آیئے مسکرائیں

آیئے مسکرائیں

  



٭بیوی نے خاوند سے کہا۔ آپ اپنے دوست کی بیوی کے جنازے پر کیوں نہیں جارہے،اس نے آپ کو خاص طور پر بلایا ہے آپ اس کے جنازے پر ضرور جائیں۔

خاوند نے کہا۔ میں نہیں جاؤں گا۔

”ارے کیوں آپ کا اتنا گہرا دوست ہے کیا یہ اچھا لگتا ہے“۔

خاوند نے کہا۔ وہ مجھے اپنی چوتھی بیوی کے جنازے پر بلارہا ہے اور میں نے اسے آج تک نہیں بلایا۔

ا٭یک شخص اپنے دوست سے شکایت کر رہا تھا کہ اس کی بیوی اس سے ہمیشہ ناراض رہتی ہے۔ دوست نے اسے مشورہ دیا کہ عورت کتنی ہی خفا کیوں نہ ہو۔تعریف سے خوش ہوجاتی ہے۔ آج شام کے کھانے پر اس کے پکائے ہوئے سالن کی تعریف کردینا۔چنانچہ اس آدمی نے شام کو پہلا نوالہ منہ میں لیتے ہوئے کہا ”آہا آہا بیگم مزہ آگیا، کیا غضب کا سالن پکایا ہے۔

”بیوی کھانا چھوڑ کر رونے بیٹھ گئی۔خاوند نے وجہ پوچھی تو بیوی نے کہا ”تم نے میری کسی چیز کی تعریف نہیں کی“۔

”تمہارے سالن کی تعریف تو کی ہے“۔ خاوند نے کہا۔

بیوی بولی ”یہ تو میں نے ہوٹل سے منگوایا ہے۔“

٭ایک جن نے اپنے انسان دوست سے کہا۔

آقا مجھے کوئی کام بتائیں کوئی حکم دیں تاکہ میں آپ کے لیے اسے پورا کر سکوں۔

دوست نے کہا کہ تم ایسا کرو میرے لیے پاکستان سے امریکہ تک ایک روڈ بنادو۔

جن: یہ تو بہت مشکل کام ہے۔

دوست: پھر ایسا کرو کہ میری بیوی کے دل میں میرے لیے محبت ڈال دو۔

جن نے فورآ گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا کہ روڈ سنگل چاہیے یا ڈبل؟؟

٭ایک ایکٹریس کی پندرہ سالہ بچی نے پوچھا۔”مما آپ کی عمر کیا ہوگی؟“۔

”یہی کوئی پچیس سال“۔ ایکٹریس ماں نے جواب دیا۔

بیٹی انگلیوں پر کچھ گننے لگی تو ماں نے پوچھا۔”کیوں کیا بات ہے؟

”کچھ نہیں مما“بیٹی بولی، ”میں حساب لگا رہی ہوں کہ میں کتنے سال بعد آپ سے بڑی ہوجاؤں گی۔

٭بوڑھے لکھ پتی کی نوجوان بیوی سے پوچھا گیا: آپ نے اپنے شوہر میں کیا دیکھا تھا؟

لڑکی بولی: ایک تو انکی اِن کم۔۔ دوسرے ان کے دِن کم۔

٭ایک آدمی نے سڑک پر ایک پتھر پر لکھا ہوا دیکھا،پتھر اٹھائیے قسمت آزمائیے،اس نے پتھر اٹھایا تو لکھا تھا،کسی دوسرے بیوقوف کے لئے رکھ دیں۔

مزید : ایڈیشن 1