کرونا وائرس کی تباہ کاریاں اور عالمی معیشت

کرونا وائرس کی تباہ کاریاں اور عالمی معیشت
کرونا وائرس کی تباہ کاریاں اور عالمی معیشت

  



چین لا ریب دنیا کی ایک عظیم طاقت ہے۔ تہذیبی و تمدنی اور معاشی و عسکری طور پر بھی چینی عظیم قوم ہیں۔ چین میں تعمیر و ترقی کا عمل 60ء کی دھائی میں شروع ہوا، پھر چین نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، ہر قدم آگے ہی بڑھتا چلا گیا۔دُنیا کی معاشی، معاشرتی اور دیگر اعشاریوں پر نظر رکھنے والے اداروں کے بقول چین عالمی معاشی منظر پر چھا جانے کی راہ پر گامزن ہے اور بہت جلد (شاید کچھ ہی سال میں) دُنیا کی سب سے بڑی معیشت بن جائے گا۔ چین نے جی- 5 لانچ کر کے دنیا پر اپنی سائنسی و تکنیکی برتری ثابت کر دی ہے۔ انفارمیشن اور کمیونی کیشن ٹیکنالوجی پر لیڈنگ پوزیشن کے ساتھ چین آگے ہی بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ چین نے ”ون بیلٹ ون روڈ“ کے عالمی منصوبے کے ذریعے معاشی و تجارتی میدان میں بھی عالمی منظر پر چھا جانے کی راہ اختیار کی ہے۔

چین ایک عالمی طاقت ہے اور نمبر ون بننے کی راہ پر گامزن ہے، لیکن ”ناول کرونا وائرس“ نے سب کچھ الٹ پلٹ کر رکھ دیا ہے۔ چین اس وائرس کی تباہ کاریوں کے حوالے سے عالمی منظر پر چھایا ہوا ہے، پوری دُنیا کے ساتھ اس کا لین دین، تجارت منقطع ہو رہی ہے، چینی بر آمدات جمود کا شکار ہو چکی ہیں، چین سے روانہ ہونے والی ٹریفک روک دی گئی ہے، برآمدی آرڈر معطل ہو چکے ہیں،اشیاء و خدمات کی برآمدات مکمل طور پر رک گئی ہیں۔ دوسری طرف چین کی طرف گامزن ہر قسم کی ٹریفک بھی روک دی گئی ہے، چینی درآمدات بھی رک گئی ہیں، چینی معیشت کا پہیہ سست روی کا شکار ہو گیا ہے، چین اِس وقت ہنگامی دور سے گزر رہا ہے اس میں بھی ہمیں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ چینی عظیم قوم ہیں، چین ایک عظیم مملکت ہے، چین کے رہنما اس بحران پر قابو پانے کی شاندار کاوشیں کر رہے ہیں، بڑے سائنٹیفک انداز میں اس عفریت سے نبرد آزما ہیں، اسے شکست دینے کے لئے یکسو ہیں اور وہ اس میں یقینا کامیاب بھی ہو جائیں گے، لیکن یہ بات بھی طے ہے کہ چین کے عالمی اقتصادی منظر پر چھا جانے کے لئے تیزی سے اُٹھتے قدم سردست رک گئے ہیں۔

یوں تو ان قدموں کو روکنے اور چینی ترقی کی راہ کھوٹی کرنے کے لئے امریکہ نے چین کے خلاف تجارتی پابندیاں بھی عائد کی تھیں، چین کے خلاف تجارتی جنگ کا اعلان بھی کیا تھا، لیکن چین اپنی طے شدہ رفتار کے ساتھ آگے ہی آگے بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ عالمی ماہرین اور تجزیہ نگار اس بات پر متفق تھے کہ بہت جلد چین عالمی نمبرون بننے جا رہا ہے، لیکن اب یہ معاملہ موخر ہوتا نظر آنے لگا ہے۔ وائرس نے تہلکہ مچا دیا ہے، ہر شے، ہر منصوبہ الٹ پلٹ کر رکھ دیا ہے…… عالمی فلم انڈسٹری میں چین دُنیا کی دوسری بڑی مارکیٹ ہے۔ کسی بھی فلم کی کامیابی یا ناکامی کا تعلق چینی فلم بینوں کی ہاں یا ناں سے ہوتا ہے۔ پوری دُنیا سے میوزک گروپ اپنی قسمت آزمائی کے لئے چین کا رخ کرتے ہیں،جہاں خوشحال لوگ ٹکٹ بھی خریدتے ہیں اور سپانسر شپ بھی دیتے ہیں۔

پوری دُنیا سے بڑے بڑے گروپ سالہا سال پہلے چین میں پروگرام کرنے کے لئے منصوبہ سازی کرتے ہیں،کیونکہ انہیں نہ صرف سپانسرشپ ملنے کے امکانات ہوتے ہیں،بلکہ ٹکٹوں کی فروخت کے ذریعے بھی شو کی کامیابی کا یقین ہوتا ہے۔ پوری دُنیا سے یہاں ریلیز ہونے والی فلمیں اور میوزک شو مکمل طور پر منسوخ ہو چکے ہیں۔ ہانگ کانگ میں منعقد کئے جانے والا آرٹ میلہ بھی اسی وجہ سے منسوخ کر دیا گیا ہے، جبکہ نیو یارک میں نوادرات کی نیلامی کا ایک بہت بڑا پروگرام بھی اسی لئے منسوخ کر دیا گیا ہے کہ چینی اس پروگرام میں شریک نہیں ہو سکیں گے۔ امریکیوں نے نوادرات کی یہ نیلامی ایسے ہی منسوخ نہیں کی، کیونکہ چینی شرکاء کی عدم شرکت کے باعث اس کی کامیابی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔نوادرات کے حوالے سے چین دُنیا کی تیسری بڑی مارکیٹ ہے۔ آرٹ باسیل اینڈ یو بی ایس گلوبل آرٹ مارکیٹ کی رپورٹ کے مطابق چین 2018ء میں آرٹ مارکیٹ کا تیسرا بڑا سرمایہ کار رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2018ء میں اس مارکیٹ کا حجم 68 ارب ڈالر تھا،جس میں چین کا حصہ 19فیصد، برطانیہ کا 21 فیصد، جبکہ امریکہ 44 فیصد کے ساتھ سر فہرست رہا۔ آرٹ باسیل اینڈ یو بی ایس گلوبل کے زیر اہتمام رواں ماہ میں ایک عالمی آرٹ شو کا اہتمام کیا گیا تھا، جس میں چین اور دُنیا کے اطراف سے آنے والے صارفین کو فروخت کے لئے فن پارے پیش کئے جانے تھے۔یہ ایک بہت بڑی معاشی سرگرمی تھی، جسے چین میں جاری وائرس بحران کے باعث منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اس سرگرمی میں، شو سے پہلے، شو کے دوران اور شو کے بعد ہانگ کانگ، بیجنگ، شنگھائی،ہنوئی، ٹوکیو اور اطراف سے آنے والے وفود کاک ٹیل پارٹیوں، کشتی رانی اور اسی طرح کی کئی تفریحی سرگرمیوں میں شریک ہوتے ہیں، معاشی سرگرمیاں عروج پر ہوتی ہیں، کاروبار میں گرمی پیدا ہوتی ہے۔ یہ سب سرگرمیاں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں، کیونکہ ناول کرونا وائرس کی ہلاک انگیزی نے پوری دُنیا پر خوف و ہراس کی فضا قائم کر دی ہے۔

