این اے 75 ضمنی انتخاب، پریزائنڈنگ افسران جب صبح چھ بجے نتیجہ جمع کروانے پہنچے تو ن لیگ اور پی ٹی آئی کے ووٹوں میں کتنا فرق آ چکا تھا ؟ حیران کن اعدادو شمار سامنے آ گئے 

این اے 75 ضمنی انتخاب، پریزائنڈنگ افسران جب صبح چھ بجے نتیجہ جمع کروانے پہنچے ...
این اے 75 ضمنی انتخاب، پریزائنڈنگ افسران جب صبح چھ بجے نتیجہ جمع کروانے پہنچے تو ن لیگ اور پی ٹی آئی کے ووٹوں میں کتنا فرق آ چکا تھا ؟ حیران کن اعدادو شمار سامنے آ گئے 

  

ڈسکہ (ڈیلی پاکستان آن لائن )الیکشن کمیشن نے این اے 75 کے ضمنی انتخاب کے نتائج بیس پولنگ سٹیشنز کے پرایزائڈنگ افسران کے غائب ہونے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد روک دیا تھا لیکن اب سوشل میڈیا پر ان بیس پولنگ سٹیشنز کے پرایزائڈنگ افسروں کے غائب ہونے کے بعد اور پہلے کے نتائج پر مبنی تصویر یں گردش کر رہی ہیں جن سے متعلق کوئی تصدیق یا تردی نہیں ہو سکی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق 19 فروری کو دو قومی اور دو صوبائی نشستوں پر ضمنی انتخاب ہوا جس میں سے تین سیٹوں کا نتیجہ آ گیا لیکن این اے 75 کا نتیجہ پھنس کر رہ گیا ، اس حلقے میں لڑائیاں جھگڑے اور دیگر کئی ایسے واقعات دیکھنے کو ملے لیکن سب سے حیران کن چیز یہ تھی کہ بیس پولنگ سٹیشنز کے پریزائنڈنگ افسر ہی پولنگ ختم ہونے کے بعد اچانک غائب ہو گئے اور صبح چھ بجے ریٹرنگ افسر کے دفتر پہنچے ، سار ی رات ان تمام افراد سے رابطے کی کوششیں کی جاتی رہی لیکن الیکشن کمیشن کو کوئی کامیاب نہ ملی لیکن صبح واپس آ نے پر نہایت ہی عجیب و غریب بہانے سامنے آئے کہ کسی کی عینک گم ہو گئی تھی ، کوئی سو گیا تھا تو کوئی دھند کی وجہ سے پہنچ نہیں پایا ۔

 ن لیگ کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ ان پریزائنڈنگ افسران نے جو نتیجہ صبح چھ بجے پہنچ کر الیکشن کمیشن میں جمع کروایا ہے یہ پولنگ ختم ہونے کے بعد سامنے آنے والے نتائج سے یکسر مختلف ہے ، یعنی مبینہ طور پر دھاندلی کا الزام عائد کیا گیا ۔اب سوشل میڈیا پر بھی تصاویر گردش کر رہی ہیں جن میں فارم 45 کے وہ نتائج جو کہ پولنگ ختم ہونے کے بعد ن لیگ کو فراہم کیے گئے کا موازانہ ان نتائج سے کیا گیا ہے جو کہ ان بیس پریزائنڈنگ افسران کی جانب سے صبح 6 بجے آفس پہنچنے کے بعد دیئے گئے ۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے اعدادو شمار کے مطابق جب پولنگ ختم ہوئی تو جو اعدادو شمار ن لیگ کو فراہم کیے گئے ان بیس پولنگ سٹیشن میں کاسٹ ہونے والے ووٹوں کی تعداد 12 ہزار 985 تھی جن میں سے ن لیگ نے 5ہزار چھ ووٹ حاصل کیے تھے اور پی ٹی آئی کو 7 ہزار 177 ووٹ ملے۔ان پولنگ سٹیشنز میں رجسٹر ڈ ووٹوں کی تعداد 29 ہزار 108 تھی جن میں سے 12 ہزار 985 افراد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا یعنی ووٹ کے کاسٹ ہونے کی شرح 45 فیصد رہی ۔

لیکن جب یہ پریزائنڈ نگ افسران پولنگ سٹیشنز نتائج سمیت غائب رہنے کے بعد صبح چھ بجے نتیجے دینے کیلئے ریٹرنگ افسر کے دفتر پہنچے تو نتیجہ مبینہ طور پر تبدیل ہو چکا تھا ، سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر کے مطابق صبح چھ بجے جو نتیجہ جمع کروایا گیا اس میں ن لیگ کے ووٹوں کی تعداد 3804 تھی اور تحریک انصاف کے ووٹ بڑھ کر 13 ہزار 195 ہو گئے تھے ، حلقے میں رجسٹر ڈ ووٹرز 29 ہزار 108 میں سے 19 ہزار 153 افراد نے حق رائے دہی استعمال کیا یعنی ووٹ ڈالنے کی شرح 66 فیصد رہی ۔

سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ان تصاویر کی ابھی تک مصدقہ ذرائع سے تصدیق یا تردید سامنے نہیں آ سکی ہے ۔

مزید :

قومی -