چینی بحران کی تحقیقات کے لئے کمیٹی قائم، بڑے چو ر لندن چلے جائیں، اور چھوٹے پکڑے جائیں تو قومیں تباہ ہو جاتی ہیں: عمران خان

چینی بحران کی تحقیقات کے لئے کمیٹی قائم، بڑے چو ر لندن چلے جائیں، اور چھوٹے ...

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے چینی کی قیمتوں میں اضافے پر حقائق جاننے کے لئے اعلیٰ سطح انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی میں ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے، ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب اور انٹیلی جنس بیور کا گریڈ بیس یا اکیس کا افسر بھی شامل ہوگا۔ڈی جی ایف آئی اے بطور کنوینئر کسی بھی ممبر کو کمیٹی میں شامل کرنے کے مجاز ہونگے۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے انکوائری کمیٹی کو ایک درجن سے زائد سوالات بھجوا دیے گئے ہیں۔وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری مراسلے میں بھجوائے گئے سوالات میں کہا گیا ہے کہ کیا اس سال چینی کی پیداوار پچھلے سال کے مقابلے میں کم تھی؟ کیا کم پیداوار چینی کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنی؟ کیا حکومت کی جانب سے مقرر کی جانے والی گنے کی قیمت (سپورٹ پرائس) کافی تھی؟دیگر سوالات میں پوچھا گیا ہے کہ کیا شوگر ملوں نے مقرر کردہ پرائس سے بہت زیادہ قیمت پر گنے کی خریداری کی؟ اگر کی تو کن وجوہات کی بنیاد پر شوگر ملوں کی جانب سے کسانوں سے کچھ ہفتوں کی محدود مدت کے لئے گنا نہ خریدنے کی کیا وجوہات تھیں؟ اور اس کے چینی کی قیمت پر اثرات مرتب ہوئے؟مراسلے میں کہا گیا ہے کہ کیا ایکس مل اور پرچون کی سطح پر چینی کے فروخت کے مارجن پچھلے سالوں کے مقابلے میں بڑھے یا نہیں بڑھے؟ اگر ہاں تو کیوں اور اس سے کس نے فائدہ اٹھایا؟کمیٹی کو بھیجے گئے۔ ٹیکس میں اضافے کا چینی کی قیمت پر کتنا اثر پڑا؟ کیا چینی کی برآمد ٹھیک تھی؟ چینی کی برآمد پر سبسڈی اور اسکے اثرات اور اس سے کون مستفید ہوئے؟ سمیت دیگر سوالات شامل ہیں۔کمیٹی کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ حقائق کے تناظر میں ذمہ دار افراد، اداروں یا افسران کا تعین بھی کرے۔ کمیٹی اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ کیا کسی کو فائدہ پہنچانے کی کوشش تو نہیں ہوئی؟ اس کے علاوہ کمیٹی مستقبل کے حوالے سے سفارشات بھی پیش کرے گی۔