عالمی آرٹ شو کی منسوخی سے صرف فن پاروں کی خرید و فروخت ہی متاثر نہیں ہوئی،بلکہ آرٹ گیلریوں اور آرٹ کی دنیا میں ایک شدید بحرانی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ عالمی سطح پر ہونے والا یہ شو، وقتی سرگرمی نہیں ہوتی، بلکہ اس کی بنیاد پر آنے والے سال کے دوران آرٹ کی دُنیا میں سرگرمیاں فروغ پاتی ہیں۔ آرٹ سے محبت کرنے والے فن پاروں اور ان کے تخلیق کاروں کے ساتھ روابط قائم کرتے ہیں، فن پارے خریدتے ہیں، نئے فن پاروں کے آرڈر دیتے ہیں، اس طرح تخلیقی اور کاروباری سرگرمیاں فروغ پاتی ہیں،جو اس بار فروغ نہیں پا سکیں گی۔ نیو یارک کے میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ اینڈ براڈوے تھیٹر جیسے بڑے اداروں، جو چینی سرمایہ کاروں کی اعانت کے مرہونِ منت نہیں ہوتے، کے مطابق ہم جاری صورتِ حال کا بڑے غور اور احتیاط کے ساتھ جائزہ لے رہے ہیں۔ وائرس کے باعث چینی گروپوں نے اپنے دورے منسوخ کر دیئے ہیں، اگر یہ بحران جاری رہا اور وباء پھیلتی گئی تو اس بات کے بھی امکانات ہیں کہ دیگر ممالک کے لوگ بھی خود بخود سفر کرنے سے رُک جائیں اس طرح معاملات میں شدید گراوٹ پیدا ہو گی۔

پیرس کے لوورے گروپ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سردست ان کے کاروبار میں کمی دیکھنے میں نہیں آئی، کیونکہ پیرس آنے والے آرٹ لوورز کی تعداد میں کمی نہیں آئی۔ دُنیا کے مختلف خطوں سے آنے والے سیاح اسی طرح آ رہے ہیں اور رونقیں جاری ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال ایک کروڑ سیاحوں نے پیرس کے اس آرٹ میوزیم کا دورہ کیا، جن میں 8 لاکھ سیاحوں کا تعلق چین سے تھا۔ گویا چینی سیاح فنون لطیفہ کی دُنیا میں بھی اہمیت کے حامل ہیں اور آرٹ انڈسٹری میں ایک اہم عامل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آرٹ گیلریز کا سارا کاروبار صرف یہاں آنے والے سیاحوں کا مرہون منت نہیں،بلکہ انٹرنیٹ اور موبائل فونز کے ذریعے بھی کاروبار چلتا ہے۔ نیٹ کے ذریعے پوری دُنیا میں پھیلتے ہوئے صارفین، گیلریوں سے رابطہ کرتے ہیں،لین دین کرتے ہیں۔ہانگ کانگ کی ایک آرٹ گیلری کے منتظم کے مطابق اس نے حالیہ دِنوں میں نیٹ کے ذریعے خاصا کاروبار کر لیا ہے۔

اس نے جو نوادرات نمائش میں لے جانے تھے ……(نمائش اب کرونا وائرس کے باعث منسوخ ہو چکی ہے) …… اس کا خاصا حصہ نیٹ کے ذریعے بیچ دیا ہے۔ آرٹ گیلری کے مالک نے حالات دیکھتے ہوئے کرائے میں 5 فیصد کمی بھی کر دی ہے تاکہ ہمارے نقصانات کا کچھ نہ کچھ ازالہ ہو سکے۔ ہم سب ایک مربوط عالمی معیشت کا حصہ ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک امریکہ عالمی معیشت کے انجن کی حیثیت رکھتا تھا، لیکن اب چین بھی کسی نہ کسی طرح اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ چینی برآمدات اور درآمدات کا حجم عالمی تجارت میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ معیار اور مقدار کے لحاظ سے چینی تجارت عالمی صنعتی و تجارتی دُنیا کو متاثر کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ناول کرونا وائرس نے صرف چینی معیشت پر ہی منفی اثرات مرتب نہیں کئے،بلکہ دُنیا کی دیگر معیشتیں بھی اس کا شکار ہو رہی ہیں۔ گو یہ اثرات فوری طور پر ظاہر نہ بھی ہوں، لیکن اگر یہ بحران اسی طرح جاری رہا اور اس کی ہلاکت خیزیاں بڑھتی چلی گئیں، تو وہ وقت دور نہیں جب ساری دُنیا اس کے منفی اثرات کی لپیٹ میں آجائے گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب مل جل کر اس قدرتی آفت کا مقابلہ کرنے اور اس کے آگے بند باندھنے میں یکسو ہو جائیں، وگرنہ معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن تک بھی جا سکتے ہیں، اللہ خیر کرے۔

مزید : رائے /کالم