’یہ نوکری نہیں انسانی سمگلنگ تھی‘ امریکہ میں پاکستانی خاندان کی پاکستانی ملازمہ نے انوکھا ترین مقدمہ دائر کردیا، انتہائی سنگین الزام لگادیا

’یہ نوکری نہیں انسانی سمگلنگ تھی‘ امریکہ میں پاکستانی خاندان کی پاکستانی ...
’یہ نوکری نہیں انسانی سمگلنگ تھی‘ امریکہ میں پاکستانی خاندان کی پاکستانی ملازمہ نے انوکھا ترین مقدمہ دائر کردیا، انتہائی سنگین الزام لگادیا

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ میں ایک پاکستانی نژاد خاندان کی پاکستانی ملازمہ نے ان پر انسانی سمگلنگ کا انوکھا ترین مقدمہ دائر کروا دیا۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس ملازمہ کا نام ریحانہ بی بی ہے جسے ورجینیا کی رہائشی پاکستانی فیملی گھریلوملازمت کے لیے لے گئی تھی۔ ریحانہ نے ان کے ہاں 5سال ملازمت کی اور اب ان کے خلاف انسانی سمگلنگ کا مقدمہ درج کرا دیا ہے۔

ریحانہ نے بتایا کہ ”جب اسے امریکہ میں نوکری ملی تو وہ سمجھی کہ وہ ڈزنی لینڈ کی سیر کرے گی اور امریکہ میں گھومے گی لیکن یہ پانچ سال میں نے یحییٰ فیملی کے لوڈن کاﺅنٹی میں واقع گھر میں مسلسل کام کرتے ہوئے گزار دیئے۔ اس دوران انہوں نے مجھے لگ بھگ 25ہزار ڈالر ادا کیے۔ یہ لوگ گھر میں میرے ساتھ جو سلوک کرتے تھے، ایسا ناروا سلوک میں نے زندگی میں کبھی کسی کو کسی دوسرے کے ساتھ کرتے نہیں دیکھا، حتیٰ کہ پاکستان میں بھی نہیں۔“

ریحانہ نے بتایا کہ ”ان لوگوں کے روئیے کی وجہ سے میں اس قدر دلبرداشتہ رہی کہ میں نے ایک بار پاکستان میں موجود اپنے شوہر سے بات کرتے ہوئے اسے کہا کہ میں خودکشی کرنے کا سوچ رہی ہوں۔میں نے اسے کہا تھا کہ اگر مجھے مزید یہاں رہنا پڑا تو پھر یہاں سے میری لاش نکلے گی۔ “ 46سالہ ریحانہ نے یحییٰ فیملی اور ان کے پاکستانی رشتہ داروں کو اس مقدمے میں فریق بنایا ہے جنہوں نے اسے ان کے ہاں ملازمت دلوائی تھی۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -