امپورٹ کیا گیا مرغی کا گوشت کھانے سے پانچ افراد کی موت، سینکڑوں بیمار، اس میں ایسا کیا تھا؟

امپورٹ کیا گیا مرغی کا گوشت کھانے سے پانچ افراد کی موت، سینکڑوں بیمار، اس میں ...
امپورٹ کیا گیا مرغی کا گوشت کھانے سے پانچ افراد کی موت، سینکڑوں بیمار، اس میں ایسا کیا تھا؟
سورس:   Pxhere

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)کورونا وائرس کے متعلق چین کا دعویٰ ہے کہ یہ بیرون ممالک سے درآمد ہونے والے منجمد گوشت کے ساتھ چین کے شہر ووہان پہنچا اور وہاں پھیلا۔ اب برطانیہ سے بھی بیرون ملک سے آنے والے منجمد گوشت سے سینکڑوں لوگوں کے بیمار ہونے اور کم از کم 5ہلاکتیں ہونے کا خوفناک انکشاف سامنے آ گیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق برطانیہ میں گزشتہ ایک سال کے دوران پولینڈ سے درآمد کیے گئے مرغی کے گوشت سے سینکڑوں لوگوں کو ’سیلمونیلا‘ (Salmonella)نامی خطرناک بیکٹیریا لاحق ہوا اور وہ بیمار ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق ان سینکڑوں لوگوں میں ہر تین میں سے ایک کی حالت اس قدر خراب ہوئی کہ اسے ہسپتال لیجانا پڑا، جبکہ اس سے 5افراد کی موت واقع ہوئی۔ اب تک اس بیکٹیریا کا شکار ہونے والے 480لوگ سامنے آ چکے ہیں۔ فوڈ سٹینڈرڈ ایجنسی کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ یہ بیکٹیریا ممکنہ طور پر پولینڈ سے درآمد ہونے والی تین منجمد چکن پراڈکٹس ’نگٹس‘ ایس ایف سی کا ’چکن بون لیس بکٹ اینڈ پاپیٹس‘ اور ویسٹے فوڈ کے جمبو چکن نگٹس کے ذریعے لوگوں کو منتقل ہوا۔ 

یہ ایسی سستی چکن مصنوعات ہیں جو عام طور پر والدین اپنے بچوں کے لیے آسان دستیاب کھانے کے طور پر خریدتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس وائرس سے لاحق ہونے والوں میں 44فیصد 16سال یا اس سے کم عمر لوگ ہیں۔پبلک ہیلتھ انگلینڈ کا کہنا ہے کہ ’سیلمونیلا پوائزننگ‘ کے مریض ہنوز سامنے آ رہے ہیں اور ان کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔

مزید :

برطانیہ -