کرونا وائرس اور چین میں پاکستانی؟

کرونا وائرس اور چین میں پاکستانی؟
کرونا وائرس اور چین میں پاکستانی؟

  



دو روز قبل اسلام آباد میں اس وقت صورتِ حال خراب ہو گئی، جب وزیراعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور معاون خصوصی زلفی بخاری کو ہال چھوڑنا پڑ گیا کہ چین میں پھنسے طالب علموں کے وارث ان کے گلے پڑ گئے تھے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا اور زلفی بخاری اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایت پر ان لواحقین کو چین میں موجود طلباء اور کرونا وائرس کی صورتِ حال پر اعتماد میں لینے کے لئے آئے تھے،ڈاکٹر ظفر مرزا نے اپنے بیان کے مطابق ہی موقف دہرایا کہ اس وقت طلباء کو واپس لانے سے بہتر یہ ہے کہ وہ وہیں رہیں،والدین کو یہ بات نہ پہلے پسند تھی، نہ اس وقت آئی اور انہوں نے شدید احتجاج کیاتھا، حتیٰ کہ نوبت اس حد تک آ گئی کہ وہ لوگ ان کی طرف لپکے، جس پر دونوں حضرات حفاظتی حصار میں ہال چھوڑنے پر مجبور ہو گئے،جہاں تک چین میں پھیلے کرونا وائرس کا تعلق ہے تو اس کی وجہ سے پوری دُنیا کو پریشانی اور خطرات لاحق ہیں،ہر ملک نے اپنے اپے طور پر حفاظتی انتظامات کئے توعلاج کے لئے تحقیق بھی شروع کر دی ہوئی ہے، یہ صرف پاکستان ہے، جہاں ایسی کسی مساعی کا سلسلہ نہیں اور یہی بہتر جانا گیا کہ جو پاکستانی چین میں ہیں وہ وہاں ہی رہیں۔

جہاں تک کرونا وائرس کا تعلق ہے تو اب تک چین سے ملنے والی خبروں ہی سے یہ علم ہوا کہ یہ خطرناک وائرس ہے،جو نزلہ زکام قسم کی شے ہے اور یہ چین میں صوبہ ووہان سے شروع ہوا اور ووہان یوں بھی تعلیمی گہوارہ ہے اور یہاں کی یونیورسٹیوں میں پاکستانی طالب علموں کی بھاری تعداد زیر تعلیم ہے، چین نے وبا پر قابو پانے کے لئے اس شہر کو قرنطینہ قرار دے دیا ہوا اور اسے بند کر کے آمدورفت کی پابندی لگائی ہوئی ہے، لوگ گھروں میں بند اور سڑکیں، بازار ویرن ہیں، ان کو سختی سے ہدایت ہے کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں اور اندر بھی حفاظتی انتظامات رکھیں، باہر نکلنے کی مجبوری ہو تو ماسک اور خصوصی لباس کے ساتھ آئیں، طلباء وہاں کے ہوسٹلوں میں مقیم ہیں اور ہوسٹل بھی قرنطینہ ہی کا شکار ہیں، یہاں سے بھی آنے جانے کی اجازت نہیں،

پاکستان نے چین سے تعاون کا اعلان کر رکھا ہے اور ڈاکٹر ظفر مرزا کا تعاون یہ ہے کہ وہ پاکستانیوں کو وباء کے خاتمے تک چین ہی میں رکھنے کے حامی ہیں،ان کے بقول پاکستان کے پاس اس وبائی مرض کا شافی علاج نہیں ہے،جبکہ چینی حکومت اور ڈاکٹر زیادہ بہتر طریقے سے اس وباء کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ڈاکٹر ظفر مرزا کے مطابق پاکستان میں حفاظتی انتظامات کر لئے گئے، چین یا کسی اور متاثرہ شہر سے آنے والوں کی صحت دیکھی جاتی اور ان کی پڑتال ہوتی ہے،اگر کوئی مشکوک ہو تو اسے قرنطینہ میں رہنے کا پابند کیا جاتا ہے۔ مشیر صحت کے مطابق پاکستان محفوظ ہے اور یہاں کوئی مریض سامنے نہیں آیا، جن حضرات و خواتین پر شبہ ہوا، ان کو خصوصی وارڈ میں منتقل کر کے جائزہ لیا گیا، معائنہ اور صحت کی تصدیق ہو جانے کے بعد جانے دیا گیا۔

ڈاکٹر ظفر مرزا کے موقف میں جان ہو گی، لیکن یہ افسوس کی بات ہے کہ ابھی تک حکومت پاکستانیوں کو یہ نہیں بتا پائی کہ چین میں کتنے پاکستانی ہیں اور ان میں سے کتنے واپس آنے والے تھے، اور نہیں آئے، لہٰذا پاکستانیوں کی پوری تعداد کا پورا علم ہونا چاہئے، حکومت اب تک بتانے سے قاصر ہے اور جو دو چار لوگ کسی دوسرے ملک کے توسط سے پاکستان پہنچے ان کی سخت جانچ پڑتال کی گئی۔ جہاں تک چین میں پھیلی اس وباء کا تعق ہے تو اس سے ہر روز لوگ مر رہے ہیں اور اب تو مرنے والوں کی تعداد ڈھائی ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ متاثرین قریباً ایک لاکھ ہیں۔ یوں چین میں تو تاحال اموات ہو اور متاثرین بڑھ رہے ہیں، چینی حکومت کا کہنا ہے کہ وباء پر قابو تو پا لیا گیا، تاہم مرنے والوں کی تعداد روزانہ ایک سو سے زائد ہے۔ البتہ صحت یاب ہونے والے بھی ہزاروں ہی ہیں،اس کے باوجود شافی علاج دریافت نہیں ہوا، چین کے ڈسپلن کی وجہ سے کوئی بے چینی پیدا نہیں ہوئی اور خود سرکاری طور پر بتایا جاتا ہے کہ کتنی اموات ہوئیں اور متاثرین کی تعداد کتنی ہے، چنانچہ ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ وباء پر قابو پایا جائے اور اس حوالے سے تسلی بھی دی جا رہی ہے کہ شفایاب ہونے والے بھی ہزاروں ہی ہیں۔

جہاں تک پاکستانیوں کا تعلق ہے تو ان کا اپنے عزیز و اقربا سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ سفارت خانے کا رابطہ موجود ہے، لیکن شکایات یہ ہیں کہ سفارت خانہ بے بس ہے اور محصور پاکستانیوں سے ان کا حقیقتاً رابطہ نہیں ہے۔ چینی حکام سے توتعلق کا بتا رہے ہیں اور چینی حکومت کی طرف سے تحمل کا کہا جا رہا ہے، لیکن جن والدین کے بچے وہاں پھنسے ہوئے اور ان کی کوئی خبر بھی نہیں تو ایسے والدین کی ذہنی کیفیت کا اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ محصور طلباء کے والدین نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور عدالت کی ہدایت پر ہی بریفنگ کا اہتمام کیا گیا،جس میں یہ ہنگامہ ہو گیا،حکومت پاکستان کا یہ فرض ہے کہ وہ حالات کا جائزہ لے اور یہاں عوام کو مطمئن کرے۔یہ بھی درست کہ چین ہمارا دوست ہے اس کے حوالے سے منفی پراپیگنڈہ قطعاً نہیں ہونا چاہئے،لیکن ڈاکٹر ظفر مرزا کا یہ فرض بھی تو بنتا ہے کہ وہ دفتر خارجہ کے تعاون سے چین میں موجود پاکستانیوں کے بارے میں تازہ ترین معلومات سے عوام کو آگاہ کریں، یہ بھی بتائیں کہ وہاں کتنے پاکستانی کس کس شہر میں ہیں اور کس حال میں ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ یہ پاکستانی خود بھی اپنے گھر والوں سے مواصلاتی رابطہ کر سکیں اور اپنی خیریت سے خود آگاہ کریں، صرف یہ کہنا کہ پاکستانی وہاں زیادہ محفوظ ہیں تو محترم وہاں تو چینی بھی محفوظ نہیں، ہر روز سو سے زیادہ مر رہے اور ہزار سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ڈاکٹر ظفر مرزا اور حکومت کو مکمل آگاہی دینا ہو گی، رہ گیا کرونا وائرس تو اس کے بارے میں بہت کچھ کہنے کو ہے، مگر چین اپنا یارہے،اس پر جاں نثار ہے۔

مزید : رائے /کالم