مبینہ زیادتی کے ملزم جج کی امریکا سے ڈی این کرانے کی درخواست

مبینہ زیادتی کے ملزم جج کی امریکا سے ڈی این کرانے کی درخواست
مبینہ زیادتی کے ملزم جج کی امریکا سے ڈی این کرانے کی درخواست

  



سیہون(ڈیلی پاکستان آن لائن)خاتون سے مبینہ زیادتی کے ملزم جج نے درخواست کی ہے کہ زیادتی سے متعلق ڈی این اے امریکا سے کیاجائے۔دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم تعاون نہیں کررہا نہ ہی ڈی این اے کروایا ہے۔

نجی ٹی وی جیوز نیوز کے مطابق زیادتی کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج کوٹری رحمت اللہ موریو کی عدالت میں ہوئی جس میں ملزم جج امتیاز بھٹو بھی پیش ہوئے۔دوران سماعت ملزم کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ ان کے مو¿کل کاڈی این اے امریکاکی لیبارٹری سے کرانے کی اجازت دی جائے۔

جج رحمت اللہ نے استفسارکیاکہ کیاآغا خان لیبارٹری بہتر نہیں؟ وہاں سے کروا لیں،تو وکیل نے جواب دیاکہ آغاخان خود مختارادارہ ہے لیکن سرکاری اثرو رسوخ استعمال ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب ڈپٹی پراسیکیوٹر فیض الحسن نے کہابیرون ملک سے ڈی این اے کی درخواست محض تاخیری حربے ہیں۔

ملزم جج کے وکیل نے موقف اپنایاکہ پاکستان میں ڈی این اے کروایا تو اس میں ردو بدل ہو سکتی ہے لہٰذا مرضی کی جگہ سے ٹیسٹ کرانا ہمارا حق ہے۔ڈپٹی پراسیکیوٹرنے کہاملزم جج ہماری سرکاری حدود میں رہتے ہوئے جہاں سے چاہیں ڈی این اے کرائے، اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے، اس پر جج نے جواب دیا کہ کچھ کیس سپیشل ہوتے ہیں، ملزم جج کے وکلا بیرون ملک لیبارٹری کا نام اور خرچہ بتائیں۔

جیونیوز کے مطابق پولیس نے بھی کیس کی پیشرفت رپورٹ عدالت میں پیش کر دی ہے جس کے مطابق ملزم جج نے نہ اب تک کیس میں تعاون کیا ہے اور نہ ڈی این اے کرایا ہے، تفتیش کے لیے ڈی این ا ے کروانا ضروری ہے جبکہ درخواست گزار اور گواہوں کے بیان لیے جا چکے ہیں۔

تمام دلائل سننے کے بعد عدالت نے سپیشل کیس قرار دیتے ہوئے ملزم جج امتیاز بھٹو کو مہلت دے دی۔

مزید : جرم و انصاف