حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر22

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر22
حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر22

  

پہلی ہجرت

اب تشدد کا ایک نیا دور شروع ہو گیا۔ پہلے سے کہیں زیادہ قساوت لئے ہوئے۔ قتل تک نوبت پہنچنے لگی۔ کوئی دن نہیں گزرتا تھا کہ ہم مسلمانوں پر کوئی نہ کوئی ظلم نہ ہوتا ہو۔ ہم جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھتے تو ہمیں لگتا تھا کہ چشمِ فلک اُن کی آنکھوں میں گریہ کناں ہے لیکن وہ جس راہ پر گامزن تھے اُسے چھوڑ نہیں سکتے تھے۔ رضائے الٰہی یہی ہے کہ اُس کے پیغمبر سنگلاخ چٹانوں کو کاٹ کاٹ کر راستہ بنائیں اور اُن کی پیروی کرنے والے خون پسینے سے بنے ہوئے اس جادۂ پیمبری کو فلاح اور بہتری کا ایک آسان راستہ سمجھتے ہوئے، اُن کے نقشِ قدم پر چلتے جائیں۔ دنیا میں ایسے بہت سے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے بدی سے نفرت کی لیکن وہ بدی کا مقابلہ کرنے پر تیار نہ ہو سکے اور جان کی سلامتی کے لئے دنیا ہی تج بیٹھے۔ غاروں اور گپھاؤں میں جا بسے، جوگی اور راہب بن کر زندگی گزار دی۔ محمدصلی اللہ علیہ وسلم اُن میں سے نہیں تھے۔

اسلام کی راہ میں سب سے پہلے ایک خاتون نے شہادت پائی۔ اُسے اسی وقت جنت کی بشارت مل گئی جب ہمارے دشمنِ ازلی، ابوجہل نے جہالت کے جوش میں اس کی پسلیوں میں اپنا نیزہ گاڑ دیا تھا۔ اُس کا نام سُمیّہ تھا۔ سُمیّہ بنتِ خُباّط ۔ عمّار کی والدہ سُمیّہ کا جرم یہ تھا کہ اُس نے ہبل کی پرستش سے انکار کیا تھا۔

ضرور پڑھیں: سوچ کے رنگ

اور بھی تھے جنہیں میدانوں میں کھمبے گاڑ گاڑ کر اُن کے ساتھ باندھا گیا اور کوڑے مار مار کر شہید کر دیا گیا یا ادھ مؤا کر کے سسک سسک کر مرنے کے لئے چھوڑ دیا۔

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر21 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اب صورتِ حال اتنی بدل چکی تھی کہ کچھ کئے بغیر چارہ نہیں تھا۔ مسلمانوں کی صفوں سے ایک ایک کر کے کئی اہل ایمان رخصت ہو چکے تھے یا معذور کر دئیے گئے تھے۔ یہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے لئے لمحہء فکریہ تھا۔ چنانچہ انہوں نے ایک بہت بڑا فیصلہ کیا۔ فیصلہ یہ تھا کہ جو لوگ کمزور ہیں اور جنہیں مکے میں کسی کی پشت پناہی حاصل نہیں وہ ہجرت کر جائیں۔ صرف وہ رہ جائیں جنہیں خون خرابے کے ڈر سے کوئی ہاتھ لگانے کی جرات نہیں کر سکتا۔ وہ جو کسی مکی خاندان کے فرد تھے یا جنہیں مکے کے کسی خاندان کی سرپرستی حاصل تھی محفوظ تھے، اس لئے کیونکہ اُن پر ہاتھ اٹھانے سے خاندانی بلکہ قبائلی محاذ آرائیوں کا خدشہ تھا۔ میں ابوبکرؓ کی سرپرستی میں تھا اس لئے مکے میں رہ سکتا تھا۔

ایک مقررہ رات کو علیؓ کے بڑے بھائی جعفرؓ، تراسی مردوں اور سترہ عورتوں کو لے کر صحرا میں نکل گئے۔ ان میں جعفرؓ کی بیوی اسماء بنت عمیسؓ بھی تھیں، سودا بنت زمعہؓ بھی اور مقداد بن اسودؓ، ابوعبیدہ بن جراحؓ جیسے عظیم صحابی اور ام المومنین خدیجہؓ کے بھتیجے خالد بن حزامؓ،حکیم بن حزام کے بھائی بھی شامل تھے۔ وہ مکے سے ہجرت کر کے حبشہ جا رہے تھے۔ حبشہ سمندر پار میرے اجداد کا وطن تھا جسے میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ اُس ملک پر ایک عیسائی بادشاہ نجاشی کی حکومت تھی۔ نجاشی کے عدل کا دُور دُور شہرہ تھا۔ یہ چھوٹا سا قافلہ جانے پہچانے راستوں سے ہٹ کر سفر کر رہا تھا کیونکہ قدم قدم پر دشمنوں سے خطرہ تھا۔ جو راستہ انہوں نے اختیار کیا تھا بڑی صعوبتوں کا راستہ تھا۔ اس پر نہ کنویں تھے نہ کوئی آبادی خالد بن حزامؓ توراستے ہی میں انتقال کر گئے۔ ان مہاجروں کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اُن کے سروں پر گدھوں کے پروں کے علاہ کسی چیز کا سایہ نہ تھا۔ یہ گدھ راستے بھر اُن کے سروں پر منڈلاتے رہے، اس آس پر کہ کب ان میں سے کوئی نڈھال ہو کر گرے اور اُن کا لقمہ بنے۔

ایسی بات چھپی کہاں رہ سکتی تھی۔ دن چڑھتے ہی خبر پھیل گئی۔ ابوجہل کے تن بدن میں آگ لگ گئی، اُس نے فوراً دارالند وہ میں اپنے حلیفوں کو اکٹھا کیا، انہیں غیرت دلائی اور بالآخر سب سے یہ طے کر ا لیا کہ ولید بن عتبہ کی قیادت میں گھڑ سواروں کا ایک دستہ اُن کے پیچھے بھیجا جائے جو انہیں گرفتار کر کے واپس مکے لائے یا وہیں صحرا میں ختم کر دے۔ 

اس سے چند ماہ قبل بھی سترہ مسلمان ہجرت کر کے حبشہ جا چکے تھے۔ ان میں عثمانؓ، حضورؐ کی صاحب زادی رقیہؓ، ابوسلمہؓ، مصعب بن عمیرؓ، عبدالرحمن بن عوفؓ اور زبیر بن العوامؓ شامل تھے۔ اُس مرتبہ قریش نے اس مسئلے پر زیادہ توجہ نہیں دی تھی بلکہ اسے ایک طرح سے اپنی کامیابی تصوّر کیا تھا۔ اب پورے ایک سو مسلمانوں کا یک بارگی اُن کے چنگل سے یوں نکل جانا اُن کی صریح شکست کے مترادف تھا۔(جاری ہے )

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر23 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /حضرت بلال