احساس پروگرام 23غریب ترین اضلاع کی 375یونین کونسلوں میں بڑا منصوبہ شروع کرنیکی تیاریاں

احساس پروگرام 23غریب ترین اضلاع کی 375یونین کونسلوں میں بڑا منصوبہ شروع کرنیکی ...

  



ملتان (نیوز رپورٹر) احساس اثاثہ جات منتقلی پروگرام احساس کے تحت چلائے جانے پروگراموں میں سے ایک ہے جس کا بنیادی مقصد پسماندہ طبقات کیلئے ذریعہ معاش کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ اثاثہ جات منتقلی پروگرام میں خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کو چھوٹے اثاثے دینا شامل ہے تاکہ وہ روزگار کما سکیں اور غربت سے باہر نکل سکیں۔ا ثاثہ جات میں مویشی (بکریاں، گائے، بھینسیں اور پولڑی)، (بقیہ نمبر8صفحہ12پر)

زرعی آلات، چنگچی رکشہ باڈی،چھوٹے دوکانداروں اور چھوٹے کاروباری اداروں کیلئے آلات شامل ہیں۔ احساس اثاثہ جات منتقلی پروگرام پاکستان کے چاروں صوبوں میں 23غریب ترین اضلاع کی 375دیہی یونین کونسلوں میں شروع کیا جارہا ہے۔ پروگرام کا ہدف مستحق گھرانوں (60%خواتین اور 30%نوجوان مستحقین) کو 200,000 اثاثہ جات مہیا کرنا ہے جس کا دائرہ کار نتائج کی بنیادپر وسیع کیا جائیگا۔اس پروگرام کا بجٹ 15 بلین روپے ہے اور مجموعی طور پر 1.45ملین افراد اس پروگرام سے مستفید ہونگے۔ یہ پروگرام 31جنوری2020ء کو شروع ہونے والے احساس کفالت پروگرام کا حصہ ہے جس کے تحت سال کے آخر تک تقریبا 7ملین مستحق خواتین کو 2000/-روپے ماہانہ وظیفہ دیا جائیگا۔کفالت اور اثاثہ جات منتقلی پروگرام دونوں کے مستحقین کی نشاندہی غربت اسکور کارڈ سروے کے ذریعے کی جائیگی تاکہ صرف حقیقی طور پر مستحق افراد ہی پروگرام میں شامل ہوں۔ تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈویژن کے ماتحت کام کرنے والا پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ (پی پی اے ایف) احساس اثاثہ منتقلی پروگرام پر عملدرآمد کا اہم ادارہ ہے جو منتخب کردہ اضلاع میں شراکت دار تنظیموں (پی اوز) کے ذریعے کام کررہا ہے۔پی پی اے ایف خریداری کے عمل میں شفافیت، تمام اثاثوں / پیشہ ورانہ مہارت تربیت کی شناخت، انتخاب اور خریداری کو یقینی بنائے گا۔ وہ مستحقین جن کو پیشہ ورانہ تربیت کی ضرورت ہوتی ہے انہیں مستند تربیتی اداروں کے ذریعہ پیش کردہ کورسز میں شرکت کیلئے مدد کی جاتی ہے۔اہل گھرانوں کے افراد کو اثاثے کے استعمال اور کاروباری منصوبہ بندی سے متعلق تربیت فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ ان اثاثوں کو معاشی طور پر پیداواری انٹرپرائز میں تبدیل کرسکیں۔ اثاثہ جات منتقلی پروگرام کے مستحقین احساس بلاسود قرضے حاصل کرسکتے ہیں اگر وہ اس علاقے میں دستیاب ہوں اور انہیں یقین ہو کہ کاروبار میں اضافے کیلئے انہیں مالی معاونت کی ضرورت ہے۔ 23 اضلاع کے دیہاتوں کی375یونین کونسلیں جہاں یہ پروگرام شروع ہوچکا ہے وہاں مستحقین کی نشاندہی کمیونٹی کی شمولیت کے عمل کے ذریعے کی گئی ہے۔صوبہ پنجاب کے وہ اضلاع جہاں اس پروگرام کا آغاز کیا جارہا ہے ان میں ڈیرہ غازی خان، جھنگ اور لیہ شامل ہیں۔ خیبر پختونخواہ میں 10اضلاع ہیں:اپر کوہستان، لوئر کوہستان، پالاس کولائی، تورغر، بٹ گرام، شانگلہ، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیر ستان، ڈیرہ اسمعیل خان، ٹانک۔ بلوچستان میں تین اضلاع ہیں: جھل مگسی، ژوب اور شہرانی۔ سندھ کے اضلاع میں بدین، ٹھٹھہ، سجاول، کشمور، شکار پور، تھرپارکر اور عمر کوٹ شامل ہیں۔ ان اضلاع کو پی پی اے ایف کی جانب سے کی گئی ایک مخصوص سٹڈی کی بنیاد پر منتخب کیا گیا تھاجن میں تین پیرامیٹرز انسانی ترقی کی سطح، غربت کی سطح اور خوراک کے عدم تحفظ کی سطح پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔ ان پیرامیٹرز میں سب سے کم درجہ پر آنے والے اضلاع کو پروگرام کے پہلے مرحلے میں شامل کیا گیا۔ احساس اثاثہ جات منتقلی پروگرام کی بنیادمستند تحقیق کے شواہد پر ہے۔

پروگرام

مزید : ملتان صفحہ آخر