اٹارنی جنرل کا استعفا؟

اٹارنی جنرل کا استعفا؟

  



اٹارنی جنرل انور منصور خان کے ججوں پر الزامات کے معاملے پر وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم اور انور منصور خان کے درمیان یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا انور منصور خان کے دلائل سے حکومت اور وزیر قانون باخبر تھے یا نہیں، انور منصور خان کا کہنا ہے کہ ان کے بیان سے حکومت کا ہر شخص آگاہ تھا۔ فروغ نسیم اور شہزاد اکبر عدالت میں ساتھ تھے اور انہیں معلوم تھا، مَیں یہ بیان دوں گا، سماعت کے بعد دنوں نے بیان کو سراہا۔بیان کے بعد عدالت سے واپس آتے ہوئے اُن کے ساتھ وڈیو دیکھ کر فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ اس سے باخبر تھے یا نہیں۔

اُن کا کہنا تھا معلومات کس نے دیں ابھی نہیں بتا سکتا، نام لیتا تو نیا قضیہ چھڑ جاتا، مزید معلومات بھی ہیں مناسب وقت پر دوں گا، بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ انور منصور خان نے اپنے طور پر بات کی، صرف عدلیہ نہیں ہمیں بھی دھچکا لگا، تمام جج باوقار ہیں، ججز پر الزامات کا ہمیں پتہ نہیں تھا، انور منصور خان کا موقف جھوٹ ہے، حکومت کا ان الزامات سے کوئی تعلق نہیں، وزیر قانون کا یہ بھی کہنا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں اٹارنی جنرل کی کارکردگی اچھی نہیں تھی، خراب کارکردگی سے ججوں کو غصہ دلایا،اسی لئے حکومت نے اُن سے استعفا طلب کیا، جبکہ انور منصور خان نے تحریری طور پر اپنے استعفے میں کہا ہے کہ وہ بار کونسل کے مطالبے پر مستعفی ہوئے،کیونکہ وہ اپنی وکلا برادری کے ساتھ ہیں۔جمعرات کو حکومت نے اٹارنی جنرل کے موقف سے لاتعلقی کا بیان سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا۔وزیراعظم عمران خان نے پارٹی ترجمانوں کو بھی ہدایت کی ہے کہ عدلیہ کا احترام مقدم ہے اِس سلسلے میں بیان بازی برداشت نہیں۔

وزیر قانون یا حکومت اور انور منصور خان میں سے سچا کون ہے اور کون حقائق کے منافی بیان دے رہا ہے، ہمارے پاس فی الحال کوئی ایسا پیمانہ نہیں، جس سے ہم جھوٹ اور سچ کی کیفیت ماپ سکیں،لیکن واقعات کی ترتیب پر نظر رکھیں تو انور منصور خان نے سپریم کورٹ میں اپنا بیان منگل کے روز دیا تھا،جس کے بارے میں فاضل عدالت نے ہدایت کر دی کہ اس بیان کے مندرجات عام نہیں کئے جائیں گے،تاہم بعد میں انور منصور خان نے اپنے الزامات واپس لے لئے،البتہ اگلے دن کی سماعت کے دوران فاضل بنچ نے کہا کہ وہ ججوں پر الزامات کے بارے میں ثبوت دیں یا معافی مانگیں۔حکومت نے اگر ججوں پر الزامات سے لاتعلقی کا اعلان کرنا تھا اور یہ موقف اختیار کرنا تھا کہ یہ الزامات حکومت کی مرضی سے نہیں لگائے گئے اور حکومت ان سے لاتعلق ہے، تو یہ بیان منگل کے روز ہی جاری کیا جا سکتا تھا،لیکن شواہد سے بظاہر یہی لگتا ہے کہ وزیر قانون اور حکومت کو معاملے کی سنگینی کا احساس اس وقت ہوا جب فاضل بنچ نے ثبوت مانگے یا معافی کا مطالبہ کیا،اس وقت تک بھی وزیر قانون فروغ نسیم کا وہ موقف سامنے نہیں آیا تھا،جو انہوں نے انور منصور خان کے استعفے کے متعلق اختیار کیا۔انور منصور خان کہتے ہیں کہ انہوں نے پاکستان بار کونسل کے مطالبے پر استعفا دیا،جبکہ حکومت کا موقف ہے کہ انہوں نے استعفا خود نہیں دیا،اُن سے لیا گیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر استعفا لینا ہی تھا تو منگل کو عدالتی کارروائی کے فوراً بعد ہی لیا جا سکتا تھا اس کے لئے جمعرات تک کا انتظار کیوں کیا گیا، جب انور منصور خان کے بقول وہ خود استعفا دے چکے تھے۔استعفا دینے تک ان کی وزیراعظم، وزیر قانون یا کسی دوسرے حکومتی عہدیدار سے بات تک نہیں ہوئی۔

انور منصور خان نے عدالت کے روبرو ججوں پر جو الزامات لگائے وہ واپس لئے جا چکے، اور اُن کی تفصیل بھی سامنے نہیں آئی،اِس لئے ان پر اظہارِ خیال سے گریز کرتے ہوئے یہ سوال اُٹھایا جا سکتا ہے کہ انور منصور خان کا یہ بیان کہ وزیر قانون اور شہزاد اکبر خود عدالت میں موجود تھے اور انہوں نے عدالتی کارروائی کے بعد اُن کے بیان کو سراہا تھا،کس حد تک درست ہے۔ اگر یہ درست ہے تو اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ اس وقت تک کم از کم ان دونوں حضرات کو انور منصور خان کے الزامات پر مبنی بیان سے کوئی اختلاف نہیں تھا، اگلے روز جب فاضل بنچ کا سخت ردعمل سامنے آیا تو پھر یہ شاید سوچا گیا کہ انور منصور خان کے بیان کا ساتھ دیا جائے یا نہیں،لیکن بدھ کو بھی عدالتی کارروائی کے بعد تک حکومت کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔لاتعلقی کا بیان جمعرات کو عدالت میں داخل کیا گیا اور اسی دن انور منصور خان نے استعفا دیا یا اُن سے لے لیا گیا، لگتا ہے درمیانی وقت ”تھاٹس اور آفٹر تھاٹس“ کی کشمکش میں گزرا۔

کہا جاتا ہے کہ گذشتہ کچھ عرصے سے انور منصور خان دباؤ میں تھے، عدالتوں کے روبرو حکومت کا مقدمہ لڑنے کا کام خاصا نازک ہے، توسیع کے معاملے پر بھی تین روز تک انور منصور خان نے جو دلائل دیئے اُن کے بارے میں بھی کہا گیا کہ وہ اُن جیسے سینئر قانون دان کے شایانِ شان نہیں تھے، لیکن نازک مقدمات میں پھونک پھونک کر بات کرنا پڑتی ہے اور بعض اوقات احتیاط کا دامن چھوٹتا ہوا بھی نظر آتا ہے،اِس لئے اگر ایک ہائی پروفائل کیس میں انور منصور خان کے دلائل متاثر کن نہیں تھے تو یہ سمجھ میں آنے والی بات ہے، قاضی فائز عیسیٰ کیس بھی انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے وہ سپریم کورٹ کے حاضر سروس سینئر جج ہیں اور اگر وہ اپنے عہدے پر قائم رہتے ہیں تو اپنی سینیارٹی کے لحاظ سے چیف جسٹس بھی بن سکتے ہیں اُن کے خلاف اچانک ریفرنس سامنے آیا تو قانون دان حلقے اور عدالتی امور سے دلچسپی رکھنے والے لوگ حیران رہ گئے تھے،کیونکہ ریفرنس کے ساتھ ہی اُن پر الزامات بھی سامنے آ گئے تھے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ یہ الزامات دانستہ میڈیا کو لیک کئے گئے اور چند دن تک اِن کی خوب تشہیر ہوتی رہی۔ یہ سوال بھی زیر بحث آیا کہ اگر کسی ادارے نے اُن کے خلاف خفیہ تحقیقات کی تھی تو یہ اخبارات تک کیسے پہنچی؟دورانِ سماعت اس سوال کی باز گشت بھی سنی جاتی رہی ہے اور مزید بھی سنائی دے گی۔

اب یہ مقدمہ اپنے انجام کی طرف بڑھ رہا تھا کہ درمیان میں اٹارنی جنرل کے استعفے کا حادثہ ہو گیا۔حکومت بھی ان الزامات سے لاتعلق ہو گئی ہے،جو اٹارنی جنرل نے ججوں کے بارے میں اپنے بیان میں لگائے تھے تاہم اس سے پہلے وہ خود بھی یہ الزامات واپس لے چکے تھے،اب نئے اٹارنی جنرل نئے سرے سے اپنا کیس تیار کریں گے اور حکومت سے نئی ہدایات کی روشنی میں دلائل تیار کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنی حکومت کے ترجمانوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ عدلیہ کے بارے میں بیان بازی سے گریز کریں،انہوں نے سختی سے ہدایت کی کہ ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہو گی۔وزیراعظم کی یہ ہدایت بروقت ہے ورنہ خدشہ تھا کہ اب تک بہت سے ترجمان فروغ نسیم کے موقف کی حمایت میں میدان میں آ چکے ہوتے اور اٹارنی جنرل کے خلاف جو ابھی ابھی سابق ہوئے ہیں شکایات کا انبار لگا دیتے۔عمومی چلن یہی ہے کہ کل تک جو شخص حکومت کی نمائندگی کر رہا تھا اس کے مستعفی ہوتے ہی اُس کے سارے محاسن، معائب میں بدل گئے اور اُس کی ساری مہارتیں اور صلاحیتیں نظر انداز ہو گئیں اور وہ گردن زدنی ٹھہرا،یہی کچھ انور منصور خان کے ساتھ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مزید : رائے /اداریہ