کمیٹی قائم

اسلام آباد،لیہ (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قومیں تباہ ہو جاتی ہیں جب بڑے بڑے لوگ لندن چلے جائیں اور چھوٹے چور کو پکڑ لیں۔ عمران خان لیہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئیوزیر اعظم نے کہا ہماری کوشش ہے کہ پاکستان کو فلاحی ریاست بنائیں، اب تک ملک میں جو کچھ ہوا، امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہو گیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار احساس پروگرام شروع ہو رہا ہے جس کے ذریعے 80 ہزار لوگوں کو بلاسود قرضے دیئے جائیں گے اور نوجوانوں کو ہر سال 50 ہزار اسکالرشپس دی جائیں گی۔عمران خان نے کہا کہ ہم پورے ملک میں پناہ گاہیں بنا رہے ہیں اور اب تک 180 پناہ گاہیں قائم کی جا چکی ہیں۔عدالتوں میں جانے والے غریب لوگوں کو پیسے دیں گے تاکہ وہ وکیل کر سکیں جب کہ سرکاری اسکولوں میں بہترین تعلیم کے لیے ایک نصاب رائج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، 70 سال میں جو تعلیم کا نظام بگڑا اسے ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا، اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے نظام لا رہے ہیں۔پولیس ریفارمز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ میں نے آئی جی کو کہا ہے کہ جو بڑے بڑے ڈاکو ہیں ان کو پکڑیں، پولیس بڑے چوروں کو پکڑے گی تو چھوٹے خود ٹھیک ہو جائیں گے۔و۔ان کا کہنا تھا پاکستان مقروض ملک تھا، ہر سال قرضوں کی قسطیں واپس کرنی تھیں، اگر ہم پچھلی حکومتوں کے لیے گئے قرض واپس نہ کرتے تو ملک ڈیفالٹ ہو جاتا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مشکل وقت سے نکل گیا ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوا ہے، روپیہ اور اسٹاک مارکیٹ اوپر آ گئی ہے، آنے والے دنوں میں عوام کو اور خوش خبریاں ملیں گی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان ممکنہ معاہدے کے ذریعے افغانستان میں قیام امن کی امید ہے،امریکہ امن اور طالبان کے ساتھ مذاکرات چاہتا ہے،جب سے اقتدار سنبھالا افغانستان میں قیام امن کیلئے تمام تر کوششیں کیں،بھارت میں مودی کی موجودہ حکومت سے کوئی امیدیں نہیں ہیں،سال 2020ء پاکستان کی اقتصادی بحالی کا سال ہو گا،پاکستان نے اپنے تمام علاقے سیاحت کے لئے کھول دیئے ہیں،70 ممالک کے شہریوں کو ایئرپورٹ پر ویزے دیئے جا رہے ہیں، اپنے مداحوں سے محبت کرتا ہوں، پاکستان میں میرے سے زیادہ فینز کسی کے نہیں ہیں،بطور انسان ہمیں جدوجہد کرنی چاہئیے، چاہے ہم کامیاب ہوں یا ناکام، کامیابی اور ناکامی اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بیلجیئم کے نشریاتی ادارے ’وی آر ٹی‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پہلی مرتبہ معاملات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، امریکہ امن اور طالبان کے ساتھ مذاکرات چاہتا ہے، طالبان اب امریکہ کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں، اگلے مرحلے میں سیز فائر ہو گا اور ممکنہ طور پر معاہدہ بھی ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب سے انہوں نے اقتدار سنبھالا ہے، انہوں نے افغانستان میں قیام امن کے لئے تمام تر کوششیں کیں، خوش قسمتی سے امور درست انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 10 سے 12 سال کے عرصے میں 70 ہزار سے زائد پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کی صورتحال پر قابو پانے میں پاکستان کی مسلح افواج بالخصوص انٹیلی جنس ایجنسیوں کے کردار کو سراہا اور کہا کہ انہیں یہ بات کہتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ان کی وزارت عظمیٰ کا پہلا سال یعنی 2019ء نائن الیون کے بعد سب سے پر امن ترین سال تھا۔ وزیراعظم کشمیر سے متعلق سوال پر کہا کہ بھارت کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ بھارت راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے نظریہ پر چلایا جا رہا ہے، آر ایس ایس 30 کے عشرے میں نازیوں سے متاثر ہے، آر ایس ایس کے بانیان جن کی آج کل بھارت میں حکومت ہے، وہ ہٹلر اور ان کے نسل پرستانہ آرین نسل کے فلسفے سے متاثر تھے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے 80 لاکھ سے زائد کشمیریوں کو کھلی جیل میں رکھا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہیں بھارت میں مودی کی موجودہ حکومت سے کوئی امیدیں نہیں ہیں تاہم مستقبل کی بھارت کی مضبوط قیادت مسئلہ کشمیر کو حل کرنا چاہیں گی۔ ملک کی اقتصادی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 2019ء پاکستان کے لئے مشکل سال تھا لیکن خوش قسمتی سے حکومت نے بروقت اقدامات اٹھائے، حکومتی اقدامات کے نتیجہ میں حسابات جاریہ کا خسارہ میں ایک سال میں 75 فیصد کمی ہوئی، سال 2020ء پاکستان کی اقتصادی بحالی کا سال ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے پاکستان کو غیر ملکیوں کے لئے کھول دیا ہے، 70 ممالک کے شہریوں کو ایئرپورٹ پر ویزے دیئے جا رہے ہیں، پاکستان نے اپنے تمام علاقے سیاحت کے لئے کھول دیئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سیاحت کے حوالے سے متنوع اور منفرد ملک ہے، پاکستان کو ابھی تک مکمل طور پر دریافت نہیں کیا جا سکا ہے، یہاں پر مہمان نوازی زیادہ ہے، ملک میں امن و سلامتی کے نتیجہ میں ہمیں امید ہے کہ سیاحت میں بہت زیادہ اضافہ ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت نے 10 ارب درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے جس سے جنگلات کے رقبے میں اضافہ ہو گا، جنگلی حیات بڑھیں گی اور ماحول پر مجموعی طور پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے تاہم یہ بات نوٹ کی کہ پاکستان ماحولیاتی آلودگی سے دیگر ممالک سے زیادہ متاثرہ ہے، ملک کا انحصار دریاؤں پر ہے اور 80 فیصد دریاؤں میں گلیشیئرز سے پانی آتا ہے، عالمی درجہ حرارت کے نتیجہ میں گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں اور یہ ہمارے لئے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ کرکٹ اور سیاسی کیریئر بارے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں ان سے زیادہ فینز کسی کے نہیں ہیں، میں اپنے مداحوں سے محبت کرتا ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ باقی زندگی کرکٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے گزار سکتے تھے تاہم کوئی کتنا سماجی کام کر سکتا ہے، فلاحی ریاست اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو امداد کی فراہمی کے لئے سیاست اور حکومت میں آنا ضروری تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ بطور انسان ہمیں جدوجہد کرنی چاہئیے، چاہے ہم کامیاب ہوں یا ناکام، کامیابی اور ناکامی اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے، اس لئے مجھے موت یا ناکامی سے کوئی خطرہ نہیں ہے، جو چیز میں سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں بھرپور کوشش کروں گا اور جب میں بھرپور کوشش کروں گا تو اس کا نتیجہ اللہ پر چھوڑوں گا، اللہ کا جو بھی فیصلہ ہو گا وہ مجھے قبول ہو گا۔۔ وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان اور جاپان کی مضبوط پارٹنر شپ اور تعمیر و ترقی میں تعاون کو سراہاتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان جاپان سے تعلقات میں مزید وسعت کا خواہاں ہے۔ جاپان انٹرنیشنل کو آپریشن ایجنسی (جائیکا) کے صدر شنیچی کیتاکا کی سے ملاقاتمیں وزیر اعظم عمران خان کو جائیکا کے تعاون سے پاکستان میں جاری منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعظم نے پاکستان اور جاپان کی مضبوط پارٹنر شپ اور تعمیر و ترقی میں تعاون کو سراہا۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان جاپان سے تعلقات میں مزید وسعت کا خواہاں ہے۔

عمران خان

مزید : صفحہ اول