مشاہداللہ خان۔۔۔جمہوریت کا استعارہ

مشاہداللہ خان۔۔۔جمہوریت کا استعارہ
مشاہداللہ خان۔۔۔جمہوریت کا استعارہ

  

گزشتہ دنوں مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہداللہ خان انتقال کر گئے، اللہ پاک انہیں غریق رحمت کرے۔ مشاہداللہ خان1952میں پیدا ہوئے اپنی سیاسی زندگی میں انہوں نے کئی اتار چڑھاؤ دیکھے۔ جماعت اسلامی کی طلبا تنظیم  اسلامی جمعیت طلبا سے اپنےسیاسی سفر کا آغاز کیا اور پھر مسلم لیگ ن کے ساتھ تادمِ آخر وابستہ رہے۔ مشاہداللہ خان نے ہر مشکل دور میں جمہوریت کے لیے آواز بلند کی اور مشرف مارشل لا دور میں انہوں نے صعوبتیں برداشت کیں لیکن اپنے اصولی موقف سے پیچھے نہ ہٹے  مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں وہ ماحولیات کے وزیر رہے۔

ایک متنازعہ بیان کے بعد انہیں وزارت سے ہٹا دیا گیا لیکن ان کے اصولی موقف میں لغزش نہ آئی۔ بغیر کسی حیل و حجت وہ اپنے عہدے سے دستبردار ہوئے لیکن پارٹی سے وابستگی میں کوئی فرق نہ آیا۔موجودہ دور حکومت میں بھی مسلم لیگ ن پر کڑا وقت تھا اور ابھی بھی چل رہا ہے لیکن مشاہداللہ خان نے نظریات پر سمجھوتا کرنا گوارا نہ کیا۔ سینیٹ میں مشاہداللہ خان جمہوریت کی بلندپایہ آواز تھے۔اگر مشاہداللہ خان کو جمہوریت کا استعارہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ جس دبنگ انداز میں وہ سینیٹ میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے اس سے نہ صرف پارٹی رہنما بلکہ مخالفین بھی محظوظ ہوتے ۔تاریخی حوالہ جات  اور اشعار پر ایسی کمند تھی کہ معلومات کا چلتا پھرتا ذخیرہ تھے۔ ہر موقع کی مناسبت سے انکے پاس اشعار کا وافر مواد موجود ہوتا تھا۔ مخالفین پر دلائل کیساتھ ایسی لفظی گولہ باری کرتے کہ مخالفین کی ’’توپیں‘‘خاموش کرا کردم لیتے۔ آج جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو سینیٹ کے گزشتہ اجلاس میں ان کی کمی محسوس کی گئی۔ کیا حامی کیا مخالف سبھی نے اس کمی کو محسوس کیا۔ مشاہداللہ خان  کی وفات پر سینیٹ میں تعزیتی قرار دادپیش ہوئی۔حکومتی بینچز کیجانب سے بھی مشاہداللہ خان کے جمہوریت  کے لیے کردار کو سراہا گیا۔ اب تھوڑا اخلاقی روایات کی طرف آتے ہیں۔

سیاست میں اختلافات اور نظریات پر ہرشخص یقین رکھتا ہے۔جو شخص بھی سیاست کی حرکیات بارے سوجھ بوجھ رکھتا ہے وہ یہ بات بڑی اچھی طرح جانتا ہے کہ  سیاست میں کچھ حرف آخر نہیں ہوتا ۔مشاہداللہ خان بھی سیاسی شخصیت تھے۔ میدان سیاست میں سیکڑوں ان کے حلیف اور سیکڑوں حریف تھے۔ حقیقی سیاسی شخصیات نے مشاہداللہ خان کی وفات پر اظہار افسوس کیا اور ان کے اہلخانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ۔ مسلم لیگ ن ہی نہیں مخالفین کی جانب سے بھی مشاہداللہ خان کی وفات پر تعزیتی بیانات سامنے آئے مگر افسوس کیساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ ہمارے وزیراعظم صاحب کاتعزیتی بیان سامنے نہ آیا۔ مانا کہ لاکھ سیاسی اختلافات ہوں گے لیکن جب ایک انسان اس دنیا میں ہی نہیں رہا تو کم از کم وزیراعظم صاحب کو اس وقت پر سیاسی اختلافات پس پشت ڈال کر اظہار تعزیت کرنا چاہیے تھا۔ لیکن  شایدوزیراعظم صاحب ایک حقیقی اور اصلی جمہوری شخصیت کے خلا کو محسوس ہی نہیں کرپائے۔  ایک اور بات بڑے افسوس کیساتھ لکھ رہا ہوں ۔ یہ بات ہماری نوجوان نسل سے متعلق ہے۔ لیگی رہنما سینیٹر مشاہداللہ کی وفات پر سوشل میڈیا پر پوسٹس دیکھ کر نوجوان نسل کی ذہن سازی پر رنج ہوا۔ سیاسی وابستگی کی دھن میں  ایسی مخالفت  سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملی کہ جس پر ملال کے سوا کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ایسی ایسی پوسٹس نظر سے گزریں کہ جن کو یہاں بیان کرنے کی ذہن اجازت نہیں دیتا۔ یہ ہماری سیاسی جماعتوں کی جانب سے سیاسی ورکرز اور کارکنان کی تربیت نہ ہونے کا نتیجہ ہے۔

گزشتہ کچھ سالوں سے جو ہماری ملکی سیاست میں دھماچوکڑی مچی ہے اس کی وجہ سے نومولود سیاسی کارکنان کی سیاسی تربیت نہ ہو سکی جس کی وجہ سےوہ ہر معاملے کو سیاسی مخالفت کی تکڑی میں تولتے ہیں۔ چاہے غمی ہو یا کوئی اور موقع خاص طور پر تحریک انصاف کے کارکنان  اس کو سیاسی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں یہی معاملہ پہلے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی وفات پر دیکھنے کو ملا اور اب مشاہداللہ خان کی وفات پر بھی صورتحال مختلف نہیں ہے۔ سیاسی مخالفت اپنی جگہ لیکن اخلاقیات بھی کسی چیز کا نام ہے۔ یہ ہماری نوجوان نسل کو سمجھنا ہوگا اور اس کے لیے سیاسی جماعتوں کی جانب سے اپنی اپنی سطح پر ایسا پلیٹ فارم بھی بنایا جانا چاہیے جہاں ورکرز کی سیاسی تربیت کا بندوبست کیا جا سکے۔ یہ تب ہی ممکن ہو سکے گا جب ہماری سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی مخالفت میں حد سے نہیں گزریں گی۔  سیاسی مخالفت کو اس حد تک نہیں لیجایا جائے گا کہ  کل کو ایک دوسرے سے منہ چھپا کر گزرنا پڑے۔ یہاں ایک مثال یاد آگئی، 2013 کے الیکشن سے قبل انتخابی مہم کے دوران پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان  سٹیج پر جاتے ہوئے دھکم پیل سے گر کر زخمی ہوئےتو مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے سیاسی نظریات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فوری طور پر انتخابی مہم دو روز کے لیے معطل کرنے کا اعلان کیا اور عمران خان صاحب کی عیادت کے لیے ہسپتال پہنچ گئے اور عمران خان کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔

آج سیاسی  پارہ جس قدر ہائی وولٹیج پر ہے ایسے ہی رویوں کی ضرورت ہے کہ مخالفین کے دکھ درد میں شریک ہوا جائے  اور فی الوقت سیاسی اختلافات پس پشت ڈال کر زخموں پر مرہم رکھا جائے۔

.

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -