خیبرپختونخوا حکومت نے جامعہ حقانیہ کو دی جانے والی امداد30کروڑسے بڑھا کر 57 کروڑ 70 لاکھ روپے کر دی 

خیبرپختونخوا حکومت نے جامعہ حقانیہ کو دی جانے والی امداد30کروڑسے بڑھا کر 57 ...
خیبرپختونخوا حکومت نے جامعہ حقانیہ کو دی جانے والی امداد30کروڑسے بڑھا کر 57 کروڑ 70 لاکھ روپے کر دی 

  

پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے خیبرپختونخوا میں اپنے اتحادی اور جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے مدرسے جامعہ حقانیہ کے لئے مزید 27 کروڑ 70 لاکھ روپے جاری کرنے کا عمل شروع کردیا ہے جس کے بعد اس مدرسے کو سرکاری طورپردی جانے والی یہ امداد 30 کروڑ سے بڑھ کر 57 کروڑ 70 لاکھ ہوجائے گی۔

نجی ٹی وی چینل ’’جیو نیوز ‘‘ کے مطابق پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی جانب سے جامعہ حقانیہ کے لئے امداد کے نام پر دی جانے والی اس خطیر رقم کو سینٹ انتخابات کے موقع پر سیاسی حمایت کے حصول کا ذریعہ سمجھا جارہا ہے تاہم صوبائی حکومت اس عمل کو رسوں کو قومی دھارے میں لانے کی کوشش قرار دے رہی ہے جبکہ اس سے قبل عمران خان کا بھی کہنا تھا کہ مدرسے میں پڑھنے والے طلبہ دہشت گرد نہیں ہوتے اورانہیں بھی دنیاوی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ جتنی اہمیت اورسہولیات دینا ان کی حکومت کے ایجنڈے میں شامل ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اس امدادکے بدلے میں مولانا سمیع الحق نے انہیں مدرسہ کے نصاب اورنظام میں اصلاحات لانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔جامعہ حقانیہ کو دی جانے والی امداد کے حوالے سے صوبے میں ہائیر ایجوکیشن کے وزیرمشتاق غنی کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کی تو تصدیق نہیں کرسکتے کہ ان کی حکومت حقانیہ مدرسے کو مزید رقم دینے جارہی ہے لیکن ان کی حکومت کا یہ ویژن ہے کہ وہ مدرسہ حقانیہ کے ذریعے مزیدمدرسوں کو بھی مدد فراہم کرے گی تاکہ یہاں پڑھنے والے طلبہ جب فارغ ہوں تووہ دینی اوردنیاوی دونوں تعلیموں کے حامل ہوں اوروہ کسی پرانحصارکے لئے مجبورنہ ہوں۔

مزید : قومی