کشمیر کی آزادی کا راستہ

کشمیر کی آزادی کا راستہ
کشمیر کی آزادی کا راستہ

  



مینار پاکستان تعمیر ہوا تو اس کے لئے سرکاری سطح پر یادگار کا بورڈ آویزاں کر دیا گیا تھا…… ”یادگار پاکستان“…… پھر یوں ہوا کہ بعض ارباب شعور نے، جن میں شاید آغا شورش کاشمیری اور رفیق احمد باجوہ ایڈووکیٹ نمایاں تھے، حکومت وقت کی توجہ دلائی کہ حضور! یادگار، دنیا سے اٹھ جانے والوں کی ہوتی ہے، جن کا وجود، نابود ہو گیا ہو۔ پاکستان تو اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے قائم و دائم ہے اور رہے گا۔ الغرض انتظامیہ کو بورڈ بدلنا پڑ گیا،یعنی یادگار کی جگہ مینار!……مینار پاکستان کی رعایت سے یہ قصہ یا واقعہ مجھے 5فروری کو یوم یکجہتی ء کشمیر کے موقع پر یاد آیا،جو ملکی سطح پر منایا گیا۔

بھولی بسری یادوں کو دہرایا گیا۔ غیر ازمعانی الفاظ کے استعمال میں بھی کوئی کسی سے پیچھے نہیں رہا۔ ہم کشمیریوں کے ساتھ تھے، ہیں اور رہیں گے۔ خون کے آخری قطرے اور آخری گولی تک ساتھ نباہنے کا عہد! اگر الفاظ اور دعوؤں کے کاروبار سے مقبوضہ کشمیر کو آزادی نصیب ہو سکتی ہے تو گویا ہوا چاہتی ہے!مَیں یہ نہیں کہتا کہ مسئلہ کشمیر کا حل جنگ ہے، تاہم اتنی بات ضرور ہے کہ مسئلہ کشمیر امن کی آشاؤں سے حل ہونے والا نہیں۔ موجودہ ڈھنگ سے اگر ایک ہزار سال بھی گزر یا گزار دیئے گئے تو صبحِ آزادی نمودار نہیں ہونے والی! اس کا حل صرف مسلح جدوجہد ہے۔ ویت نام، الجزائر اور افغانستان کی طرز پر حریتِ عمل! آزادی کی ایک قیمت ہے اور قیمت ادا کئے بغیر نہ کبھی کچھ ہوا ہے اور نہ ہو سکتا ہے! کشمیریوں کو باقاعدہ لہو کا خراج پیش کرنا ہو گا۔

ہندوؤں کے ہاتھوں صرف مرنا نہیں، بلکہ انہیں مارنا بھی ہے……اس کے برعکس مشرقی تیمور کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے، حالانکہ اس کے بارے میں عموماً لوگ نہیں جانتے کہ خون ریزی کے بغیر یہ کیسے خود مختارہوا؟

