من گھڑت اور جھوٹی خبروں کی اشاعت پر اخباری مالکان کو قانونی نوٹس جاری 

  من گھڑت اور جھوٹی خبروں کی اشاعت پر اخباری مالکان کو قانونی نوٹس جاری 

  

 کراچی(نمائندہ خصوصی)کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میں نوسر بازوں،جعلسازوں اورکرپٹ عناصر کیلئے خوف کی علامت بننے والے گریڈ 20 کے چیف انجینئر انفراسٹریکچر پلاننگ اینڈ ڈیزائننگ سلیم احمد صدیقی کے خلاف بدنام زمانہ ٹھیکیداروں نے محاز کھول لیا،ڈمی اخبارات کے زریعے جھوٹی اور من گھڑت خبروں کی اشاعت کا سلسلہ شروع،متعلقہ چیف انجینئر نے بے بنیاد اور من گھڑت خبروں کی اشاعت پر قانونی نوٹس بھجوادئے اور دس کروڑ روپیہ ہرجانے کا مطالبہ کردیا،تفصیلات کے مطابق مینیجنگ ڈائریکٹر کی اہلیت رکھنے والے بیس گریڈ کے سول انجینئرسلیم احمد صدیقی ایک عرصے سے بیڈ پوسٹنگ کا شکار ہیں،جبکہ اس پوسٹ کیلئے سندھ سرکار نے اسد اللہ خان کا انتخاب کیا جو سول کی بجائے الیکٹریکل انجینئر ہیں،اور واٹر بورڈ کے واحد اوراکلوتے افسر ہیں جو ایک ہی وقت میں دو اہم پوسٹوں پر براجمان ہیں،یعنی ایم ڈی اور ڈی ایم ڈی ٹیکنیکل سروسزکی زمے داری انکے کمزور کاندھوں پر  ہے،اسی وجہ سے وہ دفتر میں کم اور باہر زیادہ وقت دیتے ہیں۔دوسری جانب بیرون ملک خدمات سر انجام دینے والے سلیم احمد صدیقی آجکل کرپٹ افسران اور بدعنوان ٹھیکداروں کے راستے کی دیوار بننے پر ڈمی اخبارات کی زینت بنے ہوئے ہیں،اخباری خبروں سے یہ لگتا ہے کہ سلیم صدیقی سے صرف ٹھیکیداروں کو تکلیف ہے جو حالیہ کئے جانیوالے کاموں کی انسپکشن سے کتراتے ہیں،درحقیقت موجودہ چیف انجینئر آئی پی ڈی نے بیشتر ایسی فائیلیں رکوادیں جو سپرا رولز پر پورا نہیں اترتیں،یہی وجہ ہے کہ کرپٹ اور بدعنوان مافیا ایک پلیٹ فارم پر آگئی،ایماندار اور ادارے کیلئے مخلص افسر کے خلاف منفی پراپیگنڈہ شروع کردیا گیا،سلیم صدیقی کی ریٹائرمنٹ میں چند دن ہی باقی ہیں اور وہ موجودہ افسر شاہی نظام سے کافی دلبرداشتہ نظر آتے ہیں،ں ظام حکومت درست نہ ہونے کی وجہ سے ملک چھوڑنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں کیونکہ ایسے تجربہ کاراورزہین افراد کی قدر صرف بیرونی دنیا جانتی ہے۔انہوں نے مقامی اخبارات میں اپنے خلاف چھپنے والے مواد کا سخت نوٹس لیا اور سبھی کو دس دس کروڑ روپئے ہرجانے کے قانونی نوٹس جاری کروائے،جن اخبارات کو نوٹس بھجوائے گئے ان میں سے بیشتر کا نہ توکوئی دفتر ہے اور نہ ہی ٹیلی فون نمبر،تاہم یہ اخباری مالکان اور ایڈیٹرز اکثر سرکاری دفاتر میں ڈیرے ڈالے نظر آتے ہیں،رہا مسئلہ ہرجانے کا تو نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے کی مصداق معاملہ جوں کا توں ہی رہے گا،

مزید :

صفحہ آخر -