عدلیہ مخالف تقاریر روکنے کے لئے کیا اقدامات کئے گئے ،ہائی کورٹ نے پیمرا سے رپورٹ مانگ لی 

عدلیہ مخالف تقاریر روکنے کے لئے کیا اقدامات کئے گئے ،ہائی کورٹ نے پیمرا سے ...
عدلیہ مخالف تقاریر روکنے کے لئے کیا اقدامات کئے گئے ،ہائی کورٹ نے پیمرا سے رپورٹ مانگ لی 

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز اوروزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمیت مسلم لیگ کے وزراءکی مبینہ عدلیہ مخالف تقاریر نیوز چینلز پر نشر کرنے کے خلاف درخواست پر پیمرا سے اس بابت اب تک کی جانے والی کارروائی کی رپورٹ طلب کرلی ہے ۔

جسٹس شاہد کریم نے سول سوسائٹی کی رکن آمنہ ملک کی درخواست پر سماعت کی جس میں نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور مسلم لیگ (ن)کے دیگرراہنمائوں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ان کی تقاریر توہین عدالت کے زمرہ میں آتی ہیں ۔سماعت کے دوران پیمرا کے وکیل اعظم ضیاءنے عدالت میں جواب پیش کیاکہا کہ عدلیہ مخالف تقاریر کے خلاف درخواستیں شکایات کونسل میں موجود ہیں اور پیمرا شکایات کونسل کی ہدایات پر کارروائی عمل میں لائے گی، پیمرا کے وکیل نے واضح کیا کہ شکایات کونسل کی جانب سے ابھی تک کوئی ہدایت پیمرا کو موصول نہیں ہوئیں جس پر فاضل جج نے کہا کہ شکایات کونسل کو چھوڑیں یہ بتائیں پیمرا نے بطور اتھارٹی کیا کارروائی کی ہے؟ درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے بتایا کہ پاناما کیس کے فیصلے کے بعد نواز شریف، ان کی بیٹی اور مسلم لیگ نون کے رہنمائوں نے عدلیہ کے بارے میں توہین آمیز تقاریر کو وتیرہ بنالیا ہے اور پیمرا خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہا ہے، جس پر عدالت نے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 28فروری تک ملتوی کردی ۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور