میڈیکل طلباء  کے مسائل……

 میڈیکل طلباء  کے مسائل……
 میڈیکل طلباء  کے مسائل……

  

تعلیم ملک وقوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے جس سے ملک میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں اور ملک خوشحالی کی طرف سفر کرتاہے، پچھلے دو سال سے طلبا ء  کا مستقبل داؤ  پر لگا ہوا ہے اور کورونا نے ان کا مستقبل تاریک کر دیا ہے،اب والدین طلباء کو میڈیکل پروگراموں میں داخلہ لینے کو ترجیح دیتے ہیں جس سے میڈیکل کے پروگراموں میں میرٹ اوپر چلا جاتا ہے بعض والدین طلباء کو  ڈاکٹر بنا کر سی ایس ایس کرواتے ہیں۔ میڈیکل کے داخلہ میں طلباء کو بے شمار مسائل ہیں، جن کی طرف توجہ دینا اور ان کو حل کرنا ضروری ہے۔ ذہین طلباء  ایم ڈی کیٹ میں کم نمبر آنے کی وجہ سے داخلوں سے محروم رہ جاتے ہیں، پاکستان میں میڈیکل میں داخلے اب سالہا سال سے مشکل نظر آ رہے ہیں اور میرٹ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ میڈیکل کالجوں میں طلباء   اس بار داخلوں سے پریشان رہے، کیونکہ سمارٹ سلیبس کی وجہ سے داخلوں میں یونیورسٹوں اور کالجوں کو مشکلات پیش آئی ہیں۔ بعض کالجوں نے داخلوں میں اپنی پالیسی اختیار کی  میڈیکل کالجوں میں اس دفعہ میرٹ کو بنانے میں میڈیکل کالجوں کو مشکلات پیش آئیں، کیونکہ بعض طلباء نے انٹر میں زیادہ نمبر لئے اور ایم ڈی کیٹ میں کم اور بعض طلباء معاملہ اس سے الٹ ہے۔

 کورونا کے سبب جہاں پوری دنیا متاثر ہوئی ہے وہاں طلباء کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے، خصوصی طور پر وہ طلباء جنہوں نے میڈیکل اداروں میں داخلہ لینا تھا۔انٹرمیڈیٹ کے امتحانات لیٹ کر دئیے گئے، سلیبس شارٹ کیا گیا، جس سے ذہین طلبا کی حق تلفی ہوئی۔پی ایم سی نے ایک غلط کام میڈیکل کے طلباء  کے لئے یہ بھی کیا کہ زرلٹ کے بعد ایم ڈی کیٹ کے نمبر بھی کسی فارمولے کے تحت بڑھا دیئے۔ ری چیکنگ میں طلباء کو کاغذی کارروائی کر کے گولی دی گئی، اب طلباء پریشانی سے دو چار ہیں، ان کے وفود نے ستمبر میں پی ایم سی کے صدر سے ملاقات بھی کی  اور صدر کو جو مشکلات بتائیں،ان میں امتحانی سنٹرز میں نیٹ کا مسئلہ،جس سے سوالات حل کرنے میں مشکل اور کم سوالات حل ہوناہے،سسٹم میں خرابی کے سبب سوالات ایڈٹ نہ ہونا، جس سے نمبر کم آنا طلباء کی مشکلات میں شامل۔تھاطلباء کے مطالبات جو انہوں نے 23 ستمبر کو صدر سے کیے ان میں ایم ڈی کیٹ کا ٹیسٹ دوبارہ لینا،ایڈیشنل نمبر دینا،طلباء کو اجازت دینا کہ وہ اپنے پرچے ری چیک کروا سکیں، شامل تھا۔ کونسل  نے ان طلباء کی مشکلات اور مطالبات کو کونسل کے اجلاس میں رکھا، کونسل کا کہنا تھا کہ ان کو ہزاروں طلباء کے پیغامات موصول ہوے تھے اور وہ موجودہ امتحانات سے مطمئن ہیں۔

 طلباء کا کہنا تھا کہ پرچے آوٹ آف سلیبس تھے جس سے طلباء کے نمبر پچھلے سال کی نسبت کم آئے  پی ایم سی نے طلباء کے اس مسئلہ کے جواب میں اپنا موقف یہ اختیا ر کیا تھا کہ سلیبس بناتے وقت تمام صوبوں اور وفاق کے نمائندوں کو شامل کیا گیا۔ سیلبس دی گئی آؤٹ لائن کے مطابق بنایا گیا۔پی ایم ڈی سی نے طلباء سے اس ملاقات کے بعد 6صفحات  پر مشتمل ریزولیوشن اجلاس میں پیش کیں،جن کا جواب پی ایم سی نے دے کر اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کو ختم کرنے کی کوشش کی  اور طلباء کی مشکلات کے جوابات بھی دیئے۔ پی ایم سی کا ایم ڈی کیٹ کے زرلٹ کو دوسال کے لیے ویلڈ قرار دینا غلط ہے۔ یہ زرلٹ ایک سال کے لئے ویلڈ ہو نا چاہئے تاکہ نئے طلباء متاثر نہ ہوں اور ان کے میرٹ پر فرق بھی نہ پڑے۔ طلباء کا احتجاج اور ان کے مطالبات درست نظر آئے۔طلباء کی ذہین ترین کمیونٹی پی ایم ڈی سی کے اس امتحانی طریقے سے بہت متاثر ہوئی  اور ان کا مستقبل تاریکی کی بند گلی میں رہا۔

اس بار پی ایم سی نے انٹری فیس میں بھی اضافہ کر کے 6000 کر دی اور امتحان ٹبلیٹ کے ذریعہ سے لیا گیا، ایسے بھی سوالات آے جن کی اسٹیٹ منٹ غلط تھی،اس طرح طلباء کے مستقبل سے کھیلا جا رہا ہے۔ اس سال ایم ڈی کیٹ کے رزلٹ کے بعد طلباء کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ پہلے ایف ایس سی کے امتحان کی بنیاد پر میڈیکل کالجوں میں داخلے ہوتے تھے، جس سے طلباء کو ذہنی صلاحیتیوں اور قابلیت کی بنیاد پر داخلہ ملتا تھا، اب 10 نمبر میڑک 40 ایف ایس سی اور 50 نمبر ایم ڈی کیٹ کے شامل کر کے داخلے کا میرٹ بنتاہے،جو بنیادی حقوق کے خلاف ہے اور اس سے طلباء کی حقیقی قابلیت نظر انداز ہوتی  اور غریب طلباء کو یہ مشکل پیش آتی ہے کہ ایم ڈی کیٹ کی تیاری کے لئے ان کو ہزاروں روپے اکیڈمیوں میں دینا پڑتی ہے،جس سے خاندانی طور پر بھی مشکلات پیدا کرتی ہیں۔میڈیکل کے داخلوں میں ایک مافیا بھی متحرک ہے۔کورونا نے بچوں کی تعلیم اور طریقہ کار کو شدید متاثر کیا ہے،حکو مت کی پالیسیاں درست نظر  نہیں آتیں، کئی ماہ تعلیمی ادارے بند رہے، جس سے میڈیکل اور انجینئرنگ میں داخلہ لینے والے طلباء کو گذشتہ سالوں کی نسبت مشکلات نے گھیرے رکھا، لیکن میڈیکل کے طلباء کے اوپر ننگی تلوار لٹک رہی ہے۔پرایؤیٹ سیکٹر میں ڈاکٹر بننے کے لئے 50سے 60 لاکھ  چاہئیں،جو  اب اچھے خاندانوں کے لئے بھی مشکل ہے۔حکومت کو چاہئے کہ پبلک سیکٹر میں میڈیکل کالجوں میں اضافہ اور فیسوں میں کمی کرے۔ یہ بات بھی مشاہدے میں آئی کہ انٹری ٹیسٹ سے بہت سے لائق طلباء میڈیکل میں داخلوں سے محروم رہے، کئی سال سے ان امتحانات میں بے ضابطگیاں بھی سامنے آئی ہیں۔اب پی ایم ڈی سی کو اپنی خامیوں کو دور کر کے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو بھی دور کرنا ہے اور طلباء کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ سے بھی باز رہنا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -