کراؤن گروپ نے کم قیمت ماحول دوست گاڑیاں متعارف کرادیں

      کراؤن گروپ نے کم قیمت ماحول دوست گاڑیاں متعارف کرادیں

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر) بجلی سے چلنے والی ماحول دوست گاڑیوں کا انتظار ختم ہوگیا، مقامی آٹو کمپنی کراؤن گروپ نے بجلی سے چلنے والی کم قیمت اور اعلیٰ معیار کی حامل گاڑیاں متعارف کرادیں جن میں اسکوٹر، رکشہ اور کاریں شامل ہیں۔ بجلی سے چلنے والی کاریں اور رکشہ ماحول دوست ہونے کے ساتھ کفایت بخش بھی ہیں ایک کلومیٹر کا فاصل طے کرنے کے لیے صرف ایک روپے پچیس پیسہ کی لاگت آئیگی۔ کراؤن گروپ نے پاکستان میں بجلی سے چلنے والی گاڑیاں متعارف کرائے کے لیے 2ارب روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ بجلی سے چلنے والی ان جدید گاڑیوں کی تعارفی تقریب 21فروری کو کراچی میں منعقد ہوئی جس میں آٹو انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی بڑی تعداد،ڈیلرز، صارفین اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی ٹیسٹ ڈرائیو کا بھی اہتمام کیا گیا، تقریب کے شرکاء نے گاڑیوں کے معیار اور ڈیزائن کی تعریف کی اور کراؤن گروپ کی جانب سے پاکستان کی آٹو انڈسٹری کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو سراہا۔ تقریب میں کراؤن گروپ کے چیئرمین فرحان حنیف، منیجنگ ڈائریکٹر ایس ایم کاشف قسیم، بزنس ڈیولپمنٹ ڈائریکٹر زوہیب فرحان اور دیگر نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کراؤن گروپ کے چیئرمین فرحان حنیف نے کہا کہ ”پاکستان میں ماحول دوست کراؤن گاڑیاں متعارف کرانے پر فخر محسوس کررہے ہیں، اس وقت پاکستان میں آٹو اور آئل انڈسٹری کو چیلنجز کا سامنا ہے جس کے اثرات عام افراد پر بھی مرتب ہورہے ہیں۔ اعلیٰ معیار کی ماحول دوست گاڑیاں متعارف کراکے ہم ان چیلنجز پر قابو پانے کے لیے اپنا کردار ادا کررہے ہیں ساتھ ہی انڈسٹری میں جدت پر مبنی باسہولت اور مناسب قیمت کی گاڑیوں کا متعارف کا اضافہ کررہے ہیں۔ پاکستان میں کراؤن کا شمار موٹرسائیکلوں اور تین پہیوں کی سواری کے مارکیٹ لیڈرز برانڈ میں کیا جاتا ہے۔ کراؤن واحد مقامی کنزیومربرانڈ ہے جو انٹرنیشنل مارکیٹ میں ایکسپورٹ بھی کی جاتی ہے، کراؤن برانڈز پاکستان میں تمام سیگمنٹس کے لیے سلوشن فراہم کراتی ہے۔ کراؤن گروپ پرزہ جات اور سروسز کے اپنے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے صارفین کو بعد از فروخت خدمات بھی فراہم کررہا ہے۔ کراؤن گروپ کا نیٹ ورک پاکستان بھر میں 62ہزار سے زائد ریٹیلرز، ہول سیلرز اور رکشاپس پر مشتمل ہے۔

مزید : صفحہ آخر