتی ریاستوں کو یہ بھی حکم دیاہے ” مانکیا ملارایا پووی“ گانے پر اداکارہ پریا پرکاش ، فلم ڈائریکٹر عمر لولو اور پروڈیوسر اسیپچن کے خلاف مزید مقدمات درج نہیں کیے جائیں گے۔ اس موقع پر پریا پرکاش نے اپنے وکیل ، دوستوں اور میڈیا کا بھی شکریہ ادا کیا۔

واضح رہے کہ پریاپرکاش کو ملیالم فلم اورو آدار لو کے ایک گانے کے سین کے دوران آنکھ مارنے سے شہرت حاصل ہوئی ۔ ان کے خلاف حیدرآباد دکن میں مسلمانوں کی جانب سے توہین مذہب کے الزام میں مقدمہ درج کرایا گیا تھا۔ مسلمانوں کی جانب سے اعتراض اٹھایا گیا تھا کہ حضور علیہ الصلوٰة والسلام اور حضرت خدیجہؓ کی محبت پر مبنی ایک نعت کو غلط انداز میں فلمایا گیا ہے تاہم کیرالہ کے مقامی مسلمانوں کی جانب سے ان دعووں کو رد کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یہ گانا درحقیقت شادی بیاہ پر گایا جانے والا لوک گیت ہے۔

مزید : تفریح