عالمی ادارہ صحت نے کرونا وائرس کے حوالے سے خطرے کی بڑی گھنٹی بجا دی

عالمی ادارہ صحت نے کرونا وائرس کے حوالے سے خطرے کی بڑی گھنٹی بجا دی
 عالمی ادارہ صحت نے کرونا وائرس کے حوالے سے خطرے کی بڑی گھنٹی بجا دی

  



جنیوا(ڈیلی پاکستان آن لائن) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کا عالمی پھیلاؤ روکنے کے مواقع کم سے کم ہوتے جا رہے ہیں،یہ عالمی برادری سے اس بات کا متقاضی ہے کہ وبا کیخلاف جلد از جلد اقدامات اٹھائے جائیں۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس آدھانوم گریبیس نےاپنی بریفنگ میں کہا کہ وبا کا پھیلاؤ روکنے کیلئے مواقع ختم ہو سکتے ہیں،چین سے باہر نوول کرونا وائرس کے کیسز ابھی بھی بہت کم ہیں لیکن یہ بات تشویشناک ہے کہ کچھ واقعات میں وبائی مرض سے واضح راوبط جیسا کہ چین کا سفر یا وائرس سے متاثرہ افراد سے رابطہ کی وجوہات سامنے نہیں آئیں۔ٹیڈروس نے کہا کہ جاپان میں ڈائمنڈ پرنسز کروز جہاز کے علاوہ جمہوریہ کوریا میں اب تک چین سے باہر سب سے زیادہ تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے ہیں، ہم وبا میں اضافہ کا باعث بننے والے عوامل کو مکمل طور پر سمجھنے کیلئے حکومت سے مل کر کام کر رہے ہیں۔جمہوریہ کوریا نے ہفتہ کو کرونا وائرس کے 229 نئے مریضوں کی تصدیق کی ہے جس کے بعد مجموعی مریضوں کی تعداد 433 ہو گئی ہے۔عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے یہ بھی بتایا کہ ایران میں گزشتہ دو روز کے دوران 18 نئے کیسز سامنے آئے ہیں اور چار اموات بھی ہوئی ہیں۔ لبنان سے سامنے آنے والے کیس کا تعلق بھی ایران سے جڑا ہوا ہے جو باعث تشویش ہے۔انہوں نے کہا کہ دراصل یہ نکات اور رحجانات بہت ہی قابل غور ہیں۔تاہم ٹیڈروس کا ماننا تھا کہ وبا کا عالمی پھیلاؤ روکنے کے مواقع ابھی بھی موجود ہیں۔انہوں نے بین الاقوامی برادری سے مالی اعانت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مواقع ختم ہونے سے قبل وبا پر قابو پانے کیلئے جلد از جلدا قدامات اٹھائے جائیں۔

مزید : تعلیم و صحت