عوام کو متاثرکرنے کا پی ایس ایل

عوام کو متاثرکرنے کا پی ایس ایل
عوام کو متاثرکرنے کا پی ایس ایل

  



شہباز شریف لندن میں بیٹھ کر ٹویٹر کے ذریعے اپوزیشن لیڈر کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ کیا یہ ایک سیاسی مذاق نہیں،کیا پاکستان میں مارشل لاء لگا ہوا ہے یا انہیں زبردستی جلا وطن کر دیا گیا ہے کہ وہ اس اہم موقع پر ملک واپس آ کر اپوزیشن کی قیادت نہیں سنبھال رہے اور وہاں بیٹھ کر ایک بیان جاری کر دیتے ہیں، کیا اُن کے بیانات کا حکومت پرکوئی اثر ہوتا ہے،یا خود عوام اُن کے بیان کو سنجیدہ لیتے ہیں؟حکومتی کارکردگی قابل ِ رشک نہ ہونے کے باوجود اپوزیشن کا آج جتنا بُرا حال ہے، ایسا تو پہلے کبھی بھی نہیں رہا۔ بڑھکیں ضرور ماری جاتی ہیں، مگر عملاً اپوزیشن حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی پوزیشن میں بالکل بھی نظر نہیں آتی۔مسلم لیگ (ن) تو بے جان گھوڑا بن چکی ہے، جس کی قیادت کرنے والا کوئی نظر نہیں آتا۔پیپلزپارٹی کی کمان بلاول بھٹو زرداری کو سونپ دی گئی ہے، اُن کی حالت بھی ایک ہارے ہوئے کھلاڑی جیسی ہے۔ وہ لاہور میں کارکنوں کو متحرک کرنے کا مشن لے کر آئے ہیں، لیکن اُن کی باتوں میں ایسی کوئی کشش ہی نہیں،جو پیپلزپارٹی کے تن مردہ میں جان ڈال سکے۔ وہ حکومت کے خلاف مہنگائی کو بنیاد بنا کر تحریک چلانا چاہتے ہیں،حالانکہ پہلے انہیں سندھ میں مہنگائی کم کرنے کی کوئی مثال قائم کرنا چاہئے تھی، جہاں تقریباً ساڑھے گیارہ سال سے پیپلزپارٹی کی حکومت ہے۔

سندھ میں آٹا سب سے مہنگا بک رہا ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ سندھ حکومت نے ضرورت کے باوجود گندم کا سٹاک نہیں کیا۔ اب جو پارٹی خود حکومت میں بیٹھی ہو، وہ مہنگائی کا رونا کیسے رو سکتی ہے؟ کیا مہنگائی صرف وفاقی حکومت کا معاملہ ہے، کیا ذخیرہ اندوزوں، مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف کارروائی صوبائی حکومت کی ذمہ داری نہیں؟بلاول بھٹو زرداری لاہور میں بیٹھ کر مہنگائی کا واویلا کر رہے ہیں، حالانکہ انہیں کراچی میں بیٹھ کر سندھ حکومت پر زور دینا چاہئے تھا کہ وہ حکومتی اقدامات کے ذریعے مہنگائی میں مصنوعی اضافے کو روکے۔

کیا یہ عمران خان کی کامیابی نہیں کہ انہوں نے اپوزیشن کو تتر بتر کر رکھا ہے، مجال ہے اپوزیشن جماعتیں اکٹھی ہو جائیں، ایک ہی ایشو پر ہونے کے باجوجود ایک نکتے پر متحد نہیں۔ مسلم لیگ(ن) کی باتیں سنو تو مہنگائی کے خلاف سڑکوں پر آنا چاہتی ہے،بلاول بھٹو زرداری کی تقریروں پر غور کرو تو لگتا ہے کہ مہنگائی کے سوا اُن کا کوئی ایجنڈا ہی نہیں، مولانا فضل الرحمن پر نظر ڈالو تو موصوف حکومت کو عوام دشمنی پر چلتا کرنے کے لئے بے تاب ہیں، جماعت اسلامی مہنگائی کے خلاف اپنی تحریک کا آغازکر چکی ہے……مگر سب اپنی اپنی ڈفلی بجا رہے ہیں،اکٹھے ہونے کو تیار نہیں۔ اب اسے حکومت کی کامیابی نہ کہا جائے تو اور کیا ہے؟ لاہور میں بلاول بھٹو زرداری سے جب صحافیوں نے پوچھا کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف تو ملک سے باہر ہیں، پھر حکومت کو گرانے کے ایجنڈے پرکیسے کام ہو سکتا ہے؟ اس کا انہوں نے جواب دیا کہ ہر سیاسی جماعت کا اپنا ایجنڈا ہوتا ہے۔ شہباز شریف کو واپس آنا چاہئے، لیکن اگر وہ نہیں بھی آتے تو ہم اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔ صاف لگ رہا ہے کہ سیاسی جماعتیں صرف سیاست میں خود کو زندہ رکھنے کے لئے سارا ناٹک رچائے ہوئے ہیں،وگرنہ اُنہیں بھی معلوم ہے کہ اس وقت نہ تو حکومت کو گھر بھیجنے کے حالات ہیں اور نہ عوام ابھی کوئی تبدیلی چاہتے ہیں۔

کسی نے کیا پتے کی بات کی ہے…… پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے بیرو میٹر کو جانچنے کا اصل پیمانہ آصف علی زرداری اور نواز شریف ہیں، اگر وہ فی الوقت سیاست سے لاتعلق ہیں تو سمجھو کہ دونوں سیاسی جماعتوں کا ابھی پاکستانی سیاست میں کوئی کردار نہیں،البتہ ہلکی پھلکی موسیقی اور بیان بازی کے ذریعے خود کو زندہ رکھنے کی کوششیں جاری رہیں گی۔چلیں جی مان لیا،نواز شریف تو ملک سے باہر ہیں اور علاج کی مہلت لے کر بیرون ملک گئے ہوئے ہیں۔ مریم نواز تو پاکستان میں ہیں، مگر انہوں نے مکمل چُپ سادھ رکھی ہے۔ کچھ تو ہے جس نے اُن کی زبان بندی کی ہے، پھر آصف علی زرداری بھی کراچی میں ہیں، وہ کیوں خاموش بیٹھے ہیں اور سارا اختیار بلاول بھٹو زردری کو دے رکھا ہے؟ وہ بڑے منجھے ہوئے اور سیانے سیاست دان ہیں، بہت سے مدوجذر دیکھ چکے ہیں، بہت مرتبہ سختیاں برداشت کی ہیں، جلا وطنیاں بھگتی ہیں، اُنہیں فضا کو سونگھ کر حالات کا اندازہ لگانے میں مہارت حاصل ہے۔ سو وہ جانتے ہیں کہ ابھی کسی بھی قسم کی تبدیلی خارج از امکان ہے۔

یہ نہیں کہ انہوں نے اِس ضمن میں کوشش نہیں کی، بلکہ کوشش کرنے کے بعد ہتھیار پھینک کر بیٹھ گئے ہیں۔ کسی کو آصف علی زرداری کی وہ باتیں یاد ہیں، جو انہوں نے کچھ عرصہ پہلے حکومت کے بارے میں کہی تھیں کہ اب اُسے مزید وقت نہیں دیں گے۔ کہا تھا کہ ہم سینیٹ کا چیئرمین بدل سکتے ہیں، تو وزیراعظم بدلنا کون سا مشکل ہے؟…… مگر پھر ایسا کیا ہوا کہ وہ سب دعوے بھول گئے، اب خاموشی کی چادر اوڑھے بیٹھے ہیں۔ حکومت بدلنے کا بیان تو درکنار اپنی خیریت سے متعلق بیان تک جاری نہیں کرتے، تو اِن حالات میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے ”بے اختیار“ لیڈر کسے بے وقوف بنا رہے ہیں۔ کیا مسلم لیگ(ن) نواز شریف کے بغیر کوئی بڑی سیاسی طاقت ہے، کیا بلاول بھٹو زرداری، آصف علی زرداری کا نعم البدل ثابت ہو سکتے ہیں،جبکہ وہ خود حیات ہیں؟ اندھے کو بھی معلوم ہے کہ سکہ اُن دونوں کا چل رہا ہے، وہ اگر خاموش اور لاتعلق ہیں تو سمجھ جانا چاہئے کہ کچھ نہیں ہونے والا۔ مسئلہ صرف خلاء پُر کرنے کا ہے۔ اگر میدان خالی چھوڑ دیا جائے، تو شاید جماعت اسلامی اور جمعیت العلمائے اسلام(ف) ہی آگے آ جائیں، یہ تو گوارا نہیں ہو سکتا۔

موجودہ منظر نامے میں جماعت اسلامی اور جے یو آئی (ف) کس مشن پر ہیں؟ یہ بھی ایک اُلجھا ہوا نکتہ ہے۔ بظاہر دیکھا جائے تو دونوں حکومت کو گھر بھیجنا چاہتی ہیں،دونوں کا مطالبہ نئے انتخابات ہیں، دونوں اِن ہاؤس تبدیلی کے خلاف ہیں، دونوں نے مہنگائی کواپنے احتجاج کی بنیاد بنایا ہے، لیکن دونوں مل کر جدوجہد کرنے کو تیار نہیں، حالانکہ ماضی میں ایم ایم اے بنا کر ایک دوسرے کی اتحادی بھی رہی ہیں۔ اس سے اُن کی حکومت کے خلاف تحریک میں غیر سنجیدگی کا اندازہ ہوتا ہے۔ کسی بہت بڑی تحریک کے بغیر حکومت کو دباؤ پر گھر بھیجنا دیوانے کا خواب ہے، مگر اس کے باوجود اگر یہ دونوں جماعتیں یہ خواب دیکھ اور دکھا رہی ہیں تو اس کا کوئی نہ کوئی مقصد تو ہو سکتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی بے چینی تو سمجھ میں آتی ہے، وہ25جولائی کے انتخابی نتائج سے ایسے بددل ہوئے ہیں کہ اُن کا دِل کہیں ٹِک نہیں رہا۔ وہ نتائج کے اگلے ہی روز یہ مطالبہ لے کر سامنے آ گئے تھے کہ انتخابات کالعدم قرار دیئے جائیں ……انہوں نے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کو یہ مشورہ بھی دیا تھا کہ رکنیت کا حلف نہ اٹھایا جائے، مگر ہر محاذ پر انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔

اس کے باوجود انہوں نے ہمت نہ ہاری اور آزادی مارچ اور دھرنے کا اعلان کر دیا۔ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے انہیں دھوکہ دیا اور جب وہ تنہا رہ گئے تو انہیں دھرنا ختم کرنا پڑا…… تاہم یہ سیاسی تنہائی انہیں ایک پل چین نہیں لینے دے رہی، وہ ماہی ئ بے آب کی طرح بے چین ہیں اور اب پھر قسمت آزمائی کرنا چاہتے ہیں۔دوسری طرف جماعت اسلامی ہے، جس کی عوامی حمایت کا دائرہ ہمیشہ محدود رہا ہے۔اتحادی سیاست کے بعد اُسے دو چار نشستیں مل جاتی ہیں۔ سراج الحق بھی جلسوں اور ریلیوں کو سیاست سمجھ بیٹھے ہیں۔ شاید وہ اس خلاء سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، جو مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی عدم فعالیت کے باعث پیدا ہوا ہے،یعنی سب اپنی اپنی گیم کو پی ایس ایل سمجھ کر کھیل رہے ہیں،مقصد عوام کو متاثر کرنا ہے، لیکن عوام اب آسانی سے متاثر ہونے کو تیار نہیں۔

مزید : رائے /کالم