اسمبلی میں اکثریت رکھنے والی جماعت کو کم نشستیں ملنے پر متناسب نمائندگی کے اصول کی خلاف ورزی نہیں ہو گی؟سپریم کورٹ

اسمبلی میں اکثریت رکھنے والی جماعت کو کم نشستیں ملنے پر متناسب نمائندگی کے ...
اسمبلی میں اکثریت رکھنے والی جماعت کو کم نشستیں ملنے پر متناسب نمائندگی کے اصول کی خلاف ورزی نہیں ہو گی؟سپریم کورٹ

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ نے کہاکہ جس کی چھ نشستیں بنتی ہوں اسے دو ملیں تو نتیجہ کیا ہو گا؟ کیا کم نشستیں ملنے پر متناسب نمائندگی کے اصول کی خلاف ورزی نہیں ہو گی؟ ،عدالت نے کہاکہ تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے جائزہ لیں گے،سیاسی اتحاد خفیہ نہیں رکھے جائیں۔

نجی ٹی وی ہم نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پرسماعت ہوئی، چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں لارجر بنچ نے سماعت کی،رضا ربانی نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ آرٹیکل 226 دوبارہ اسمبلی کے ایجنڈے پرآچکاہے،ایوان میں آرٹیکل 226 میں ترمیم کابل زیرالتواہے، 1962کا آئین صدارتی نظام کے حوالے سے تھا،1962کے آئین میں بھی خفیہ ووٹنگ کی شق شامل تھی۔

عدالت نے کہاکہ 1962کاآئین میں بھی خواتین کی نشستوں پربھی خفیہ ووٹنگ ہوتی ہے،چیف جسٹس گلزاراحمدنے کہاکہ پاکستان کاآئین آئرلینڈکے دستور سے مماثلت رکھتاہے،عدالت نے کہاکہ وزیراعظم،وزرائے اعلیٰ کے الیکشن پرآرٹیکل 63 اے کااطلاق بھی ہوتاہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ 1962کے آئین میں تو خواتین کی مخصوص نشستوں پر بھی خفیہ ووٹنگ ہوتی ہے، چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ 1962کے آئین کی خفیہ ووٹنگ والی شق کی عدالت نے 1967 میں تشریح کی تھی۔

رضاربانی نے کہاکہ سینیٹ الیکشن میں پارٹی امیدوار کو ووٹ نہ دینے پر نااہلی نہیں ہوتی ،لازمی نہیں کہ صوبائی اسمبلی میں اکثریت لینے والی جماعت کی سینیٹ میں بھی اکثریت ہو،جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ انتخابی اتحاد کبھی خفیہ نہیں ہوتے، جہاں کسی انفرادی شخص سے اتحاد ہو وہاں خفیہ رکھا جاتا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ جس کی چھ نشستیں بنتی ہوں اسے دو ملیں تو نتیجہ کیا ہو گا؟ کیا کم نشستیں ملنے پر متناسب نمائندگی کے اصول کی خلاف ورزی نہیں ہو گی؟ ،چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے جائزہ لیں گے،سیاسی اتحاد خفیہ نہیں رکھے جائیں۔

رضاربانی نے کہاکہ ریاست تو اپنے بیس ریٹرننگ افسران کو تحفظ نہیں دے سکی، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ دنیا کی تاریخ اختلاف رائے کرنے والوں سے بھری پڑی ہے،اختلاف رائے کرنے والے نتائج کی پرواہ نہیں کرتے،ڈکٹیٹر کے خلاف بھی لوگوں نے کھل کر اختلاف رائے کیا،آئین میں اختلاف رائے پر کوئی نااہلی نہیں ہوتی۔

جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ جس سسٹم کو جاری رکھنا چاہتے ہیں وہ انفرادی ہیروازم کو فروغ دیتا ہے،جمہوریت کا تقاضا یہ ہے کہ پارٹی سسٹم مضبوط ہو،جب تک طریقہ کار میں تبدیلی نہیں لائیں گے جمہوریت کی مضبوطی خواب رہے گی، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس حوالے سے بھی دلائل دیں، چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ یہ سلسلہ آج سے نہیں بلکہ شروع سے جاری ہے، سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل 12 بجے تک ملتوی کردی۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -