گلگت بلتستان کے سرکاری اداروں میں خالی آسامیوں پر بھرتیاں کیں جائیں:سینیٹ کمیٹی برائے قائمہ امور کشمیر کی ہدایت 

گلگت بلتستان کے سرکاری اداروں میں خالی آسامیوں پر بھرتیاں کیں جائیں:سینیٹ ...
گلگت بلتستان کے سرکاری اداروں میں خالی آسامیوں پر بھرتیاں کیں جائیں:سینیٹ کمیٹی برائے قائمہ امور کشمیر کی ہدایت 

  

اسلام آباد(آن لائن) سینیٹ قائمہ کمیٹی امور کشمیر و گلگت بلتستان کے چیئرمین سینیٹر پروفیسر ساجد میر کی زیر صدارت منعقد ہونے والے اجلاس میں ہدایت دی گئی کہ گلگت بلتستان کے سرکاری اداروں میں خالی آسامیوں پر بھرتیاں کیں جائیں، وزارت خزانہ گلگت بلتستان کی طرف سے بجھوائی گئی اسامیوں کی بھرتی کی منظوری دے ۔

چیئرمین قائمہ کمیٹی پروفسیر ساجد میر نے کہا کہ دوسرے صوبوں کی طرح گلگت بلتستان کو بھی برابر بجٹ دیا جائے , گلگت بلتستان کے ساتھ برابر سلوک روا رکھا جائے , پیکج بجٹ کی شکل میں دیا جائے نہ کہ گرانٹ کی شکل میں ،ضرورت کے مطابق افرادی قوت فراہم کی جائے ۔حکام نے بتایا کہ وفاقی حکومت کو بھجوائی گئی خالی اسامیوں میں بھی کمی کر دی گئی ہے ۔191 اسامیاں ختم کر دی گئیں ہیں ۔ شعبہ پانی وبجلی میں افراد ی قوت کی کمی ہے ۔3 ہزار میں سے 1560اسامیاں وزارت خزانہ کی طرف سے منظور کی گئی ہیں ۔وزارت امور کشمیر کے سیکرٹری نے بتایا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں ریفارمز پیکج کے تحت گرانٹ فارمولہ طے کیا جارہا ہے جلد فیصلہ ہو جائے گا۔آئینی ترمیم اور صدارتی حکم کی ضرورت ہے ۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ گلگت بلتستان کو بھی دوسرے صوبوں کے برابر بجٹ دیا جائے ۔پاک چین اقتصادی راہداری منصوبوں کیلئے بھی بجٹ فراہم کیا جائے ۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر فاٹا کو بھی این ایف سی ایوارڈ کا حصہ بنایا جائے ۔سینیٹر رحمان ملک نے اسلام آباد میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی انسانی حقوق کانفرنس میں کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کو شامل نہ کرنے اور کشمیرکے بارے میں فلم نہ دکھانے کو مجرمانہ فعل قرار دیتے ہوئے کہاکہ معاملہ سنجیدہ ہے ۔اجلاس میں بتایا گیا کہ آزاد کشمیر کے سالانہ ترقیاتی منصوبہ جات کیلئے بجٹ 12 ارب سے دگنا کرکے 22 ارب کر دیا گیا ہے ۔اس وقت آزاد کشمیرکے بجلی پیدا واری دو منصوبوں سے 1150 میگاواٹ بجلی پیدا ہورہی ہے ۔ نیلم جہلم سے اگلے دو ماہ میں 969 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی ۔گلگت بلتستان حکام نے بتایا کہ پانی سے 50 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کی جا سکتی ہے ۔ بجٹ کم از کم 20 ارب دیا جائے ۔اجلاس میں سینیٹرز رحمان ملک ، احمد حسن ، مومن آفریدی ، نجمہ حمید کے علاوہ وفاقی سیکرٹری امور کشمیر و گلگت بلتستان ،آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد