مغربی ملک میں کھانا کھانے کا سب سے شرمناک ترین طریقہ متعارف کروادیا گیا

مغربی ملک میں کھانا کھانے کا سب سے شرمناک ترین طریقہ متعارف کروادیا گیا
مغربی ملک میں کھانا کھانے کا سب سے شرمناک ترین طریقہ متعارف کروادیا گیا

  

برسلز(نیوز ڈیسک) اہل مغرب کی بے راہروی کوئی نئی اور انوکھی بات تو نہیں لیکن پھر بھی کبھی کبھار ان کے ہاں سے ایسی حیرتناک خبر آ جاتی ہے کہ انسان یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ بس یہی کسر باقی رہ گئی تھی۔ یورپی ملک بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں کھولا جانے والا نیا ریسٹورنٹ بھی ایک ایسی ہی شرمناک مثال ہے، جہاں نہ صرف ویٹر لڑکے، لڑکیاں برہنہ پھرتے ہیں بلکہ کھانا کھانے کیلئے آنے والے گاہک بھی لباس کی قید سے آزاد ہوتے ہیں۔

اس ریسٹورنٹ میں کام کرنے والے عملے کا کہنا ہے کہ ان کیلئے برہنگی کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ ان کے ہاں پہلے ہی برہنہ ورزش کی کلاسز ہورہی تھیں۔ان کلاسز میں نا صرف باہر سے آنے والے شرکت کرتے تھے بلکہ ریسٹورنٹ کا سٹاف بھی ان میں شمولیت کرتا تھا۔ ریسٹورنٹ کے مالک ول برائسن اس سے پہلے روایتی طرز کا ریسٹورنٹ چلا رہے تھے اور انہوں نے دیگر یورپی شہروں میں متعارف کروائے جانے والے کچھ ریستورانوں کو دیکھتے ہوئے یہ شرمناک آئیڈیا برسلز میں بھی متعارف کروایا ہے۔انہوں نے اپنے نئے ریستوران کو ’ڈائن نیکڈ برسلز‘ کا نام دیا ہے۔

’برسلز پوسٹ‘ سے بات کرتے ہوئے ول برائسن کا کہنا تھا ”میڈیا میں اکثر اوقات انسانی جسم کو کانٹ چھانٹ کرکے مصنوعی طور پر خوبصورت کرکے دکھایا جاتا ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم انسانی جسم کو اس کی فطری حالت میں دیکھ سکیں۔ ایسا کرنے سے ہمارے ذہنوں میں انسانی جسم کے بارے میں پائے جانے والے منفی تصورات کا خاتمہ ہوگا۔ ہم ان منفی تصورات کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں، یہ ہمارے لئے ایک چیلنج ہے، اور برہنہ ریسٹورنٹ اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے اہم قدم ثابت ہوگا۔ برہنگی کے شوقین لوگوں کے لئے ہمارا ریسٹورنٹ ایک مکمل طور پر محفوظ جگہ ہے، جہاں وہ نہ صرف برہنہ ہوکر کھانا کھاسکیں گے بلکہ انہیں اپنے جیسے دیگر برہنگی پسند افراد سے بھرپور میل جول کا موقع بھی ملے گا۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی