ایون فیلڈ ریفرنس, غیرملکی گواہ کا ویڈیو لنک بیان ریکارڈ،2005 میں کیلبری فونٹ موجود تھا، دوران جرح رابرٹ ریڈلی نے اعتراف کر لیا:نجی ٹی وی کا دعویٰ

ایون فیلڈ ریفرنس, غیرملکی گواہ کا ویڈیو لنک بیان ریکارڈ،2005 میں کیلبری فونٹ ...
ایون فیلڈ ریفرنس, غیرملکی گواہ کا ویڈیو لنک بیان ریکارڈ،2005 میں کیلبری فونٹ موجود تھا، دوران جرح رابرٹ ریڈلی نے اعتراف کر لیا:نجی ٹی وی کا دعویٰ

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں استغاثہ کے غیر ملکی گواہ رابرٹ ریڈلی نے دوران جرح اعتراف کیا ہے کہ  2005 میں کیلبری فونٹ موجود تھا، تاہم اپنے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ڈیکلریشن کی تیاری میں کیلبری فونٹ استعمال کیا گیا جب کہ یہ فونٹ 31 جنوری 2007 تک کمرشل بنیادوں پر دستیاب نہیں تھا،کیس کی سماعت 6 گھنٹے تک جاری رہی جبکہ اس موقع پرنامزد ملزم کیپٹن (ر)محمد صفدر کمرہ عدالت میں موجود رہے جبکہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز آج کے دن حاضری سے استثنی ملنے کے باعث پیش نہیں ہوئے۔

نجی ٹی وی چینل ’’جیو نیوز ‘‘ کے مطابق اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب کی جانب سے دائر ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کی سماعت کی، لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن میں موجود رابرٹ ریڈلی نے ویڈیو لنک کے ذریعے بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ نیلسن اور نیسکول کے ڈیکلریشن پر تاریخوں کی تبدیلی کا موازنہ کیا اور دونوں ڈیکلریشن میں دوسرا اور تیسرا صفحہ ایک جیسا ہے۔گواہ نے کہا کہ یہ بتانا ناممکن تھا کہ کون سا صفحہ اصل ہے اور کون سا اس کی نقل؟ جب کہ دونوں صفحات پر موجود تاریخوں میں بھی تبدیلی کی گئی۔رابرٹ ریڈلی کے مطابق 2004 کو تبدیل کر کے 2006 بنایا گیا اور 6 کی جگہ ممکنہ طور پر اصل میں 4 درج تھا، ظاہری طور پر ایسا لگتا ہے کاغذات تبدیل کرنے کے لیے کارنر پیس کو کھولا گیا اور دستاویزات پر 2 کی بجائے 4 اسٹیپلر پن کے سوراخ تھے۔رابرٹ ریڈلی نے کہا کہ میں نے دستاویزات کے ٹائپنگ فونٹ کا بھی جائزہ لیا، ڈیکلریشن کی تیاری میں کیلبری فونٹ استعمال کیا گیا جب کہ یہ فونٹ 31 جنوری 2007 تک کمرشل بنیادوں پر دستیاب نہیں تھا۔غیر ملکی گواہ رابرٹ ریڈلی پر وکیل صفائی خواجہ حارث نے جرح کی۔وکیل صفائی نے سوال کیا کہ ’’ کیا یہ درست ہے کہ ونڈو وسٹا کے 3 ایڈیشن جاری ہوئے؟جس پر رابرٹ ریڈلی نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ونڈو وسٹا کے 3 ایڈیشن جاری ہوئے،حارث خواجہ نے دوسرا سوال کیا کہ’’کیا یہ بھی درست ہےکہ ونڈووسٹا کا پہلاباقاعدہ ایڈیشن31جنوری2007 کوجاری ہوا؟غیر ملکی گواہ نے اس سوال کا جواب بھی  ہاں میں دیا تو وکیل صفائی نے پھر سوال داغا کہاگر میں یہ کہوں کہ ونڈو وسٹا بیٹا کا پری لانچ ایڈیشن2005 میں جاری ہوگیا تھا تو کیا یہ درست ہے؟جس پر  استغاثہ کےغیر ملکی گواہ کا کہنا تھا کہ ونڈو وسٹا بیٹا کاپہلاایڈیشن 2005 میں آئی ٹی ایکسپرٹ کے لیے جاری ہوا تھالیکن  کیلیبری فونٹ  صرف آئی ٹی ایکسپرٹ اورآئی ٹی ڈویلپرکوٹیسٹ کرنےکیلیےفراہم کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہیہ بات درست نہیں کہ ہزاروں لوگ اس فاؤنٹ کو  استعمال کر رہے تھے بلکہ محدود پیمانے پرآئی ٹی ماہرین کولائسنس کےساتھ ٹیسٹ کیلیےفراہم کیاگیاتھا۔شریف خاندا ن کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز کیس میں استغاثہ کے غیر ملکی گواہ رابرٹ ریڈلی پر جرح مکمل نہ ہوسکی جس کے باعث سماعت کل دوپہر دو بجے تک ملتوی کر دی گئی۔

خیال رہے کہ نیب نےسابق وزیراعظم نواز شریف سمیت ان کے خاندان کے 5 افراد کے خلاف 22 جنوری 2018 کو احتساب عدالت میں ایون فیلڈ پراپرٹیز کے سلسلے میں بھی ایک ضمنی ریفرنس دائر کیا تھا۔سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق تھے۔نیب کی جانب سے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس (لندن فلیٹس)ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے بچوں حسن اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا گیا۔دوسری جانب العزیزیہ اسٹیل ملز جدہ اور 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

مزید : اہم خبریں /قومی