ماؤں اور بچوں میں غذائیت کی کمی  

ماؤں اور بچوں میں غذائیت کی کمی  
ماؤں اور بچوں میں غذائیت کی کمی  

  

  کچھ دنوں پہلے میں نے ایکسیلیریٹڈ ایکشن پلان (ایپ) سیکرٹریٹ آفس کراچی کا دورہ کیا  اور پروگرام کوآرڈینیٹر، مصطفی جمال قاضی سے خصوصی ملاقات کی۔ دورے کا بنیادی مقصدماؤں اور بچوں میں غذا ئیت کی کمی کے مسئلے پر سیر حاصل گفتگو اور تبادلہ ء خیال تھا۔ ایکسیلیریٹڈ ایکشن پلان ورلڈبینک  فنڈڈ پروگرام ہے جو حکومت سندھ کے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کے تحت ماؤں اور بچوں میں غذائیت کی کمی اور اسکے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کے ممکنہ  حل میں کردار ادا کررہا ہے۔ صوبے کے 23 اضلاع میں جاری پروگرام کی سب سے خاص بات اس میں 7 اہم سیکٹرز کی شمولیت ہے۔دورانِ گفتگو جمال قاضی کا کہنا تھا کہ پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ماؤں اور بچوں میں غذائیت کی کمی کے مسئلے پر جس حد تک ممکن ہو قابو پاسکیں اس ضمن میں ملٹی سیکٹورل اپروچ کے تحت میدانِ عمل میں ہیں، پروگرام میں شامل سیکٹرز  نیوٹریشن کی صورتحال کو بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں،  ہیلتھ کے شعبے نے اوٹی پی ((OTP،  این ایس سی (NSC)اور کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کے ذریعے سپورٹ فراہم کر کے، لائیو اسٹاک نے غذائیت کی کمی کا شکار گھرانوں کو بکریاں اور مرغیاں دے کر،  ایگریکلچر نے کچن گارڈنز،  فشریز نے مچھلیاں،،   واش ((WASH  کی جانب سے صاف ستھرا صحتمندانہ ماحول بنانے کی کاوشیں،،   پاپولیشن ویلفیئر کی بابت فیملی ہیلتھ ایونٹس کا انعقاد  او ر  ایجوکیشن سیکٹر کی جانب سے نیوٹریشن سے متعلق تعلیم کی فراہمی،،  یہ سب وہ خدمات ہیں جو پروگرام کے توسط سے عوام الناس کے وسیع تر مفاد میں انجام دی جا رہی ہیں۔    

سندھ میں غذائیت کی کمی سے رونما ہونے والے مسائل اور بچوں کی اموات پر میرے سوال کے جواب میں جمال قاضی کا کہنا تھا کہ بچوں کے دنیا سے چلے جانے پر افسوس ہوتا ہے، دل دکھتا ہے، جذبات اور احساسات کو ٹھیس پہنچتی ہے، دعا ہے کہ ہر بچہ صحتمند اور توانا رہ کر زندگی کا خوبصورت سفر طے کرتے ہوئے اپنے خوابوں کو پوار ہوتا دیکھ سکے، ہم اپنے تئیں پوری کوشش کررہے ہیں کہ ماؤں اور بچوں کو نیوٹریشن کے حوالے سے بہتر علاج معالجہ اور سہولتیں مہیا ہو ں تاہم ہمیں بے پناہ چیلنجز بھی درپیش ہیں، سب سے بڑا مسئلہ منفی سماجی رویوں کا ہے، معاشرے میں ہر فرد پر اپنی،اپنی  ذمے داریاں عائد ہوتی ہیں جنہیں اگر نہ نبھایا جائے تو  پھر مسائل جنم لیتے ہیں،  اور پھر اگر مسائل حد سے تجاوز کر جائیں تو زندگیاں داؤ پر لگ جایا کرتی ہیں،  بچوں کی اموات ہوں یا پھر دیگر متعلقہ مسائل،  ہر خرابی کا ذمے دار قطعی طور پر حکومت کو ٹھہرا دینا مناسب نہیں، مثل مشہور ہے کہ تالی صرف ایک ہاتھ سے نہیں بجا کرتی،  رویوں میں تبدیلی ناگزیر ہے، لوگوں کا مثبت طرزِعمل حکومتی کوششوں کے لیے آکسیجن کی سی حیثیت رکھتا ہے، مشکلات کا حل دوطرفہ متوازن جدوجہد میں ہی مخفی ہے،، عوام کو حکومت کا ساتھ دینا چاہیے۔   

 شفافیت کے حوالے سے پوچھے گئے ایک اور اہم سوال کے جواب میں جمال قاضی نے بتایا کہ پروگرام میں نہ صرف اندرونی جانچ پڑتال کا نظام موجود ہے بلکہ تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ، ویریفیکیشن  اور ویلیڈیشن بھی اس پروگرام کا واضح حصہ ہے، ہمارا کام سب کے سامنے ہے، لوگ دیکھ رہے ہیں، کچھ بھی ڈھکا چھپا نہیں، شفافیت پر اٹھنے والے سوالات کے اطمینان بخش جوابات موجود ہیں۔ 

 مصطفی جمال قاضی کے پروگرام کوآرڈینیٹرکے عہدہ پر تقرری کے بعد جن نمایاں تبدیلیوں کا ذکر کیا جاتا ہے ان میں ہیلتھ سیکٹرکا دیگر 6شعبوں سے بہترین کوآرڈینیشن، Data   میں موجود نقائص کی درستگی،  ویب پورٹل کا فنکشنل ہونا،  ہیومن ریسورس کی کپیسٹی بلڈنگ،  ایم آئی ایس اور ایم این ای ٹیمز کی تشکیلِ نو،  ریویو میٹنگز  اور  کمیونیکیشن کے عمل کو مزید موثر بنائے جانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔مزید برآں ورلڈ بینک کی جانب سے ایکسیلیریٹڈ ایکشن پلان کی موجودہ  پروگریس (Progress (کو بھی سر اہا گیا ہے۔

ڈویلپمنٹ اور امپلیمینٹنگ پارٹنرز کی فہرست میں  پروگرام فار امپروونیوٹریشن ان سندھ(پنز)  اور شفاء  فاؤنڈیشن کا موجود ہونا قابلِ ستائش ہے۔ 

جمال قاضی نے مستقبل قریب میں کیے جانے والے ایک اہم کام پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے کام میں ماؤں اور بچوں کی صحت سے متعلق بروقت، مکمل اور درست معلومات کا حصول انتہائی اہم ہے کیونکہ انہی معلومات کی روشنی میں پروگرام بہتر طریق پر  پرفارم  کرسکتا ہے اس سلسلے میں جدید  ”با ر کوڈڈ بیلٹ“  کی فراہمی عمل میں لائی جائے گی تاکہ ماں اور بچے کے ہیلتھ اسٹیٹس کے بارے میں فوری معلومات حاصل ہو سکیں۔  پروگرام  کے دورانیے  ((Tenure   پر گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ  aapپروگرام کو  چلتے ساڑھے تین سال کا عرصہ بیت چکا ہے،  غذائیت کی کمی  سے  جڑے پیچیدہ اور گمبھیر مسائل کے حل کے لیے ایک لمبا عرصہ درکار ہوگا،  نتائج کے حصول میں بہت وقت لگ سکتا ہے، خواہش ہے کہ آئندہ آنے والے دس سالوں تک پروگرام کام کرتا رہے تاکہ اس کے دیرپا  اثرات  اور  ثمرات سے یقینی طور پر مستفید ہوا جا سکے۔  

مزید :

رائے -کالم -