مدثر قتل کیس کا مرکزی ملزم طارق بشیر چیمہ بیرون ملک فرار, ورثاء کو دھمکیاں ملنے کا انکشاف

مدثر قتل کیس کا مرکزی ملزم طارق بشیر چیمہ بیرون ملک فرار, ورثاء کو دھمکیاں ...

قصور (ویب ڈیسک)بے گناہ بیٹے کو ناحق قتل کرنے والے پولیس افسران نے غریب اور بوڑھی خاتون سمیت اس کے اہلخانہ پر بھی خدا کی زمین تنگ کردی۔

روزنامہ خبریں کے مطابق گزشتہ سال قصور پولیس نے تھانہ صدر کے علاقہ میں اغوءکے بعد قتل کی جانے والی معصوم بچی ایمان فاطمہ سمیت قصور میں ماری جانے والی دیگر کمسن لڑکیوں کے قتل کے الزام میں پیرووالا روڈ کے محنت کش مدثر علی کو گھر سے اٹھایا اور جعلی مقابلے میں ہلاک کرکے عوام کو یہ بتایا کہ مدثر علی ہی ایمان فاطمہ سمیت دیگر بچیوں کا قاتل تھا، تاہم زینب قتل کیس کے بعد پکڑے جانے والے اصل ملزم عمران علی کی گرفتاری اور اس سے ایمان فاطمہ کے ڈی این اے کے میچ کرنے کے عمل نے پولیس کے جھوٹ کا سارا پول کھول دیا جس پر عدالت عالیہ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے مدظر قتل کیس کی تحقیقات کے لئے پہلے سے قائم جے آئی ٹی کو تحقیقات کا حکم دیا تو تفتیش میں یہ بات واضح ہوئی کہ ڈی ایس پی عارف رشید ایس ایچ او طارق بشیر چیمہ اور دیگر افسران نے مدثر علی کو بے گناہ قتل کیا تھا جس پر مدثر کی والدہ جمیلہ بی بی نے جے آئی ٹی میں تحریری درخواست دینے کے ساتھ ساتھ اپنا بیان بھی ریکارڈ کرایا۔

اس سلسلہ میں زیر سماعت کیس میں ایڈیشنل سیشن جج قصور ظفر اقبال طارق بشیر چیمہ کی درخواست ضمانت قبل از گرفتاری بھی خارج کرچکے ہیں، گزشتہ روز جملہ بی بی اور مدثر کیس کے وکیل سردار علی احمد ڈوگر ایڈووکیٹ کی طرف سے جے آئی ٹی اور ڈی پی او قصور کو دی جانے والی ایک درخواست میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ڈی ایس پی عارف رشید، ایس ایچ او طارق بشیر چیمہ پولیس کا ٹاﺅٹ ڈاکٹر رضوان اسے اور اس کے بیٹوں کو مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں کہ وہ مقدمہ کی پیروی سے باز آجائیں۔ جمیلہ بی بی کے مطابق ملزمان کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی کچھ نہیں کرسکتی کیونکہ جے آئی ٹی میں بھی پولیس والے ہی بیٹھے ہیں اور بہت جلد ہمیں کلین چٹ مل جائے گی، ہم لوگ تمہیں پیار سے سمجھارہے ہیں اگر تم مقدمہ کی پیروی سے دستبردار نہ ہوئے تو تمہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جمیلہ بی بی زوجہ محمد منیر نے ڈی پی او قصور کو دی جانے والی تحریری درخواست میں تحفظ اور انصاف کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے کیونکہ ہمارے خاندان کو ان سے جان کا خطرہ ہے۔

جمیلہ بی بی کی طرف سے پولیس حکام کوبتایا گیا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد آئے روز ان کے گھر آکر انہیں جان سے مار دینے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ مذکورہ آنے والے افرا دکا کہنا ہے کہ اگر تم لوگ مقدمہ کی پیروی سے باز نہ آئے تو ہم تمہارے باقی خاندان کا انجام بھی مدثر جیسا ہی کریں گے۔ اس سلسلہ میں مدثر قتل کیس کے وکیل اور معروف قانون دان سردار علی احمد ایڈووکیٹ سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ پولیس عدالت عالیہ کے واضح حکم کے باوجود اس مقدمہ میں فریق بن چکی ہے۔

مرکزی ملزم ایس ایچ او طارق بشیر چیمہ کو بیرون ملک فرار کرادیا گیا ہے جبکہ دیگر بااثر شخصیات ڈی ایس پی مرزا عارف رشید کو اس کیس سے نکالنے کے لئے سردھڑ کی بازی لگارہی ہیں الٹا مدثر کے خاندان کو مسلسل سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ صورتحال دیکھتے ہوئے ہم نے آج جے آئی ٹی کو بھی تحریری درخواستیں دی ہیں جس میں پولیس کے غیر قانونی اقدامات اور کردار کی نشاندہی کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کے حکم کے باوجود قصور پولیس لاقانونیت کا مظاہرہ کررہی ہے اور ہمیں صرف جے آئی ٹی سے ہی امید ہے کہ وہ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کے احکامات صادر کرے گی۔

مزید : علاقائی /پنجاب /قصور