جن لوگوں نے مشرقی تیمور کی آزادی کے اسباب کو نہیں جانا پہچانا، وہ اپنے اس موقف میں حق بجانب ہیں۔ جن طاقتوں نے تب ڈرامے میں حصہ لیا اور کردار ادا کیا تھا، اگر وہ اب بھی اپنا حصہ ڈالیں تو مقبوضہ، آزاد ہو سکتا ہے! لیکن ایسا کون کرے گا اور کیوں؟کشمیر، پاکستان کی شہ رگ ہے، جبکہ ہندوستان اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ جب تک بھارت کا انگ انگ نہیں ٹوٹ جاتا، کشمیر آزاد نہیں ہو گا۔ ہم دعویٰ تو یہ کرتے چلے آئے ہیں کہ خون کے آخری قطرے تک کشمیریوں کا ساتھ دیں گے، مگر عملاً کچھ بھی نہیں کر پا رہے! تقریروں، تحریروں، یادداشتوں، ریلیوں اور خالی خولی قراردادوں سے مسئلہ حل نہیں ہونے والا۔ چالیس سال ہوتے ہیں، افغانستان میں مزاحمت جاری ہے۔ غیور افغانوں نے نہ کبھی اقوام متحدہ کے سامنے احتجاج کیا، نہ ہاتھوں کی زنجیر بنائی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے اندر سے آزادی کی مسلح جدوجہد کا آغاز ناگزیر ہے۔ افغانستان کی طرز پر مزاحمت!……مجھے شدید خدشہ لاحق ہے اور مودی سرکار کی تزویرات سے بھی لگتا ہے کہ وہ کشمیر کے اندر سے غداروں کو تلاش کرنے میں لگا ہواہے، اگر انڈیا کا ناک میں دم نہ کر دیا گیا تو وہ جلد کوئی انتظام کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ کہیں نہ کہیں سے کوئی نہ کوئی شیخ عبداللہ یا محبوبہ مفتی میسر آ سکتے ہیں۔ کشمیریوں کو اب یا کبھی نہیں کا مرحلہ درپیش ہے اور ہم عملاً کوئی فیصلہ کن نتیجہ اخذ نہیں کر پا رہے!

عجب، بلکہ غضب یہ ہے کہ کشمیری ہماری طرف دیکھتے ہیں اور ہم مسلم امہ یا بین الاقوامی برادری کی طرف! کون سی مسلم امہ اور کہاں کی عالمگیر برادری؟ خلافتِ عثمانیہ کا سقوط ایک پیچ در پیچ سازش کی تمہید تھی اور ”ایک دل کے ہوئے ٹکڑے ہزار“ اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ یہ بحرین، کویت، مسقط، دبئی اور سعودی عرب یونہی تو معرض وجود میں نہیں آ گئے تھے۔ محافظِ حرمین شریفین کے نعروں کا پس منظر بے وقوفی ہے یا لاعلمی! وگرنہ سب کے سب……!حصولِ کشمیر کا ایک ہی اصول موجود ہے اور اسے جہاد کہتے ہیں، نہیں تو غلامی کی یہ سیاہ رات ڈھلنے والی نہیں۔ کیا ہم واقعی کشمیر کو آزاد دیکھنا چاہتے ہیں؟ ایک سے بڑھ کر ایک سوال ہے۔یہ کیا اندازِ سخن ہے کہ مودی نے غلطی کی تو سبق سکھا دیں گے، چپے چپے کی حفاظت کریں گے، فرد فرد خون کے آخری قطرے تک لڑے گا…… کون؟ کب؟ کہاں؟ ارے بابا! ہمارے آزاد کشمیر پر کون کم بخت حملہ کرنے جا رہا ہے! ہم ایک عرصے سے قوم کو امید دلا اور کشمیریوں کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں۔

حقیقت مگر یہ ہے کہ کوئی ہاتھ کرامت دکھانے والا نہیں۔ تاریخ میں اس سے بہتر کبھی کوئی موقع نہیں آیا، جو برابر ضائع کیا جا رہا ہے۔ ائر مارشل اصغر خان نے کشمیر کے بارے میں برسوں قبل جن خدشات کا اظہا رکیا تھا، وہ سچ ثابت ہو رہے ہیں۔ کشمیر آزادی کی طرف نہیں،شائد مزید غلامی کی طرف بڑھ رہا ہے اور کشمیر کا حل اعلانیہ جنگ نہیں، مگر غیر اعلانیہ جنگ کا آغاز تو لازم ہے۔ہر قسم کی غیر اعلانیہ جنگ! افغانستان تین بڑی طاقتوں کا قبرستان بن سکتا ہے تو کشمیر ہندوستان کا کیوں نہیں! اگر ہم نے قبرستان آباد کرلئے تو ہندوستان برباد ہو سکتا ہے۔ کشمیر آزاد تب ہو گا، جب بھارت برباد ہوگا۔

مزید : رائے /کالم