ایوب خان، مولانا مودودی سے خفا کیوں تھے؟(2)

ایوب خان، مولانا مودودی سے خفا کیوں تھے؟(2)
ایوب خان، مولانا مودودی سے خفا کیوں تھے؟(2)

  



1953ء میں ایوب خان نے ترکی کا دورہ کیا تو ترک فوج ان کی آئیڈیل بن گئی اور پھر 1954ء میں امریکا کے تفصیلی دورے میں ایوب خان امریکیوں کو یقین دلانے میں کامیاب ہوگئے کہ :’’میری سر براہی میں پاکستانی فوج خطے میں کمیونزم کو پھیلنے سے روک سکتی ہے‘‘۔

ایوب خان ہی کی کوششوں سے پاکستان سیٹو اور سینٹو کا ممبر بنا اور1955ء میں امریکا اور پاکستان کے درمیان ’باہمی دفاعی معاہدہ‘طے پایا، جس سے پاکستان میں امریکی اثر ورسوخ اور قومی اْمور میں مداخلت میں بے حداضافہ ہوا۔یادرہے کہ ایوب خان1954ء سے کمانڈر انچیف کے ساتھ ساتھ وزیردفاع کے عہدے پر فائز تھے، اور اس حیثیت میں مرکزی کابینہ کے ایک انتہائی بااثر رکن تھے۔

1967ء میں شائع ہونے والی اپنی خودنوشتFriends Not Masters میں ایوب خان صاحب لکھتے ہیں: ’’آغاخان سوم [م:11جولائی 1957ء ]کی دْور اندیشی سے مَیں بہت متاثر تھا۔

مجھے ان سے بارہا گفتگو کا موقع ملا۔ لیاقت علی خاں کے قتل کے کچھ ہی دن بعد جب مَیں برطانیہ گیا ہوا تھا، آغاصاحب کی دعوت پر سمندر کے کنارے ایک پْرفضا مقام یاکی مور، نیس[فرانس] میں مَیں اْن کا مہمان تھا۔تب ان سے میری ایک دل چسپ ملاقات ہوئی۔ انھوں نے مجھے کہا: ’میں کہے دیتا ہوں کہ اگر آپ نے پارلیمانی نظام اختیار کیا تو پاکستان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

دراصل میں نے یہی بتانے کے لیے تمھیں یہاں بلوایا ہے، اور تنہا تم ہی وہ شخص ہو جو پاکستان کو بچاسکتے ہو‘۔ میں نے پوچھا: ’آپ کے خیال میں کس طرح بچا سکتا ہوں؟‘۔وہ بولے: ’اس نظام کو بدل دو، اور یہ کام حقیقت میں تم ہی کرسکتے ہو‘‘(ص 192)۔اور جنرل صاحب نے اس بات کو بطور ’وصیت‘ پلّے باندھ لیا۔

صدر اسکندرمرزا نے 7اکتوبر1958ء کو 1956ء کا متفقہ پارلیمانی آئین منسوخ کردیا، اور پورے ملک میں مارشل لا نافذ کرکے ایوب خان کونہ صرف چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بلکہ مسلح افوا ج کا سپریم کمانڈر بھی مقرر کردیا۔حالاں کہ 1956ء کے آئین کے مطابق یہ عہدہ صدر پاکستان کے لیے مخصوص تھا۔ پھر جنرل ایوب خان سپریم کمانڈر نے اپنے ہی اعلان کردہ مارشل لا نظام میں 27اکتوبر کو اسکندرمرزا سے استعفا لیا ، خودصدر بن گئے اورمرزا صاحب کو لندن جلاوطن کر دیا۔ پاکستان کی بانی جماعت مسلم لیگ اس وقت تک کئی دھڑوں میں تقسیم ہو کر مختلف ناموں سے کام کررہی تھی۔ تب پاکستان میں مولانا مودودی کی سر براہی میں جماعت اسلامی وہ واحد سیاسی قوت تھی، جو پورے پاکستان میں ایک مضبوط تنظیم اور مربوط منشور کے ساتھ سرگرم عمل تھی۔

جنرل ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کرتے ہی سخت گیر مارشل لا کی دہشت بٹھاکر اقتدار مستحکم کرلیا۔ 1959ء میں تمام سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں پر سیاست میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی، اور آزاد صحافت بھی قدغن کا شکار بن کر رہ گئی۔ ایوب دور میں عوام کی سیاسی عمل میں شرکت صرف ’بنیادی جمہوریت‘ کے نئے نظام کے تحت ہی ممکن بنائی گئی۔ پاکستان کا صدر منتخب کرنے کا حق صرف 80 ہزار مقامی رہنماؤں کو دے کرایوب خان نے یہ فرض کرلیا کہ اب وہ ہرقسم کے احتساب سے آزاد ہیں۔

ان کی حکومت کا دارو مدار بیورو کریسی پر تھا۔

ایوب خان کے قائم کردہ شخصی نظام میں حکومت پر جائز تنقید، بازپْرس اور اس کے احتساب کی کوئی گنجاش نہیں تھی۔جو بھی ان کے حکومتی اقدامات پر تنقید یا اعتراض کرنے کی کوشش کرتا تو اسے ’اقتدار کا بھوکا‘ اور ’غیر محب وطن‘ ٹھیرایا جاتا۔ مذہبی طبقے،علمااور خصوصاً مولانا مودودی، ایوب خان کی ناراضی کااس لیے خاص ہدف تھے کہ وہ منظم ترین پارٹی جماعت اسلامی کو اپنی تخلیق کردہ کنونشن مسلم لیگ کا اصل حریف سمجھتے تھے۔

فرینڈز ناسٹ ماسٹرز میں علما پر عموماً اور مولانا مودودی پر خصوصاً تنقید کی ہے۔ پھر ایوب خان نے نام لے کر تاریخی حقائق کے برعکس مولانا کو قوم پرست علمامیں شامل کرکے لکھا ہے: ’’جماعت اسلامی کے سربراہ مولانا مودودی نے جو پاکستان کے شدید مخالف تھے، پاکستان آتے ہی پاکستانی حکومت کو غیراسلامی قرار دے کر اسے اسلامی بنانے کی تحریک شروع کردی‘‘ [ص 202، 203]۔ ایوب خان کو دوسرے دیگربہت سے جدیدیت زدہ افراد کی طرح کاروبارِ مملکت میں اسلام کا نام لینے سے چِڑ تھی۔ ایوب خان صاحب کے دماغ میں یہ بات راسخ ہوچکی تھی کہ اسلامی دستور کی ساری جدوجہد کا مقصد صرف اقتدار کا حصول ہے۔ وہ سیاست دانوں اور دینی رہنماؤں پر بھروسا کرنے کے بجاے اپنے آپ کو پاکستان کا واحد خیرخواہ اور اس پر بلاشرکت غیرے حکمرانی کا جائزحق دار سمجھتے تھے۔

ایوب خان کی یہ ڈائری 1966ء سے 1972ء تک کے برسوں پر محیط ہے۔ ایوب خان کے بارے میں الطاف گوہر کی کتاب’’پہلے فوجی راج کے دس سال‘‘ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ڈائری کے پہلے حصے کا مسودہ بھی موجود ہے، جو 1966ء سے پہلے کے برسوں پر مشتمل ہے، لیکن یہ جِلد ابھی تک کہیں نہیں چھپی۔ ایوب خان جب تک اقتدار میں رہے، انھوں نے ڈائری میں مولانا کا ذکر ہر جگہ صرف ’مودودی‘ کے نام سے کیا ہے (ہم نے ایوب خان کی تحریر کا ترجمہ کرتے ہوئے مجبوراً مولانا کے لیے صیغہ واحد میں وہی لفظ استعمال کیا ہے)۔

اس ڈائری میں مولانا مودودی کے حوالے سے پہلا نوٹ 6ستمبر1966ء کو ایک ’سابق احراری عالم‘ صاحبزادہ فیض الحسن صاحب [م:23فروری 1984ء ]کی مناسبت سے لکھا گیا ہے: ’’انھوں [صاحبزادہ فیض الحسن] نے کل مجھے بتایا کہ ’’مودودی کے حامی، دیوبندی گروپ اور احرار وغیرہ، میرے [یعنی ایوب خان کے] خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں۔

وہ عائلی قوانین پر تنقید کر رہے ہیں، جن کے ذریعے غریب خواتین، یتیموں اور مجبور لوگوں کو بڑی مدد ملی ہے اور وہ خاندانی منصوبہ بندی اسکیم کی مخالفت کررہے ہیں‘‘ [ایضاً، ص 5]۔ ایوب خان چاہتے یہ تھے کہ وہ جو بھی تبدیلی لائیں ہرطبقہ اسے من وعن تسلیم کر لے۔

اسی لیے اپنے نافذ کردہ عائلی اور ضبط ولادت کے قوانین پر تنقید کرنے والوں کو وہ ’اسلام کے نام پر ترقی کے سخت دشمن‘قرار دیتے اور الزام عائد کرتے ہیں کہ: ’’ان کے مذہبی فلسفے کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیا سی شعوررکھنے والے لوگ مذہب سے دْور ہورہے ہیں۔ انھوں [علما] نے حسد کی وجہ سے ان لوگوں کو کافر قرار دیا ہے، جنھوں نے ملتِ اسلام میں محض روشن خیالی لانے کی کوشش کی ہے‘‘۔ [ڈائریز آف فیلڈ مارشل محمد ایوب خان، ص5]

2 اکتوبر 1966ء کو ڈائری میں لکھتے ہیں: ’’گورنرموسیٰ [ملک امیر محمد خان کی جگہ نئے گورنر] سے میٹنگ میں مودودی کی شرپسندانہ سرگرمیوں کا توڑ کرنے پر بات ہوئی ہے‘‘ [ایضاً،ص 14]۔ حالاں کہ جماعت کی تمام تر سرگر میاں ہمیشہ کی طرح سیاسی اور قانونی دائرے کے اندر جاری تھیں۔

اگرچہ ایوب خان صاحب کو اپنی ’روشن خیالی‘ پر بڑا ناز تھا اور وہ خود کو’ جدیدیت‘ کا علَم بردار تصور کرتے تھے۔ لیکن رؤیتِ ہلال کے مسئلے پر ان کی توہم پرستانہ اقتدار پسندی کھل کر سامنے آتی ہے۔

13جنوری 1967ء کے روز عید جمعے کو ہونے کا قوی امکان تھا۔بدھ کی شام پورے ملک کے کسی علاقے سے رؤیتِ ہلال کی مصدقہ اطلاع موصول نہیں ہوئی تھی۔

کسی نے ایوب خان کے دل میں یہ وہم ڈال رکھا تھا کہ: ’’عید جمعے کے دن نہیں ہونی چاہیے، کیوں کہ جمعے کے دن دو خطبے حکمرانوں پر بھاری ہوتے ہیں‘‘۔ اس لیے رات گئے 12جنوری 1967ء جمعرات کو سرکاری طور پرعید منانے کا اعلان ہوگیا، جب کہ ہر مکتبِ فکر کے علما نے زبردستی کی سرکاری عید منانے سے انکار کر دیا۔(جاری ہے)

مزید : رائے /کالم